Juraat:
2026-07-24@06:25:25 GMT

بھارت کی بین الاقوامی میڈیا میں سبکی

اشاعت کی تاریخ: 30th, April 2025 GMT

بھارت کی بین الاقوامی میڈیا میں سبکی

ریاض احمدچودھری

معروف بھارتی صحافی برکھا دت کے مطابق بین الاقوامی میڈیا کی جانب سے پہلگام واقعہ کی نامناسب کوریج پر وہ صدمے سے دوچار ہیں۔ ذرائع کے مطابق ماضی کے واقعات جن کا الزام پاکستان پر لگایا گیا کے شواہد اب تک سامنے نہیں آئے، دنیا بھارت کے اس مکروہ اور فریبی چہرے کو پہچان چکی ہے۔ ،چٹی سنگھ پورہ قتل عام ، افضل گورو کی پھانسی ، پارلیمنٹ پر حملہ، سمجھوتہ ایکسپریس پر حملہ، پٹھان کوٹ حملہ میں بھارت کو منہ کی کھانی پڑی ہے ، سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق مودی سرکار کی سازشی سیاست اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں، مودی سرکار کی اب دنیا بھر میں جگ ہنسائی ہو رہی ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور امریکی وزارت خارجہ کا بیان اس کا منہ بولتا ثبوت ہیں، دنیا جان چکی ہے کہ بھارتی ایجنسیاں خود دہشت گردی کر کے الزام پاکستان پر دھر دیتی ہیں۔افضل گورو کی پھانسی کے بعد بھارتی عدالت نے اعتراف کیا کہ ثبوت ناکافی تھے، 2001 میں پارلیمنٹ پر حملہ کر کے بھارت نے پاکستان پر الزام دھر کر 800 فوجیوں کو قربان کروا دیا، پارلیمنٹ پر اس حملے کی بھی تاحال کوئی رپورٹ سامنے نہیں آسکی۔
2017 میں پٹھان کوٹ حملے کے بعد بھارتی وزیر دفاع کا جھوٹ بے نقاب ہو گیا، سابق این آئی اے افسر ستیش ورما نے انکشاف کیا کہ پٹھان کوٹ حملے کے ذریعے پاکستان کوبدنام کرنے کی کوشش کی گئی۔2007 میں سمجھوتہ ایکسپریس حملے میں بھارت نے بغیر کسی ثبوت کے پاکستان پر الزام لگایا، یہ بات سامنے آئی کہ سمجھوتہ ایکسپریس حملے کا اصل مجرم آر ایس ایس اور ابھینو بھارت کا نکلا، شواہد سے ثابت ہوا کہ سمجھوتہ ایکسپریس دھماکوں میں بھارتی فوجی افسران اورانتہاپسند تنظیمیں ملوث تھیں۔سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق مودی سرکار کی سازشی سیاست اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں، مودی سرکار کی اب دنیا بھر میں جگ ہنسائی ہو رہی ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اورامریکی وزارت خارجہ کا بیان اس کا منہ بولتا ثبوت ہیں، دنیا جان چکی ہے کہ بھارتی ایجنسیاں خود دہشت گردی کرکے الزام پاکستان پر دھر دیتی ہیں۔سینیٹر عرفان صدیقی کا کہنا ہے کہ پہلگام فالس فلیگ آپریشن کے تمام پہلو مشکوک ہیں، بھارت کا جھوٹ اب چلنے والا نہیں ہے، عالمی برادری نے بھارت کے مؤقف اور جھوٹ کا ساتھ نہیں دیا۔ مقبوضہ کشمیر میں شہریوں کی جائیدادیں ضبط کی جا رہی ہیں، 7 لاکھ فوج کی موجودگی میں اتنا بڑا حملہ سوالیہ نشان ہے، حملے کے فوری بعد ایف آئی آر درج کی گئی، الزام پاکستان پر لگایا گیا۔
سندھ طاس معاہدہ ایک عالمی معاہدہ ہے، عالمی بینک بھی سندھ طاس معاہدے کا ضامن ہے، سندھ طاس معاہدے سے متعلق کوئی بھی ملک یکطرفہ فیصلہ نہیں کر سکتا۔ پاکستان پر بے بنیاد الزامات لگانا بھارت کا پرانا وتیرہ ہے، بھارت نے ہم پر بے بنیاد الزام لگائے اور پروپیگینڈا کیا۔ مودی کی تربیت آر ایس ایس کی گود میں ہوئی وہیں سے دہشتگردی کی ٹریننگ لی، مودی کو گجرات کے قصاب کا خطاب دیا گیا جسے اس نے اپنے لیے اعزاز بتایا، مودی کے باعث بھارت قتل گاہ بن گیا۔کشمیر میں 90 ہزار لوگ شہید ہوئے، وہاں 9 لاکھ بھارتی فوجی موجود ہیں، مقبوضہ کشمیر میں گلی گلی پہرے لگے ہیں اور چیک پوسٹس ہیں، کشمیر میں مسلمانوں کی آبادی کم کرنے کے لیے وہاں غیر مسلموں کو آباد کیا گیا۔ پہلگام میں بہت سیاح آتے ہیں، وہاں دن دیہاڑے واردات ہوئی، بھارت کیآفیشل مؤقف کے مطابق چار افراد نے لوگوں کا انٹرویو کرکے انھیں قتل کیا، تمہاری 7 لاکھ فوج ہے، سیاحوں کے تحفظ کے لیے ایجنسیاں کہاں ہیں؟ نہ ثبوت نہ شواہد ہیں کہ پاکستان ملوث ہے، 10 منٹ میں الزام لگا دیا جاتا ہے، ایل او سی پر باڑ ہے، کیسے گئے یہ چار افراد وہاں، ایک ملزم نہیں پکڑا گیا، این آئی اے کو کل ٹاسک دیا گیا کہ ملزموں کا سرغ لگاؤ، یعنی سراغ لگانے کا ٹاسک کل دیا گیا اور الزام پہلے لگا دیا گیا، لگتا یے ایف آئی آر پہلے کٹی تھی حملہ بعد میں ہوا۔ دنیا نے بھارت کا ساتھ نہیں دیا، تمھارے جھوٹ اور مؤقف کا ساتھ نہیں دیا، سندھ طاس کا معاہدے کس اتھارٹی کے تحت معطل کیا؟ یہ نہیں ہو سکتا کہ تم پاکستان کا پانی روکوگے اور کربلا بنا دو گے، تم اس کو کربلا نہیں بنا سکتے۔ دشمن مکار اور چالاک ہے وہ کوئی بھی حماقت کرسکتا ہے، حماقت کا وہی نتیجہ نکلے گا جو احمق کو ملتا ہے، ہم پاکستان کا تحفظ کریں گے۔
بھارت کے فالس فلیگ آپریشنز دنیا بھر میں تماشہ بن گئے۔ماضی کی نسبت اس بار بین الاقوامی میڈیا نے پہلگام واقعہ کو کوئی کوریج نہ کی، یورپی، امریکی اور دیگر ممالک کے میڈیا نے اسے محض خبر کے طور پر لیا۔ اس کی ایک وجہ تو ماضی میں بھارت کی جانب سے مختلف مواقعوں پر پاکستان پر لگائے جانے والے بعض وہ الزامات اور اقدامات ہیں جن کے مصدقہ شواہد پر مبنی کوئی قابل یقین رپورٹ ابھی تک سامنے نہیں آسکی، جبکہ بعض مبصرین اس کی ایک وجہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پہلگام واقعے سے بے اعتناعی ہی نہیں بلکہ لاتعلقی کا مظاہرہ ہے جس میں انہوں نے اپنے ریمارکس میں نہ صرف بھارت کی حکمراں جماعت بھارتی وزیراعظم اور عوامی سطح پر بھی مایوسی پیدا کی بلکہ ان کے ریمارکس کے بعد بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کی بے اعتنائی نے بھارتی شہریوں اور ابلاغی نمائندوں کو ہیجان میں مبتلا کر دیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: سمجھوتہ ایکسپریس الزام پاکستان پر مودی سرکار کی بین الاقوامی میں بھارت کے مطابق بھارت کی بھارت کا دیا گیا

