پاکستان میں بائیولوجیکل ہتھیار پر پابندی عائد، بل سینیٹ سے منظور
اشاعت کی تاریخ: 30th, April 2025 GMT
سینیٹ میں بائیولوجیکل اور مہلک ہتھیار کنونشن عملدرآمد بل منظور کرلیا گیا۔
سینیٹ میں منظور کیے گئے بل کے تحت پاکستان میں بائیولوجیکل ہتھیار پر پابندی عائد ہوگی، کوئی شخص مہلک ہتھیار تیار، ذخیرہ، ٹرانسپورٹ، امپورٹ اور ایکسپورٹ نہیں کرے گا۔
ذرائع کے مطابق بل کا اطلاق ہر پاکستانی اور ہر اس شخص پر ہوگا جو پاکستانی حدود میں جرم یا پاکستان کےخلاف جرم کرے، بل کا اطلاق پاکستانی علاقے میں موجود غیر ملکی پر بھی ہوگا۔
افغانستان میں چھوڑے گئے پانچ لاکھ امریکی ہتھیار عسکریت پسندوں کو فروخت، برطانوی میڈیاکراچی افغانستان میں طالبان کی جانب سے حاصل کئے گئے.
بل کے تحت کوئی شخص ایسا مواد یا ٹیکنالوجی حاصل نہیں کرے گا جو بائیولوجیکل ہتھیار بنانے میں استعمال ہو، مہلک ہتھیار تیار، ذخیرہ، ٹرانسفر کرنے پر 25 سال قید اور ایک کروڑ روپے جرمانہ ہوگا۔
اس کے علاوہ سینٹرل اتھارٹی پر امن مقاصد کےلیے اس کے استعمال کے حوالے سے اجازت دے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
دفتری نظم و ضبط کی پابندی کی ہدایت ،نیاسرکلرجاری
اسٹیبلشمنٹ ڈویژن(Establishment Division) نے دفتری نظم و ضبط اور پیشہ ورانہ ماحول کو بہتر بنانے کے لیے نیا سرکلر جاری کرتے ہوئے تمام افسران اور اہلکاروں کو مقررہ دفتری اوقات، بائیومیٹرک حاضری اور لباس کے ضوابط پر سختی سے عمل کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔
جاری کردہ سرکلر کے مطابق تمام ملازمین کے لیے صبح 8 بجے سے شام 4 بجے تک کے سرکاری اوقاتِ کار پر مکمل عمل درآمد لازمی ہوگا، جبکہ مقررہ وقت پر دفاتر میں حاضری یقینی بنانے کے لیے بائیومیٹرک حاضری کے نظام پر سختی سے عمل کرنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔
سرکلر میں سرکاری ملازمین کے لیے ڈریس کوڈ بھی واضح کیا گیا ہے۔ ہدایات کے مطابق افسران اور اہلکار یا تو لاؤنج سوٹ پہنیں یا پھر شلوار قمیض کے ساتھ ویسٹ کوٹ زیب تن کریں تاکہ دفاتر میں پیشہ ورانہ اور باوقار ماحول برقرار رکھا جا سکے۔
مزیدپڑھیں:آج کہاں کہاں بادل برسیں گے ،محکمہ موسمیات نے بڑی پیشگوئی کردی
اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے دفتری ماحول کو بہتر بنانے کے لیے راہداریوں میں شور شرابے اور بلند آواز میں گفتگو سے بھی گریز کرنے کی ہدایت کی ہے، تاکہ سرکاری امور کی انجام دہی کے دوران پرسکون اور منظم ماحول برقرار رہے۔
سرکلر میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ تمام ہدایات فوری طور پر نافذ العمل ہیں اور متعلقہ افسران کو ان پر مکمل عمل درآمد یقینی بنانے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