نہری مسئلہ حل کرنے پر پاکستان بارکونسل کا وزیراعظم اور بلاول بھٹو کو خراج تحسین
اشاعت کی تاریخ: 28th, April 2025 GMT
چولستان میں نہری مسئلہ خوش اسلوبی سے حل کرنے پر پاکستان بارکونسل نے وزیراعظم شہباز شریف اور بلاول بھٹو زرداری کو خراج تحسین کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس معاملے کو مشترکہ مفادات کی کونسل میں پیش کرنا قابل تعریف اقدام ہے۔
’پاکستان بار کونسل وزیر اعظم شہباز شریف اور چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے نہر کے مسئلے کو سیاسی اتفاق رائے سے خوش اسلوبی سے حل کرنے میں سیاسی پختگی اور مدبرانہ صلاحیتوں کو سراہتی ہے۔‘
یہ بھی پڑھیں: پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین نے گلگت بلتستان وکلا برادری کے مطالبات کی حمایت کردی
نہری مسئلہ پر جاری اعلامیے کے مطابق جمہوری اقدار، آئینی بالادستی اور مسائل کے پرامن حل کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے پاکستان بار کونسل کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ مناسب طور پر مشترکہ مفادات کونسل کے سامنے رکھا گیا ہے، جو بین الصوبائی معاملات کے تصفیے کا مجاز آئینی فورم ہے۔
پاکستان بار کونسل نے تمام اسٹیک ہولڈرز، بار ایسوسی ایشنز اور شہریوں سے احتجاج فوری ختم کرنے کی اپیل بھی کی ہے، اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ احتجاج جاری رکھنے سے جمہوری عمل کو نقصان اور ملکی معیشت کو شدید خطرہ لاحق ہوگا۔
مزید پڑھیں: احسن بھون جوڈیشل کمیشن میں پاکستان بار کونسل کے نمائندہ مقرر
’معاملے کے حل کے باوجود احتجاج کا جاری رہنا نہ صرف جمہوری عمل کو نقصان پہنچائے گا بلکہ عام شہریوں کی روزی روٹی کو بھی بری طرح متاثر کرے گا اور قومی معیشت کو نقصان پہنچے گا، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ملک کو سیکیورٹی کے حساس چیلنجز کا سامنا ہے۔‘
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آئینی فورم احتجاج بلاول بھٹو زرداری بین الصوبائی معاملات پاکستان بار کونسل جمہوری عمل شہباز شریف مشترکہ مفادات کونسل نہری مسئلہ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: آئینی فورم بلاول بھٹو زرداری بین الصوبائی معاملات پاکستان بار کونسل جمہوری عمل شہباز شریف مشترکہ مفادات کونسل نہری مسئلہ پاکستان بار کونسل نہری مسئلہ بلاول بھٹو
پڑھیں:
دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں: بلاول بھٹو زرداری
گلگت: پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ دعا ہے کہ فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں. امن کی کوششوں کا کامیاب ہونا ضروری ہے۔گلگت بلتستان میں انتخابی جلسے سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ایران میں اسکول پر میزائل مار کر بچوں کو شہید کیا گیا اس جنگ میں ایران کے ساتھ ساتھ دنیا بھر کے عوام جنگ کا بوجھ اٹھا رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ملک بھر میں کوئی سیاست دان نہیں. جس نے میری طرح ملک بھر کے دورے کیے ہوں. میں گلگت بلتستان کی ہر تحصیل میں پہنچا ہوں. گزشتہ الیکشن میں خوشی کا ماحول تھا اس الیکشن میں سوگ کا ماحول ہے۔ان کا کہنا تھا کہ بی آئی ایس پی ملک کا واحد پروگرام ہے جو ہر غریب کے گھر تک پہنچتا ہے، اس پروگرام کے خلاف سیاسی جماعتوں کی سازشیں ناکام ہوں گی۔بلاول کا کہنا تھا کہ مشرف دور میں دیگر ممالک کےلیے فوجی بیسز بنے ہمارے دور میں نہیں، پاکستان کو ایٹم بم ذوالفقار علی بھٹو اور میزائل پروگرام بے نظیر نے دیا، ہم چاہتے ہیں پاکستان دفاعی و معاشی لحاظ سے مضبوط ہو، یہ کیسی معاشی پالیسی ہے کہ امیر، امیرتر ہوجائے اور غریب غریب تر ہوجائے، یہ تمام کام صرف ایک جماعت کراسکتی ہے اور وہ پیپلز پارٹی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ آپ نے ہر چیز کو اسلام آباد سے چلانا چاہا ہے، آپ پہلے گلگت بلتستان کو اس کا حق ملکیت دلادیں، یہ ماننا پڑے گا کہ کسی بھی پروجیکٹ میں مقامی لوگوں کو ملکیت دینی ہوگی جس طرح سندھ میں ہے جہاں تھر سے کوئلہ نکلا وہاں کے مقامی لوگوں کو بجلی دی گئی انہیں پروجیکٹس میں نوکریاں دی گئیں، انہیں شیئر کی بھی آفر کی گئی مگر انہوں ںے پیسہ لیا شیئر نہیں، تھرکول سے فائدہ سندھ کو نہیں پورے پاکستان کو ہورہا ہے مگر سب سے پہلے فائدہ مقامی لوگوں کو ہوا یہی پیپلز پارٹی چاہتی ہے۔بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ میں صوبوں سے نہیں عالمی دنیا سے مقابلہ کرتا ہوں، سندھ میں جو ہاؤسنگ کا منصوبہ ہے یہ دنیا کا سب سے بڑا زلزلہ ہے.
قبل ازیں یہ نیپال میں ریکارڈ تھا جہاں زلزلے کے بعد گھر بنے اور اب یہ ریکارڈ سندھ کے پاس ہے جہاں سیلاب کے بعد بیس لاکھ پکے گھر بنائے جارہے ہیں جو سیلاب آنے کے باوجود تباہ نہیں ہوں گے، یہ مکانات خواتین کے نام پر ہوں گے۔چیئرمین پی پی کا کہنا تھا کہ انہیں کون سمجھائے کہ بھٹو کے 70ء کے دور میں کیے گئے ایک سروے کے مطابق یہاں سے پچاس ہزار میگا واٹ تک بجلی پیدا کی جاسکتی ہے اور یہاں ایک پروفیسر یہ کہہ کر خوش ہورہا ہے کہ یہاں سو میگا واٹ بجلی دینا میرے داہنے ہاتھ کا کام ہے، اگر داہنے ہاتھ کا کام ہے تو کیا کیوں نہیں؟ ہم پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے ذریعے اپنی بجلی پیدا کریں گے اور اسلام کو فروخت کریں گے.پروفیسر کو فروخت کریں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ مجھے امید ہے کہ سات جون کو انتخابات میں یہاں کے عوام تیر کے نشان پر مہر لگائیں کہ تاکہ میں یہاں کے مقامیوں کو ان کا حق ملکیت دوں اور گلگت بلتستان میں اسپتالوں کا جال بچھادوں جہاں مفت علاج ہوسکے۔