یمن، بنگلہ دیش، کینیڈا، پاکستان سمیت ساری دنیا بھارتی دہشتگردی سے واقف ہے، میجر جنرل (ر) زاہد محمود
اشاعت کی تاریخ: 25th, April 2025 GMT
معروف دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ زاہد محمود کا کہنا ہے کہ انڈیا نے فالس فلیگ آپریشن میں معصوم شہریوں کے خون کو استعمال کیا۔
وی نیوز ایکسکلوسیو میں میجر جنرل ریٹائرڈ زاہد محمود نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بھارت ٹیشن پیدا کرنے کی ناکام کوشش کر رہا ہے، انڈیا امریکا کو چین کے خلاف اپنی خدمات پیش کرنے کی بھی ناکام کوشش کر رہا ہے۔
جنرل ریٹایر زاہد محمود نے کہا کہ انڈیا بار بار دو قومی نظریے کو حقیقت ثابت کر رہا ہے، انڈیا ہندوتوا کے نظریے پر عمل پیرا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی قوم انڈیا کے مذموم مقاصد کو کامیاب نہیں ہونے دے گی۔
انہوں نے کہا کہ وہ پہلگام واقعہ کی مذمت کرتے ہیں، انڈیا نے فالس فلیگ آپریشن میں معصوم شہریوں کے خون کو استعمال کیا، انڈیا انسانوں کا سودگر ہے۔
جنرل ریٹائرڈ زاہد محمود نے کہا کہ انڈیا اور افغانستان کے خلاف پاکستان کے پاس مضبوط ترین ثبوت موجود ہیں، جبکہ یہی ثبوت ہم نے دنیا کے سامنے رکھے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ انڈیا بلوچستان میں پاکستان مخالف مسلح تحریکوں کو فنڈ دے رہا ہے، انڈیا کے وزرا خود اس کا اعتراف کر چکے ہیں۔
جنرل ریٹائرڈ زاہد محمود نے کہا کہ انڈیا پوری دنیا میں دہشتگردی کے حوالے سے بدنام ہے۔ پاکستان، قطر، یمن، بنگلہ دیش، کنیڈا اور پاکستان نے انڈیا کے خلاف دہشتگردی کے شواہد دنیا کے سامنے رکھے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ نریندر مودی کی مقبولیت انڈیا میں روز بروز کم ہو رہی ہے، سکھ، مسلمان، عیسائی اور دوسرے مذاہب کے لوگ انڈیا میں غیر محفوظ ہیں، اور وہ سب مودی کے خلاف کھل کر بولتے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: جنرل ریٹائرڈ زاہد محمود انہوں نے کہا کہ زاہد محمود نے کے خلاف رہا ہے
پڑھیں:
ایران-امریکہ جنگ کے درمیان "ریزرو بینک آف انڈیا" نے 12 ارب روپیے کا سونا فروخت کیا، رپورٹ میں دعویٰ
آر بی آئی نے اپریل میں جاری اپنی فاریکس رپورٹ میں بتایا تھا کہ بیرون ملک رکھے گئے اسکے زیادہ تر سونے کے ذخائر بینک آف انگلینڈ اور بینک آف انٹرنیشنل سیٹلمنٹس کے پاس محفوظ ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کا اثر اب ہندوستان کی معیشت پر بھی نظر آنے لگا ہے۔ ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) نے زر مبادلہ کے ذخائر کو مضبوط بنائے رکھنے اور روپئے پر دباؤ کم کرنے کے لئے اپنے سونے کے ذخیرے کا کچھ حصہ فروخت کر دیا ہے۔ بلومبرگ اکنامکس کی ایک رپورٹ کے مطابق 22 مئی کو ختم ہوئے 2 ہفتے کے دوران آر بی آئی نے قریب 12 ارب (تقریباً 1.14 لاکھ کروڑ روپئے) قیمت کا سونا فروخت کیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس دوران مرکزی بینک نے قریب 7.5 ارب ڈالر (713.23 ارب روپئے) کے غیر ملکی کرنسی اثاثے حاصل کئے ہیں۔
بتا دیں کہ ہندوستان دنیا کا تیسرا سب سے بڑا خام تیل درآمد کنندہ ملک ہے۔ ایسے میں مغربی ایشیا میں بڑھتے تنازع کے سبب تیل کی قیمتوں میں تیزی آنے سے بھارت پر اضافی اقتصادی دباؤ پڑ رہا ہے۔ تیل درآمد پر اقتصادی خرچ ہونے سے زر مبادلہ کے ذخائر اور روپئے دونوں پر اثر پڑ سکتا ہے۔ "بلومبرگ اکنامکس" کے سینیئر ہندوستانی ماہر اقتصادیات ابھیشیک گپتا نے بتایا کہ دستیاب اعداد و شمار سے اشارہ ملتا ہے کہ آر بی آئی کے سونے کے ذخائر میں کمی آئی ہے جبکہ سونے پر درآمد ڈیوٹی بڑھنے کی وجہ سے اس کی قیمت میں اضافہ ہونا چاہیئے تھا۔ اسی بنیاد پر اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ ہو سکتا ہے مرکزی بینک نے سونے کی فروخت کی ہو۔
اگر یہ اندازہ درست ثابت ہوتا ہے تو اس کا مطلب ہوگا کہ آر بی آئی نے زر مبادلہ کے ذخائر کو مزید مضبوط اور آسانی سے استعمال کے قابل بنائے رکھنے کے لئے یہ قدم اٹھایا ہے۔ ایسا اس لئے بھی اہم مانا جا رہا ہے کیونکہ ایران بحران اور آبنائے ہرمز میں جہاز رانی سے متعلق رکاوٹوں کے باعث تیل کی سپلائی اور عالمی تجارت پر دباؤ بڑھا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آر بی آئی مستقبل میں بھی موقع ملنے پر زر مبادلہ کے ذخائر بڑھانے کی کوشش کر سکتا ہے، اگر ڈالر کمزور ہوتا ہے، غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافہ ہوتا ہے یا خام تیل کی قیمتوں میں گراوٹ آتی ہے تو مرکزی بینک مزید زر مبادلہ کے ذخائر حاصل کر سکتا ہے۔
مارچ 2025ء کے آخر تک آر بی آئی کے پاس 880.52 میٹرک ٹن سونا تھا۔ اس میں سے تقریباً 77 فیصد سونا ہندوستان میں ہی رکھا گیا تھا جبکہ 6 ماہ پہلے یہ اندازہ 66 فیصد تھا۔ آر بی آئی نے اپریل میں جاری اپنی فاریکس رپورٹ میں بتایا تھا کہ بیرون ملک رکھے گئے اس کے زیادہ تر سونے کے ذخائر بینک آف انگلینڈ اور بینک آف انٹرنیشنل سیٹلمنٹس کے پاس محفوظ ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ حالیہ سالوں میں آر بی آئی نے سونے کے ذخائر کا بڑا حصہ ہندوستان واپس منگایا ہے۔ اس کے پیچھے ایک وجہ یہ بھی مانی جاتی ہے کہ روس-یوکرین جنگ کے بعد مغربی ممالک کے ذریعہ روس کے غیر ملکی اثاثے منجمد کئے جانے سے کئی ممالک کے مرکزی بینک غیر ممالک میں رکھے ذخیرے کے حوالے سے زیادہ الرٹ ہوگئے ہیں۔