پڑھیں:

ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ

امریکا آج سے پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین اور دنیا کے دیگر 60 تجارتی شراکت داروں سے درآمد ہونے والی متعدد اشیا پر 10 اور 12.5 فیصد کے نئے درآمدی محصولات(tarrif) نافذ کر رہا ہے۔
امریکی حکومت کا مؤقف ہے کہ متعلقہ ممالک اپنی سپلائی چینز میں جبری مشقت کے خاتمے کے قوانین پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنانے میں ناکام رہے ہیں۔

نئے ٹیرف کا اعلان امریکی فیڈرل رجسٹر میں جاری نوٹس کے ذریعے کیا گیا، یہ محصولات اس عارضی 10 فیصد عالمی ٹیرف کی جگہ لیں گے جو امریکی سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد 150 روز کے لیے نافذ کیا گیا تھا اور جس کی مدت آج ختم ہو رہی ہے۔

امریکی سپریم کورٹ نے رواں برس فروری میں ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے گزشتہ سال قومی ہنگامی اختیارات کے تحت عائد کیے گئے 10 سے 50 فیصد تک کے باہمی ٹیرف غیر مؤثر قرار دے دیے تھے، ان ٹیرف کا مقصد امریکا کے تجارتی خسارے کو کم کرنا تھا، تاہم عدالت کے فیصلے کے بعد انتظامیہ نے اب 1974ء کے ٹریڈ ایکٹ کی سیکشن 301 کے تحت نئے محصولات نافذ کرنے کا راستہ اختیار کیا ہے، جسے قانونی طور پر زیادہ مضبوط تصور کیا جا رہا ہے۔

