پاکستان کا آئندہ 10سالہ 2025سے 2034 تک کیلئے بجلی کا منصوبہ تیار کرلیا گیا ہے
اشاعت کی تاریخ: 1st, May 2025 GMT
اسلام آباد ( اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ آئی پی اے ۔یکم مئی 2025ء ) وفاقی وزیر توانائی سردار اویس لغاری نے کہا ہے کہ پاکستان کا آئندہ 10سالہ 2025 سے 2034 تک کیلئے بجلی کا منصوبہ تیار کرلیا گیا ہے،یہ منصوبہ سستی پائیدار اور ملکی وسائل پر مبنی توانائی کی طرف فیصلہ کن قدم ہے، منصوبے سے بجلی صارفین کو10 سالوں میں 4743 ارب روپے کی بچت ہوگی۔ انہوں نے ایکس پر اپنے ویڈیو پیغام میں بتایا کہ آج وزیراعظم نے پاورڈویژن کی منسٹری کی طرف سے آئندہ 10سال میں بجلی خریدنے کی منصوبہ بندی پیش کی گئی، جس کو وزیراعظم نے منظور کیا۔
منصوبہ کے تحت بجلی صارفین آئندہ دس سالوں میں 4743 ارب روپے مہنگی بجلی خریدتا لیکن ہم نے بچت کی۔ اگلے دس سالوں میں ہم 15ہزار میگاواٹ بجلی خریدنے جارہے تھے، جس میں 7000 ہزار میگاواٹ مہنگی بجلی خریدنے جارہے تھے لیکن 7ہزار میگاواٹ مہنگی بجلی کے پلانٹ کو فارغ کردیاگیا، تاکہ صارفین کی جیب پر مالی بوجھ نہ پڑے۔(جاری ہے)
انہوں نے کہا کہ ہم نے دو مزید اصولی فیصلے کئے ہیں۔
ان اصولی فیصلوں کے تحت حکومت آئندہ بجلی کی خریدار نہیں ہوگی، بلکہ مارکیٹ کے ذریعے بجلی کی خریدوفروخت کی جائے گی۔ آئندہ جتنی بھی بجلی لی جائے گی ، اس میں کوئی بھی بجلی کی لاگت سے زیادہ ٹیرف نہیں ہوگا، بجلی کی خریداری بولی لگا کر خریدی جائے گی۔ اس وقت بجلی کے جتنے پلانٹ لگ رہے اور لگ چلے ہیں، اس کو بھی ہم نے تبدیل کیا ہے۔اس سے صارفین کو 2790 ارب کا فائدہ پہنچے گا۔ آئی پی پیز کے کنٹریکٹ کو ریویو کرنے کا عمل جو ہوا۔ یہ اس سے بھی زیادہ عمل ہے۔ آئندہ ہر حکومت اس منصوبہ بندی کی پابند ہوگی اورخود بجلی کی خریداری نہیں کرسکے گی۔ شفافیت اور میرٹ، پاکستان کی توانائی کا نیا اصول ہے، اب بجلی کے منصوبے صرف قومی مفاد کو سامنے رکھ کر بنیں گے۔ منصوبے آدھے اور فائدہ دوگنا ہوگا، ملکی وسائل کو ترجیح دے کر بجلی کے نظام میں بہتری لائیں گے۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے بجلی کے بجلی کی
پڑھیں:
روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران کریملن کے ترجمان کا کہنا تھا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ روس یوکرین تنازع کے حل کے لیے مذاکرات پر آمادہ ہے، تاہم یورپی ممالک کی جانب سے کیف حکومت کی مسلسل حوصلہ افزائی کے باعث روس اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے ہوئے ہے۔ روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران دیمتری پیسکوف نے کہا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ روسی افواج خصوصی فوجی آپریشن کے دوران مثبت پیش رفت حاصل کر رہی ہیں اور میدانِ جنگ میں صورتحال حوصلہ افزا ہے۔
کریملن کے ترجمان نے بتایا کہ یوکرین کے معاملے پر روس اور امریکا کے درمیان رابطے برقرار ہیں، تاہم اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ تنازع کے حل کی کوششوں میں کوئی نمایاں پیش رفت یا تیزی آئی ہے۔ دیمتری پیسکوف نے کہا کہ موجودہ ورکنگ چینلز کے ذریعے امریکا کے ساتھ رابطے جاری ہیں اور امید ہے کہ امریکی مذاکرات کار اپنی مصروفیات مکمل ہونے کے بعد ماسکو کا دورہ کریں گے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا جا سکے۔
جوہری عدم پھیلاؤ کے حوالے سے روس کے مؤقف پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماسکو جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کی روک تھام کے اصول پر قائم ہے، تاہم ہر ملک کو پُرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہونا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ روس کا مؤقف جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ سے متعلق ہے، جبکہ ایران، سعودی عرب اور دیگر ممالک کو پُرامن جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہے اور اس حق کی ضمانت دی جانی چاہیے۔