جاپان انٹرنیشنل کوآپریشن ایجنسی (جائیکا) کی جانب سے فیصل آباد میں صاف پانی کی فراہمی اور تقسیم کےنظام کی تقریب
اشاعت کی تاریخ: 25th, April 2025 GMT
فیصل آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 25 اپریل2025ء) "فیصل آباد میں واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹکو فیصل آباد میں جاپانی امداد سے مکمل ہونے والے منصوبےاپریل 2025-23 اور پانی کی تقسیم کے نظام کی بہتری" کی رسمی حوالگی کی تقریب منعقد ہوئی۔اس منصوبے پر جاپان کی طرفسے 4.094 بلین ین کی گرانٹ فراہم کی گئی۔جائیکاپاکستان کے چیف نمائندے جناب ناؤاکی میاتا ، فیصل آباد واٹر اینڈ سینیٹیشن ایجنسیواساکے مینیجنگ ڈائریکٹر جناب عامر عزیز اور جاپان کےپاکستانمیںسفیر آکاماتسو شوئچینےتقریبمیںشرکت کی۔
فیصل آباد پاکستان کا تیسرا بڑا شہر ہے، جہاں آبادی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ اس بڑھتی ہوئی آبادی کے لیے موجودہ پانی کی فراہمی ناکافی ہے، جس کی وجہ سے شہریوں کو مناسب پانی کی سہولت دستیاب نہیں۔
(جاری ہے)
اس مسئلے کے حل کے لیے جائیکا نے 2016 سے 2019 تک تکنیکی تعاون فراہم کیا اور 2038 تک کے لیے واٹر، سیوریج اور ڈرینیج ماسٹر پلان تیار کیا۔ اس منصوبے کو اس ماسٹر پلان میں ترجیحی منصوبے کے طور پر شامل کیا گیا۔
اس گرانٹ سے پرانے جھال خانوانہ واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ کو اپ گریڈ کیا گیا، پانی کے پائپ لائن اور ترسیلی نظام کو بھی بہتر بنایا گیا، جس سے پانی کی فراہمی تین گنا بڑھ گئی۔ اس سے نہ صرف پانی کی سہولیات بہتر ہوئیں بلکہ شہریوں کی صحت اور رہائش کے معیار میں بھی بہتری آئیہے ۔ یہ منصوبہ ایس ڈی جیکے ہدف 6"تمامافراد کے لیے صاف پانی اور صفائی" کے حصول میں بھی مدد دے گا۔
تقریب میں سفیر آکاماتسو نے کہا کہ "ہم امید کرتے ہیں کہ جاپان کی مدد سے لگائی گئی تمام سہولیات کو دیرپا اور مؤثر انداز میں استعمال کیا جائے گا اور اس منصوبے سے حاصل ہونے والی مہارت سے فیصل آباد کے عوام فائدہ اٹھائیں گے۔"
جائیکا پاکستان کے نمائندے نے کہا، "ہم چاہتے ہیں کہ اس منصوبے کے ذریعے زیادہ سے زیادہ شہریوں کو محفوظ پانی مہیا کیا جا سکے اور فیصلآبادکےرہائشیوںکاماحولبہتر ہو۔"
اسگرانٹایڈمنصوبےاورجاریتکنیکیتعاونکےمنصوبےکےذریعے جاپان کی حکومت اور جائیکا پاکستان میں محفوظ پانی کی فراہمی کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھیں گے۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے پانی کی فراہمی فیصل آباد کے لیے
پڑھیں:
بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟
امریکہ کی ریاست ایڈاہو کے ایک خاموش اور خوبصورت پہاڑی علاقے سن ویلی(Sun Valley) میں ہر سال جولائی کے مہینے میں ایک ایسی تقریب ہوتی ہے جہاں دنیا کے امیر ترین اور بااثر افراد اکٹھے ہوتے ہیں۔
اس خاص اور خفیہ محفل کو غیر رسمی طور پر ”ارب پتیوں کا سمر کیمپ“ کہا جاتا ہے۔ یہاں دنیا کے نامور اور طاقتور لوگ جیسے جیف بیزوس، مارک زکربرگ، بل گیٹس اور ایلن مسک بغیر کسی دکھاوے کے ایک ساتھ وقت گزارتے ہیں۔
یہ سلسلہ 1983 سے چلا آ رہا ہے جسے ایلن اینڈ کمپنی نامی ایک معاشی ادارہ منعقد کرواتا ہے۔ اس تقریب میں شامل ہونے کے لیے کوئی ٹکٹ نہیں خریدی جا سکتی اور نہ ہی انٹرنیٹ پر کوئی رجسٹریشن ہوتی ہے۔ یہاں صرف وہی لوگ آ سکتے ہیں جنہیں ذاتی طور پر دعوت نامہ بھیجا جاتا ہے۔ منتظمین کی طرف سے اس تقریب کی کوئی باقاعدہ مہمانوں کی فہرست یا شیڈول جاری نہیں کیا جاتا۔ اس سال یہ تقریب 7جولائی سے 11 جولائی 2026 تک منعقد ہوئی۔
اس کانفرنس کی سب سے بڑی بات یہ ہے کہ یہ روایتی دفتری میٹنگز کی طرح نہیں ہوتی۔ یہاں نہ طویل اجلاس ہوتے ہیں اور نہ ہی بڑی بڑی پریزنٹیشنز۔
امیر ترین شخصیات سوٹ بوٹ پہننے کے بجائے عام جوتوں اور آرام دہ کپڑوں میں نظر آتی ہیں۔ لوگ دن کے وقت پہاڑوں پر سیر کرتے ہیں، گولف کھیلتے ہیں، سائیکل چلاتے ہیں، مچھلی پکڑتے ہیں اور شام کو مل کر کھانا کھاتے ہیں۔
مزیدپڑھیں:عالمی منڈی میں سونے کی قیمت میں کمی
اس سال کی ملاقات میں جدید ترین ٹیکنالوجی اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس یعنی اے آئی کا موضوع سب سے زیادہ چھایا رہا۔ اس تقریب میں ٹیکنالوجی اور کاروبار کی دنیا کے کئی بڑے نام شامل ہوئے۔
اگرچہ اس کیمپ میں میڈیا اور کیمروں کی اجازت نہیں ہوتی اور نہ ہی کوئی بڑا باضابطہ اعلان کیا جاتا ہے، لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا کے کئی بڑے کاروباری معاہدوں کی بنیاد اسی خاموش جگہ پر رکھی جاتی ہے جو بعد میں دنیا کے سامنے آتے ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ بہت سے شرکا اپنے اہلِ خانہ کو بھی ساتھ لاتے ہیں، جس کی وجہ سے یہ تقریب ایک کاروباری اجلاس سے زیادہ ایک پُرتعیش خاندانی تعطیلات کا منظر پیش کرتی ہے۔ تاہم، اس کے باوجود دنیا بھر کی نظریں ہر سال اس خفیہ سمر کیمپ پر لگی رہتی ہیں، کیونکہ یہاں ہونے والی ملاقاتیں مستقبل کی عالمی معیشت اور ٹیکنالوجی کی سمت کا تعین بھی کر سکتی ہیں۔