اسپیس ایکس نے مزید 28 اسٹار لنک انٹرنیٹ سیٹلائٹس لانچ کردیے
اشاعت کی تاریخ: 25th, April 2025 GMT
اسپیس ایکس نے زمین کے مدار میں مزید 28 اسٹار لنک انٹرنیٹ سیٹلائٹس لانچ کردیے ہیں۔
گزشتہ رات (بروز جمعرات) اسپیس ایکس نے فلوریڈا کے کیپ کیناورل اسپیس فورس اسٹیشن سے فالکن 9 راکٹ لانچ کیا، جس کے ذریعے مزید 28، V2 اسٹار لنک منی سیٹلائٹس زمین کے مدار میں چھوڑے گئے۔
یہ بھی پڑھیں: اسپیس ایکس کا فرام 2 مشن بحرالکاہل میں اسپلاش ڈاؤن کے ساتھ کامیابی سے مکمل
یہ اسپیس ایکس کا 464 واں فالکن 9 راکٹ لانچ تھا جو زمین کے مدار میں چھوڑا گیا، کمپنی نے 2010 میں انٹرنیٹ سیٹلائٹ کو خلا میں لے جانا شروع کیا تھا۔
اسپیس ایکس کے مطابق یہ 23 واں مشن پے، جو بہاماس کے مشرق میں بحر اوقیانوس میں تعینات کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: جی میل کے لیے خطرے کی گھنٹی، ایلون مسک کی ’ایکس میل‘ میدان میں
V2 سیٹلائٹ دوسرے سیٹلائٹس سے قدرے ہلکے ہیں جو اب تک تعینات ہیں، اسپیس ایکس نے سیٹلائٹ کی کا قدرے بڑا اور بھاری ورژن تیار کیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news اسپیس ایکس اسٹار لنک انٹرنیٹ سیٹلائٹس فلوریڈا.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسپیس ایکس اسٹار لنک انٹرنیٹ سیٹلائٹس فلوریڈا اسپیس ایکس نے اسٹار لنک
پڑھیں:
پاکستان کی سمندری تجارت میں اہم بہتری، کراچی اور گوادر بندرگاہوں کی اہمیت مزید بڑھ گئی
خلیج میں جاری لڑائی اور بحری راستوں میں رکاوٹوں کے باعث پاکستانی بندرگاہوں پر تجارتی مصروفیات تیز ہو گئیں۔
عرب نیوز کے مطابق ہچیسن پورٹس پاکستان کا کہنا ہے کہ نیا کارگو کئی بحری جہازوں کے ذریعے پاکستان پہنچے گا، دو جہاز پہلے ہی بندرگاہ پر آ چکے ہیں جبکہ تیسرا جہاز جون کے پہلے ہفتے میں پہنچنے کی امید ہے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق کراچی میں ہچیسن پورٹس ٹرمینل 4 ہزار نئے ٹرانس شپمنٹ کارگو سنبھالے گا، جس کے بعد مارچ 2026 تک مجموعی تعداد 14 ہزار300 سے بڑھ جائے گی۔ خلیجی خطے میں رکاوٹوں کے باعث بین الاقوامی شپنگ کمپنیاں دوسرے راستے کے طور پر پاکستان کی بندرگاہوں کو اہمیت دے رہی ہیں۔
میری ٹائم حکام کے مطابق خلیج کے بحران کے باعث نہ صرف کراچی بلکہ گوادر پورٹ کے استعمال میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے، جہاں سرگرمیاں 20 فیصد سے بڑھ کر 30 فیصد تک پہنچ گئی ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ گوادر پورٹ کو پرکشش بنانے کے لیے برتھنگ فیس میں 25 فیصد، بین الاقوامی ٹرانس شپمنٹ کارگو چارجز میں 40 فیصد اور ٹرانزٹ کارگو چارجز میں 31 فیصد کمی کی گئی ہے۔ سی پیک 2.0، علاقائی تجارتی راہداریوں اور نئی سرمایہ کاری سے گوادر پورٹ کی علاقائی اہمیت میں اضافے کی امید ہے۔
ماہرین کے مطابق کراچی اور گوادر بندرگاہوں کی بڑھتی ہوئی سرگرمیاں پاکستان کے علاقائی لاجسٹکس اور ٹرانس شپمنٹ کا اہم مقام بننے کے لیے ایک اچھا اشارہ ہیں۔ پاکستان کا منفرد جغرافیائی محلِ وقوع کراچی، پورٹ قاسم اور گوادر کو خطے کے ابھرتے ہوئے تجارتی اور لاجسٹکس مقامات میں تبدیل کر رہا ہے۔