اپنی ایک گفتگو میں ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ اگلا راؤنڈ ممکنہ طور پر اسنیچر کو ہو گا۔ جسکی تفصیلات اور مقام کا اہتمام میزبان حکومت، عمان کیجانب سے کیا جائے گا اور فریقین کو آگاہ کیا جائے گا۔ فی الحال مذاکرات کی اس سطح پر میرے اور اسٹیو ویٹکاف کے ہمراہ ماہرین موجود ہوں گے۔ اسلام ٹائمز۔ آج مسقط میں ایران-امریکہ بالواسطہ مذاکرات کا تیسرا دور عمل میں آیا جس کے بعد اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ "سید عباس عراقچی" نے ان مذاکرات کی میزبانی کرنے پر عمان کا شکریہ ادا کیا۔ اپنی گفتگو کے آغاز میں انہوں نے شہید رجائی پورٹ میں پیش آنے والے واقعے کی تعزیت پیش کی۔ اس حوالے سے انہوں نے کہا کہ اس وقت سب سے پہلے اس افسوس ناک حادثے پر تعزیت اور زخمیوں کے ساتھ اظہار ہمدردی کرنے کی ضرورت ہے۔ مجھے امید ہے کہ امدادی ٹیمیں زخمیوں کا فوری علاج اور متعلقہ ایجنسیز واقعے کی تحقیقات کریں گی۔

مذاکرات ماضی کی نسبت زیادہ سنجیدہ تھے
مذاکرات کے حوالے سے سید عباس عراقچی نے کہا کہ امریکہ کے ساتھ غیر مستقیم بات چیت کا تیسرا دور مسقط میں منعقد ہوا۔ جس کے لئے ہم حکومت عمان اور اپنے ہم منصب "بدر البوسعیدی" کے مشکور ہیں کہ جنہوں نے بہت اچھے انتظامات کئے۔ ان بہترین انتظامات کی بدولت ہی یہ مذاکرات سازگار فضاء میں منعقد ہوئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس بار مذاکرات، ماضی کے مقابلے میں زیادہ سنجیدہ تھے اور ہم بتدریج کچھ زیادہ سنجیدہ و تکنیکی موضوعات میں داخل ہو گئے۔

کچھ بڑے اور جزوی مسائل میں اختلافات ہیں
ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ اس موقع پر ماہرین کی موجودگی بہت مفید رہی۔ ہم نے کئی بار تحریری طور پر اپنی رائے کا تبادلہ کیا۔ مذاکرات بالواسطہ ہوتے ہیں اور تکنیکی بات چیت میں کچھ درستگی کی ضرورت ہوتی ہے۔ بعض فیصلوں کا تبادلہ بنیادی طور پر تحریری صورت میں ہوتا ہے اس کے علاوہ ایک دوسرے کے سوالات کے جوابات تحریری طور بھیجے جاتے ہیں۔ سید عباس عراقچی نے کہا کہ مجموعی طور پر میں کہہ سکتا ہوں کہ مذاکرات کا ماحول سنجیدہ اور کام کرنے والا تھا۔ ہم بعض مرکزی مسائل سے دور رہے تاہم اس کا یہ مطلب نہیں کہ تمام اختلافات حل ہو گئے۔ اس وقت کچھ مرکزی اور کچھ جزئی مسائل میں اختلافات ہیں۔ اگلے دور تک اختلافات کو حل کرنے کے طریقہ کار کے بارے میں امریکہ و ایران کے دارالحکومتوں میں مزید مشاورت کی جائے گی۔ بہرحال یہ بالکل واضح ہے کہ دونوں فریق سنجیدہ ہیں اور سنجیدگی کے ساتھ مذاکرات میں داخل ہوئے۔ یہ سنجیدگی خود ایک ایسی فضا پیدا کرتی ہے جس میں ہمیں پیش رفت ہونے کی امید ہے۔

تفصیلات اور مقام کا تعین عمان کرتا ہے
سید عباس عراقچی نے کہا کہ اگلا راؤنڈ ممکنہ طور پر اسنیچر کو ہو گا۔ جس کی تفصیلات اور مقام کا اہتمام میزبان حکومت، عمان کی جانب سے کیا جائے گا اور فریقین کو آگاہ کیا جائے گا۔ فی الحال مذاکرات کی اس سطح پر میرے اور اسٹیو ویٹکاف کے ہمراہ ماہرین موجود ہوں گے۔

اگلے راؤنڈ میں اٹامک انرجی سے ایک ماہر کو بھی شامل کیا جائے گا
ماہرین کی تشکیل کے بارے میں انہوں نے کہا کہ مذاکرات میں اٹھائے گئے مسائل کو دیکھتے ہوئے ضروری ہے کہ ہم متعلقہ ماہرین کو ساتھ لائیں۔ اب جب کہ کلی سے جزئی مسائل کی جانب بڑھا جا رہا ہے تو متعلقہ ماہرین کو بھی شامل کیا جائے گا۔ آج کے راؤنڈ میں پہلی بار ہمارے ساتھ معاشی ماہرین موجود تھے۔ ان کی موجودگی بہت مفید رہی۔ سید عباس عراقچی نے مذاکرات کا ایجنڈا بدلنے جیسی قیاس آرائیوں پر تبادلہ خیال کیا۔ اس بارے میں انہوں نے کہا کہ میں واضح طور پر کہتا ہوں کہ ہمارا صرف جوہری مسئلہ ہے اور ہم کسی دوسرے ایشو پر بات نہیں کریں گے۔ جب ہم جوہری کہتے ہیں تو ہمارا مطلب پابندیاں ہٹانے کے بدلے ایران کے جوہری پروگرام پر اعتماد پیدا کرنا۔ گزشتہ تینوں راؤنڈز میں دونوں طرف سے اس امر کا مشاہدہ بھی کیا گیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: سید عباس عراقچی نے کیا جائے گا نے کہا کہ انہوں نے

پڑھیں:

ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا

امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ مجوزہ سول جوہری معاہدے کومعاہدہ ابراہیمی (Abraham Accords) میں سعودی شمولیت سے مشروط کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ معاہدے کے تحت سعودی عرب کو کسی بھی صورت یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں کہا کہ امریکا کے محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان زیر غور سول جوہری معاہدہ صرف پرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام ایران، متحدہ عرب امارات اور دیگر ممالک کے سول جوہری پروگراموں کی طرز پر ہوگا، تاہم اس میں یورینیم افزودگی کی اجازت شامل نہیں ہوگی۔

امریکی صدر نے کہا کہ معاہدے کی منظوری ضرور دی جائے گی، لیکن اس کی بنیادی شرط یہ ہوگی کہ سعودی عرب باعزت اور باہمی احترام پر مبنی معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہو۔ ان کے مطابق امریکا کو ایسے سول جوہری مراکز پر کوئی اعتراض نہیں جو مکمل طور پر پرامن مقاصد کے لیے قائم کیے جائیں اور جن میں یورینیم افزودہ نہ کیا جائے۔

دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اگر سعودی عرب معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہوتا ہے تو یہ مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے ایک تاریخی پیش رفت ہوگی۔ بیان میں کہا گیا کہ حالیہ علاقائی پیش رفت کے بعد خطے میں امن کے دائرے کو مزید وسعت دینے کا موقع پیدا ہوا ہے، تاہم اسرائیلی حکومت نے امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے پر براہ راست کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

ادھر امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ صدر ٹرمپ سعودی عرب کے ساتھ 30 سالہ سول جوہری معاہدے کی اصولی منظوری دے چکے ہیں، جسے اب کانگریس کی منظوری درکار ہوگی۔ رپورٹ کے مطابق اس معاہدے کی مالیت کئی ارب ڈالر ہو سکتی ہے اور اس کے ذریعے سعودی عرب کو جوہری توانائی کی جدید ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل ہوگی۔

تاہم اسرائیل میں اس مجوزہ معاہدے پر تحفظات بھی سامنے آئے ہیں۔ سابق اسرائیلی وزیر دفاع اویگدور لائبرمین نے اسے اسرائیل کے لیے اسٹریٹیجک خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہر فوجی جوہری پروگرام کی ابتدا سول جوہری پروگرام سے ہوتی ہے اور اگر سعودی عرب کو اپنی سرزمین پر یورینیم افزودگی کی اجازت دی گئی تو اس سے مشرق وسطیٰ میں جوہری ہتھیاروں کی نئی دوڑ شروع ہونے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔

واضح رہے کہ معاہدہ ابراہیمی کا آغاز 2020 میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت میں ہوا تھا، جس کا مقصد اسرائیل اور مختلف عرب و مسلم ممالک کے درمیان سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعلقات کو فروغ دینا تھا۔ اس معاہدے کے تحت متحدہ عرب امارات، بحرین، مراکش اور سوڈان اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لا چکے ہیں، جبکہ سعودی عرب کی ممکنہ شمولیت کو خطے کی سفارتی تاریخ میں ایک اہم پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
  • روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
  • ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
  • دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل