صوابی میں جائیداد کے تنازع پر چچا نے بھابھی اور دو بھتیجوں کو قتل کردیا
اشاعت کی تاریخ: 30th, April 2025 GMT
خیبرپختونخوا کے ضلع صوابی کے علاقے زروبی میں جائیداد کے تنازع پر نامعلوم افراد نے ماں کو گھر میں جبکہ دو بیٹوں کو قتل کردیا۔
تفصیلات کے مطابق صوابی کے علاقے زروبی میں ماں کو گھر کے اندر جبکہ اس کے دو بیٹوں کو کھیتوں میں تھریشر کے دوران فائرنگ کر کے قتل کر دیا گیا۔
پولیس تھانہ ٹوپی کی رپورٹ کے مطابق اے ایس آئی ثاقب خان نے ایف آئی آر درج کراتے ہوئے بتایا کہ تھانہ ٹوپی کو اطلاع ملی کہ موضع زروبی کے ونڈ لنڈے ڈب میں واقع کھیتوں میں دو افراد کی قتل شدہ لاشیں پڑی ہیں۔
جب وہ پولیس پارٹی کے ہمراہ جائے وقوعہ پر پہنچے تو وہاں دو لاشیں پڑی تھیں، جن کی شناخت محمود الحسن اور تیمور پسران سلطان غالب ساکنان زروبی کے ناموں سے ہوئی۔
جائے وقوعہ کے قریب مقتولین کے گھر میں ان کی والدہ کی لاش بھی پڑی تھی، تینوں ماں بیٹوں کو نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے قتل کر دیا تھا، وجہ قتل اور ملزمان فوری طور پر معلوم نہیں ہو سکے تاہم پولیس زرائع کے مطابق مبینہ طور پر دونوں مقتولین بھائیوں کو ماں سمیت ان کے چچا نے قتل کیا ہے۔
پولیس کے مطابق مقتولین کا جائیداد کا تنازع چل رہا تھا۔ پولیس نے نامعلوم افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کر کے تفتیش شروع کر دی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان کے مطابق ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کیلئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔ اسلام ٹائمز۔ وفاقی تحقیقات ادارے ایف آئی ای نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔ ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔ انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے نے کہا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔ بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لئے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