’جنگ ہو نہ ہو فلموں کے آئیڈیاز تو ملے‘، سوشل میڈیا پر پاک بھارت میمز وار
اشاعت کی تاریخ: 25th, April 2025 GMT
اسلام آباد(نیوز ڈیسک)مقبوضہ کشمیر کے علاقے پہلگام میں ہوئے حملے کے بعد پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی بڑھ گئی ہے۔ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی معطلی، اٹاری بارڈر کی بندش اور دیگر اقدامات کے جواب میں پاکستان نے انڈین پروازوں کے لیے اپنی فضائی حدود اور سرحد بند کرنے کے علاوہ تجارت کا عمل معطل کرنے کا اعلان بھی کیا ہے جس کے بعد سوشل میڈیا پر جنگ کا سا ماحول بنا ہوا ہے۔
Pure Pakistan ki phatii padi hai.
— Akshit Singh ???????? (@IndianSinghh) April 23, 2025
جہاں پاکستانی سوشل میڈیا صارفین نے پاکستان کے ان اقدامات کو سراہا وہیں انڈیا کے خلاف مختلف میمز بناتے نظر آئے۔ کئی بھارتی صارفین کا کہنا تھا کہ پاکستان میں اس وقت شدید ٹینشن کا ماحول ہے لیکن پاکستانیوں نے اس کو بھی مذاق میں اڑا دیا اور اس پر دلچسپ ردعمل دیتے نظر آئے۔
احسان گل لکھتے ہیں کہ ایک طرف انڈیا جنگ کی تیاری کر رہا ہے جبکہ دوسری طرف پاکستان میمز بنانے میں مصروف ہے۔
ایک صارف نے لکھا کہ ہم تاج محل میں اقراء یونیورسٹی بنائیں گے اور ساتھ ہی کباب جیز کی برانچ بھی ہوگی۔
تاج محل میں ہم اقراء یونی ورسٹی بنائیں گے اور ساتھ ہی کباب جیز کی برانچ بھی ہوگی ????
— sabahat zaidi110 (@massagha110) April 24, 2025
تاج محل میں ہم اقراء یونی ورسٹی بنائیں گے اور ساتھ ہی کباب جیز کی برانچ بھی ہوگی
ایان خان نامی صارف نے ایک تصویر پوسٹ کی جس پر لکھا کہ انڈیا پانی دو آنکھ میں صابن چلا گیا ہے۔
ایک ایکس صارف نے لکھا ’انڈیا والو ہن لاڈ شاڈ ختم‘۔
وجے پٹیل نامی انڈین صارف نے جنگ کی دھمکی دہتے ہوئے پاکستانیوں کو کہا کہ آج رات مت سونا جس پر ایک صارف نے جواب دیا کہ ’کل ورکنگ ڈے ہے ہفتے کا دن رکھ لو‘۔
عبد اللہ نامی صارف نے انڈیا کو کہا کہ 4 بج گئے ہیں لیکن ابھی تک انڈیا کی جانب سے کوئی جہاز نہیں آیا۔
ایک ایکس صارف کا کہنا تھا کہ ’دکھ اس بات کا ہے زندگی کو جندگی بولنا پڑے گا‘۔
شمس خٹک نے ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر پوسٹ کی جس میں انڈین نیوز اینکر کہتا دکھائی دیتا ہے کہ پاکستان نے انڈیا کو نیوکلیئر وارننگ دی ہے۔ انہوں نے کیپشن میں لکھا کہ انڈین میڈیا ہمیں ڈراتے ڈراتے خود ہی ہم سے ڈرنے لگ گیا۔
میاں عامر نے لکھا کہ بھارتی آرمی چیف نے پاکستان جانے سے انکار کر دیا کہ وہاں سیکیورٹی خدشات ہیں۔
بریکنگ ،بھارتی آرمی چیف نے پاکستان جانے سے انکار کر دیا
اخے وہاں سیکیورٹی خدشات ہیں
ایک ایکس صارف نے لکھا کہ بھارت نے پاکستان فوجیں بھیجنے سے انکار کر دیا ہے۔ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر پاک بھارت جنگ دُبئی میں کرانے کا فیصلہ۔
بھارت کا پاکستان فوجیں بھیجنے سے انکار !
سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر پاک بھارت جنگ دُبئی میں کرانے کا فیصلہ
ایک صارف نے لکھا کہ امریکا نے انڈیا کو دھمکی دی ہے کہ اگر پاکستان کو کچھ ہوا تو قرضہ آپ دیں گے۔
سہیل قریشی لکھتے ہیں کہ ’جنگ ہو نہ ہو فلموں کے آئیڈیاز تو ملے‘، جبکہ ایک صارف کا کہنا تھا کہ اس بار ابھینندن بھی واپس نہیں دیں گے اور چائے کی جگہ گڑ والا شربت پلائیں گے۔
مزیدپڑھیں:انتقال کرنے والے افراد کے شناختی کارڈ کیسے منسوخ کروائیں؟ گائیڈ لائنز جاری
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: صارف نے لکھا نے پاکستان سوشل میڈیا نے لکھا کہ ایک صارف سے انکار گے اور
پڑھیں:
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ”(targeted subsidy) بنانے کے لیے نیا سسٹم متعارف کرا دیا ۔ جس کے تحت اب صارفین کو اپنی شناخت اور گھریلو معلومات کی تصدیق کرنا ہوگی۔
صارف جب کیو آر کوڈ اسکین کرتا ہے تو اسے ایک آن لائن پورٹل پر لے جایا جاتا ہے۔ اس پورٹل پر شناختی کارڈ ، موبائل نمبر اور بجلی کے میٹر کی تفصیلات درج کرنا ہوتی ہیں۔ اس کے بعد ون ٹائم پاس ورڈ کے ذریعے تصدیق مکمل کی جاتی ہے۔
حکام کے مطابق اس نظام کا مقصد ایک ہی خاندان کے مختلف افراد کے نام پر موجود متعدد میٹرز کو چیک کرنا ہے ۔ یہ بھی دیکھا جا سکے گا کہ کم یونٹس استعمال کرنے والا صارف واقعی مستحق ہے یا نہیں ۔
ذرائع کے مطابق اس عمل میں نادرا ، بجلی تقسیم کار کمپنیوں اور دیگر سرکاری ڈیٹا بیسز سے حاصل معلومات کو ملا کر صارف کی معاشی حیثیت کا جائزہ لیا جائے گا۔ یعنی اب سبسڈی صرف بجلی کے استعمال پر نہیں بلکہ گھرانے کی مجموعی صورتحال پر دی جائے گی۔
پاور ڈویژن کے مطابق اس وقت2 کروڑ 95 لاکھ 70 ہزار یعنی 86 فیصد گھریلو صارفین کو سبسڈی فراہم کی جارہی ہے۔ سبسڈی کا حجم 199 ارب سے بڑھ کر 423 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ زرعی اور گھریلو شعبے کو 527 ارب روپے کی سبسڈی مل رہی ہے۔
حکام کے مطابق کیو آر کوڈ سسٹم کے ذریعے اہل صارفین کو بلاتعطل سبسڈی کی فراہمی جاری رہے گی۔دوسری طرف اس نئے نظام پر سوالات بھی اٹھ رہے ہیں کہ کیا صارفین کا ذاتی ڈیٹا محفوظ ہے؟ اور کیا تصدیق نہ کرنے کی صورت میں سبسڈی ختم ہو سکتی ہے؟
مزید پڑھیں:کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
ادھر حکومت نے صارفین کو خبردار کیا ہے کہ جعلی کیو آر کوڈز اور لنکس سے محتاط رہیں ۔ کسی بھی غیر مصدقہ پلیٹ فارم پر اپنی ذاتی معلومات ہرگز شیئر نہ کریں۔