مشترکہ مفادات کونسل نے ہمارے تین مطالبات مان لئے، علی امین گنڈاپور
اشاعت کی تاریخ: 28th, April 2025 GMT
سٹی42: مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس کے بعد خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ ہم نے اپنے تین مطالبات آگے اجلاس کے ایجنڈے کے لئے منظور کرا لئے ہیں۔
علی امین گنڈاپور نے بتایا کہ این ایف سی ایوارڈ کی نظر ثانی کے حوالے سے ایجنڈا سی سی آئی کے اگلے اجلاس میں شامل ہو گا۔
تمباکو کو بطور فصل منظور کرانے کا ایجنڈا بھی اگلے اجلاس میں شامل کیا جائے گا۔
دو روز کے لئے جنگ بندی کا اعلان ک
علی امین نے کہا، یہ مطالبات ایجنڈے میں شامل ہونا خیبرپختونخوا کے عوام کی جیت ہے۔
علی امین نے انکشاف کیا کہ دریائے سندھ پر نہریں بنانے کا فیصلہ واپس لے لیا گیا ہے۔
مشترکہ مفادات کونسل نے دریائے سندھ پر نہریں بنانے کا ایکنک کا فیصلہ واپس لے لیا۔
نہروں کی تعمیر کے مسلئے پر ٹیکنیکل کمیٹی بنا کر آگے کا لائحہ عمل بنایا جائے گا۔
علی امین گنڈاپور نے کہا، تمام صوبوں کو پانی کے حقوق دئیے جانے کے حق کے عزم کا اعادہ کیا گیا ہے۔ مسائل کو مفاہمت سے حل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
دہشتگردوں کیجانب سے معصوم شہریوں کو نشانہ بنانا بزدلانہ عمل ہے؛ شیری رحمان
Waseem Azmet.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: علی امین گنڈاپور
پڑھیں:
کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی زیر صدارت کفایت شعاری اقدامات پر اہم اجلاس ہوا جس میں مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی زیر صدارت وزارتِ خارجہ میں کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی اور عملدرآمد سے متعلق کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا۔
اجلاس میں ملک بھر میں توانائی کے مؤثر استعمال اور کاروباری سرگرمیوں کے اوقات کارجبکہ جاری کفایت شعاری اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
موسمِ گرما میں دن کے دورانیے میں اضافے اور بلند درجہ حرارت کے پیش نظر کمیٹی نے دکانوں، بازاروں، شاپنگ مالز اور جنرل ریٹیل کاروبار کے اوقات کار رات 9 بجے تک بڑھانے کی منظوری دے دی۔
مزید پڑھیںلاہور میں بھی اسمارٹ لاک ڈاؤن پھر سے نافذ، پرانے اوقات کار بحال
اجلاس کے فیصلوں کے مطابق ریسٹورنٹس، کیفے اور دیگر کھانے پینے کے مراکز رات 11 بجے تک کھلے رہ سکیں گے، تاہم ٹیک اوے اور ہوم ڈلیوری سروسز ان اوقات کی پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی۔
شادی ہالز اور تقریبات کے مقامات کے اوقات کار رات 10 بجے تک برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا جبکہ فارمیسیز، ہسپتال، پٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق خدمات سمیت ضروری سروسز کو ان پابندیوں سے استثنیٰ حاصل ہوگا۔
کمیٹی نے صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی کہ وہ وفاقی حکام کے ساتھ مکمل تعاون کرتے ہوئے ان فیصلوں پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنائیں۔
اجلاس میں وفاقی وزراء برائے پیٹرولیم، موسمیاتی تبدیلی، اطلاعات اور آئی ٹی و ٹیلی کام، وزیر اعظم کے معاونینِ خصوصی برائے خزانہ اور نائب وزیراعظم، وفاقی سیکریٹریز تجارت، کابینہ، پیٹرولیم اور آئی ٹی و ٹیلی کمیونی کیشنز کے علاوہ صوبائی حکومتوں کے سینئر حکام نے بھی شرکت کی۔کمیٹی نے ایجنڈے میں شامل دیگر امور اور کیسز کی بھی منظوری دی۔