امریکی حکام کے مطابق نئے محصولات امریکا کی تقریباً 99.4 فیصد درآمدات پر لاگو ہوں گے، تاہم متعدد اہم اشیا کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے، ان میں خام تیل، قدرتی گیس، کھاد، بعض غذائی اجناس، جبکہ قومی سلامتی کے تحت پہلے سے سیکشن 232 کے محصولات کی زد میں آنے والی گاڑیاں، اسٹیل، ایلومینیم اور تانبا شامل ہیں۔ اسی طرح امریکا، کینیڈا اور میکسیکو کے آزاد تجارتی معاہدے کے تحت آنے والی متعدد مصنوعات بھی ان نئے محصولات سے مستثنیٰ ہوں گی۔

امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر نے ایک بیان میں کہا کہ امریکا تقریباً ایک صدی سے جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد کیے ہوئے ہے اور ان قوانین پر سختی سے عمل کرتا ہے، اب وقت آ گیا ہے کہ امریکا کے تجارتی شراکت دار بھی اسی معیار پر عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا خاتمہ ہو اور عالمی تجارت میں غیر منصفانہ مقابلے کا سدباب کیا جا سکے۔

انہوں نے واضح کیا کہ جن ممالک نے امریکا کے ساتھ پہلے ہی تجارتی معاہدے کر رکھے ہیں اور جن کے لیے زیادہ سے زیادہ ٹیرف کی حد مقرر ہے، ان پر نئے محصولات اس حد سے تجاوز نہیں کریں گے۔

مزیدپڑھیں:میٹھے پر سجاوٹ کیلئے چیونٹیوں کا استعمال ریسٹورنٹ مالک کو مہنگا پڑگیا

امریکا کے حتمی فیصلے کے مطابق پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، برطانیہ، کینیڈا، میکسیکو، ملائیشیا، انڈونیشیا، کمبوڈیا، سری لنکا، ارجنٹینا، ایکواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، اردن، ایل سلواڈور، ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو اور دیگر کئی ممالک سے آنے والی متعلقہ مصنوعات پر 10 فیصد کا نیا ٹیرف عائد کیا جائے گا، جبکہ بعض دیگر تجارتی شراکت داروں پر 12.5 فیصد شرح بھی نافذ ہوگی۔

آسٹریلیا اور برازیل نے امریکی اقدام کو غیر ضروری اور غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں کریں گے۔

کینیڈا نے، جس پر چند روز قبل ہی تقریباً 20 ارب ڈالر مالیت کی مصنوعات پر نئے امریکی ٹیرف عائد کیے گئے تھے، محتاط ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس معاملے پر امریکا کے ساتھ تعمیری مذاکرات جاری رکھے گا۔

کینیڈا کے وزیر برائے امریکا تجارت ڈومینک لی بلانک نے کہا کہ دونوں ممالک آنے والے ہفتوں میں اس مسئلے سمیت دیگر تجارتی معاملات پر بات چیت جاری رکھیں گے تاکہ دونوں ملکوں کے شہریوں کے مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

ادھر امریکی ریاست میساچوسٹس کی ڈیموکریٹک گورنر مورا ہیلی نے نئے محصولات کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے سے اشیا مہنگی ہوں گی، کاروباری اداروں پر منفی اثرات مرتب ہوں گے اور امریکی معیشت کی مسابقتی صلاحیت بھی متاثر ہوگی۔

تجارتی قانون کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ نئے محصولات کی شرح بڑی حد تک ان عارضی ٹیرف سے ملتی جلتی ہے جو اب ختم ہو رہے ہیں، تاہم چونکہ انہیں سیکشن 301 کے تحت نافذ کیا جا رہا ہے، اس لیے عدالت میں ان کے خلاف قانونی چیلنج پہلے کے مقابلے میں زیادہ مشکل ہوگا۔

ماہرین کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ اس قانونی راستے کے ذریعے نہ صرف تقریباً تمام درآمدات پر کم از کم 10 فیصد ٹیرف برقرار رکھنا چاہتی ہے بلکہ مستقبل میں ضرورت پڑنے پر ان کی شرح میں ردوبدل کرنے کا اختیار بھی اپنے پاس رکھنا چاہتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • معرکہ حق میں بھارت کو کتنا نقصان پہنچا؟ احتجاج میں شامل بھارتی طلبہ نے بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کردی
  • ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
  • ایمنسٹی انٹرنیشنل کا نیتن یاہو کی گرفتاری کا مطالبہ، آئی سی سی میں مقدمہ چلانے پر زور
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • اہم ٹیلیفونک رابطہ، پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا، سہیل آفریدی پر الزام، مریم نواز اور بلاول کے ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملے
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا