آزادی صحافت کی راہ میں رکاؤٹیں حائل کی جا رہی ہیں، بی یو جے
اشاعت کی تاریخ: 3rd, May 2025 GMT
احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے بی یو جے کے صدر خلیل احمد نے کہا کہ پیکا جیسے متنازع کالے قانون کے ذریعے صحافیوں کو آزادی اظہارِ رائے جیسے بنیادی آئینی حق سے محروم کیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ پریس کلب کے صدر عرفان سعید اور بلوچستان یونین آف جرنلسٹس کے صدر خلیل احمد کے کہنا تھا کہ بلوچستان میں صحافیوں کے بڑھتے ہوئے مسائل کے حل پر کوئی توجہ نہیں دی جا رہی ہے اور کروڑوں روپے سرکاری اشتہارات وصول کرنے والے ٹی وی چینلز اور اخبارات کے مالکان اپنے ورکرز کا اس حد تک استحصال کر رہے ہیں کہ انہیں حکومت کی مقرر کردہ کم سے کم اجرت کی پالیسی کے تحت تنخواہیں بھی ادا نہیں کر رہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ میں عالمی یوم آزادی صحافت کے موقع پر برآمد ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ریلی کا انعقاد بلوچستان یونین آف جرنلسٹس کی کال پر آزادی اظہار رائے، صحافیوں کے حقوق اور آزادی صحافت کو درپیش خطرات کے خلاف کوئٹہ پریس کلب سے برآمد کی گئی۔ جس میں ٹی وی چینلز، اخبارات اور ڈیجیٹل میڈیا سے وابستہ صحافیوں نے شرکت کی۔ احتجاجی ریلی عدالت روڈ سے ہوتی ہوئی میونسپل کارپوریشن کے احاطے میں پہنچی جہاں احتجاجی مظاہرے کا بھی انعقاد کیا گیا۔
احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے صحافی انتہائی نامساعد حالات میں اپنی جانیں داو پر لگا کر اپنے فرائض ادا کر رہے ہیں، مگر صوبے میں نہ انہیں، اور نہ ان کے روزگار کو کوئی تحفظ حاصل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ میڈیا ورکرز کی تشویش میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آزادی صحافت کی راہ میں منظم سوچ کے تحت رکاؤٹیں حائل کی جا رہی ہیں اور پیکا جیسے متنازع کالے قانون کے ذریعے صحافیوں کو آزادی اظہارِ رائے جیسے بنیادی آئینی حق سے محروم کیا گیا ہے۔ مقررین نے کوئٹہ میں ٹی وی چینلز کے بیورو آفسز کی بندش اور بلاوجہ عملے کی برطرفی کے تسلسل کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور مطالبہ کیا کہ صحافیوں کے تحفظ اور آزادی صحافت کو آئینی و قانونی تحفظ فراہم کرنے کے لئے سنجیدہ اور دور روس نتائج کے حامل اقدامات کیے جائیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: آزادی صحافت
پڑھیں:
’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
پاکستان کے معروف ریپر اور گلوکار طلحہ انجم نے نئی دہلی میں تعلیمی نظام کے خلاف احتجاج کرنے والے بھارتی طلبا سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے ان کے حوصلے اور ثابت قدمی کو سراہا ہے۔ انہوں نے طلبا پر ہونے والی پولیس کارروائی کے بعد ایک پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کے غصے اور احساسات کو بخوبی سمجھتے ہیں۔
طلحہ انجم نے اپنی انسٹاگرام اسٹوری پر بھارتی طلبا کے احتجاج کی ایک ویڈیو شیئر کی، جس میں مظاہرین پر آنسو گیس اور لاٹھی چارج ہوتے دکھایا گیا۔ ویڈیو کے ساتھ انہوں نے لکھا کہ ’بھارت کے طلبا مظاہرین کے نام، مجھے آپ کی ثابت قدمی کا بے حد احترام ہے، میں آپ کی مایوسی اور غصے کو سمجھ سکتا ہوں، اور یہ بھی جانتا ہوں کہ آپ کے ساتھ کیا کیا جا رہا ہے، مضبوط رہیں۔‘
طلحہ انجم پاکستان کے سب سے زیادہ سنے جانے والے موسیقاروں میں شمار ہوتے ہیں اور اسٹریمنگ پلیٹ فارم اسپاٹیفائی پر ان کی مقبولیت کئی ریکارڈ قائم کر چکی ہے۔ بھارت میں بھی ان کے مداحوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔ گزشتہ برس نیپال میں ایک کنسرٹ کے دوران ایک مداح کی جانب سے بھارتی پرچم پیش کیے جانے پر وہ خبروں میں آئے تھے، بعد ازاں انہوں نے پاکستان میں اس معاملے پر وضاحت بھی کی تھی۔
سماجی اور انسانی مسائل پر کھل کر مؤقف اختیار کرنے والے طلحہ انجم اس سے قبل بھی کئی معاملات پر آواز بلند کر چکے ہیں۔ اپریل میں صومالیہ کے ساحل کے قریب قزاقوں کے قبضے میں جانے والے پاکستانی ملاحوں کی رہائی کے لیے انہوں نے حکومت سے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا تھا اور وزارتِ خارجہ سے متاثرہ خاندانوں کے لیے مستقل ہیلپ لائن قائم کرنے کی اپیل بھی کی تھی۔
دوسری جانب بھارت میں تعلیمی امتحانات کے مبینہ پیپر لیکس کے خلاف احتجاج کا سلسلہ گزشتہ ماہ سے جاری ہے۔ کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کے پلیٹ فارم سے ہونے والے اس دھرنے میں طلبہ وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے اور تعلیمی نظام میں اصلاحات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ حالیہ دنوں پارلیمنٹ کی جانب مارچ کی کوشش کے دوران پولیس نے مظاہرین کو روکنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا، جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے۔