انٹرنیٹ صارفین نے بھارتی دھمکیوں پر دلچسپ میمز بنا ڈالیں
اشاعت کی تاریخ: 25th, April 2025 GMT
مقبوضہ کشمیر کے علاقے پہلگام میں دہشت گردی واقعے کے بعد بھارت کی یکطرفہ دھمکیوں اور اعلانات کے بعد انٹرنیٹ صارفین میں دلچسپ میمز کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔
بھارت نے دہشت گرد حملے کے بعد سندھ طاس معاہدے کی معطلی سمیت کئی اقدامات کا اعلان کیا تو پاکستان نے بھی جوابی اقدامات اٹھائے ہیں، جس کے بعد دونوں ممالک کشیدگی بڑھ گئی ہے۔
ایسے میں انٹرنیٹ پر میمز کا طوفان آگیا ہے، بھارت کی جنگی دھمکی پر محمد ذیشان نامی انٹرنیٹ صارف نے دلچسپ انداز اپنا اور لکھا کہ ’اتنی گرمی میں لوگ ولیمہ نہیں رکھتے اور بھارت نے جنگ رکھ لی ہے‘۔
ایک انٹرنیٹ صارف جابر انجم نے بھارت کے حملے کی دھمکی پر مزاحیہ انداز میں لکھا کہ ’انڈیا والو! حملہ کرنے سے پہلے سوچ لینا، ہمارے شادی شدہ حضرات کو اب زندگی سے کوئی لگاؤ نہیں، وہ شہادت کےلیے بہانے ڈھونڈ رہے ہیں‘۔
ایک اور انٹرنیٹ صارف اسلام آباد اپڈیٹس نے بھارتی عوام کو مخاطب کرتے ہوئے لکھاکہ ’انڈیا والوں ڈرو اُس وقت سے جب تاج محل کی دیوار پر لکھا ہوگا، کل بھی بھٹو زندہ تھا آج بھی بھٹو زندہ ہے‘۔
راولپنڈینز گروپ میں راجا نامی صارف نے پنجابی زبان میں درج کیا کہ ’جیہڑی 50 ایکڑ زمین میرے دادا جی انڈیا چھڈے آئے سی ہن او لین دا ٹائم آگیا‘ یعنی میرے دادا جو 50 ایکڑ زمین بھارت چھوڑ آئے تھے وہ لینے کا وقت آگیا ہے۔
ایک اور انٹرنیٹ صارف نے ابھی نندن والے واقعے کا خوبصورت انداز میں ذکر کیا اور کہا کہ ’بھارتی وزیر دفاع نے اپنی ایئرفورس کو ہائی الرٹ کردیا ہے، جس کے بعد پاکستانی کباڑیوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی‘۔
احمد رضا نامی انٹرنیٹ صارفین نے پاکستان بمقابلہ بھارت کے ہیش ٹیگ کے ساتھ دونوں حکومتوں اور فوج سے گزارش کی کہ جنگ نومبر میں رکھی جائے، ابھی کافی گرمی بھی ہے اور گندم کی کٹائی بھی چل رہی ہے۔
فاروق ادریس نامی صارف نے بالی ووڈ کی پاکستان مخالف اور جنگی فلموں کے نمایاں اداروں کی تصویر شیئر کی، جس پر نئی فلم کا نام پہلگام درج ہے، ساتھ ہی پوسٹر پر اکشے کمار، وکی کوشل اور اجے دیوگن نمایاں ہیں، جن کے ہاتھوں میں گنز ہیں جبکہ بیک گراؤنڈ میں پہاڑ نمایاں ہیں اور کیشپن میں درج ہے کہ تینوں اداکاروں نے پہلگام کے لیے اپنے بیگز تیار کرلیے ہیں۔
ایک اور صارف نے لکھا کہ ’انڈیا پانی تو جانے کب بند کرے گا، البتہ انڈین جہاز جو شارجہ سے امرتسر جارہا تھا، پاکستانی ایئر اسپیس میں داخلے کی اجازت نہ ملنے پر نریندر مودی کو گالیاں دیتے ہوئے واپس مڑ گیا‘۔
بھارت کے جنگ کے عملی اقدام کی تیاری کی دھمکی پر ایک صارف دیبا نے لکھا کہ بھارت جنگ کی تیاری کر رہا ہے اور پاکستانی میمز بنا رہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: انٹرنیٹ صارف لکھا کہ کے بعد
پڑھیں:
آزاد کشمیر میں 47 روز بعد میرپور میں انٹرنیٹ سروس جزوی بحال، دیگر علاقوں میں بحالی کا انتظار
آزاد جموں و کشمیر کے شہر میرپور اور اس سے ملحقہ علاقوں میں گزشتہ 47 روز سے معطل انٹرنیٹ سروس جزوی طور پر بحال ہونا شروع ہو گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق ابتدائی مرحلے میں صرف موبائل انٹرنیٹ بحال کیا گیا ہے، جبکہ وائی فائی انٹرنیٹ سروس بلنگ کا عمل مکمل ہونے کے بعد بحال کی جائے گی۔
یاد رہے کہ آزاد کشمیر میں 5 جون 2026 کو انٹرنیٹ سروسز معطل کر دی گئی تھیں۔ یہ اقدام اس وقت کیا گیا تھا جب جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جیک) نے اپنے مطالبات کے حق میں احتجاجی تحریک شروع کرتے ہوئے 9 جون کو مظفرآباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کیا تھا۔
بعد ازاں 5 جون کو ایکشن کمیٹی کے ایک مرکزی رکن پر مبینہ حملے اور مظاہرین و سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں کے بعد حکومت نے کمیٹی کو کالعدم قرار دے دیا تھا، جبکہ اسی روز پورے آزاد کشمیر میں بغیر پیشگی اطلاع انٹرنیٹ سروس بھی معطل کر دی گئی تھی۔
اس سے قبل پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں پیپلز پارٹی آزاد کشمیر اور الیکشن کمیشن کی جانب سے انٹرنیٹ بحالی کے لیے کی جانے والی کوششوں کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی تھی کہ میرپور میں سروس جلد بحال ہو جائے گی۔ انہوں نے یہ توقع بھی ظاہر کی کہ مظفرآباد اور دیگر علاقوں میں بھی انٹرنیٹ سروس جلد بحال کر دی جائے گی۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب آزاد کشمیر میں قانون ساز اسمبلی کے انتخابات قریب ہیں۔ الیکشن کمیشن پہلے ہی سکیورٹی اور انتخابی انتظامات کو مؤثر بنانے کے لیے انتخابات تین مراحل میں کرانے کا اعلان کر چکا ہے۔
شیڈول کے مطابق پہلے مرحلے میں 27 جولائی کو میرپور ڈویژن، دوسرے مرحلے میں 2 اگست کو مظفرآباد ڈویژن اور مہاجرین کی نشستوں، جبکہ تیسرے اور آخری مرحلے میں 10 اگست کو پونچھ ڈویژن میں پولنگ ہوگی۔دوسری جانب کالعدم ایکشن کمیٹی کا راولاکوٹ میں احتجاج تاحال جاری ہے۔ کمیٹی کے اہم مطالبات میں مہاجرینِ مقبوضہ کشمیر کے لیے آزاد کشمیر اسمبلی میں مختص 12 نشستوں کے خاتمے سمیت دیگر آئینی اور انتظامی امور شامل ہیں۔