موجودہ صورتحال کے پیش نظر عمر عبداللہ نے سرینگر میں آج ایک ایمرجنسی کابینہ میٹنگ بلائی
اشاعت کی تاریخ: 7th, May 2025 GMT
میٹنگ میں کابینی وزراء تبادلہ خیال کرکے یہ طے کرینگے کہ پاکستان سے بدلہ لینے کے درمیان جموں و کشمیر کی عوام کو محفوظ کیسے رکھا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت کے "آپریشن سندور" کے بعد جموں و کشمیر کے وزیراعلٰی عمر عبداللہ نے آج سرینگر میں ایک ایمرجنسی کابینہ میٹنگ بلائی ہے، جس کی انہوں نے خود صدارت کی۔ اس سے پہلے 10 بجے انہوں نے افسران کے ساتھ ریویو میٹنگ کی۔ وزیراعلٰی عمر عبداللہ کے ذریعہ بلائی گئی اس اہم میٹنگ میں پاکستان سے متصل علاقوں میں موجودہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ یہاں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور وہاں چل رہی فوجی کارروائی کے درمیان موجودہ صورتحال پر جموں و کشمیر وزیراعلٰی عمر عبداللہ کی نظر ہے۔
جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کے آفیشیل سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پوسٹ کرکے لکھا گیا کہ سرحد اور ایل او سی علاقوں میں صورتحال کا جائزہ لینے کے لئے ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ کی صدارت کی۔ انہوں نے افسران کو شہری سکیورٹی کو ترجیح دینے، بنیادی ڈھانچے کو بڑھانے اور کسی بھی ابھرتے ہوئے چیلنجز کے لئے فوری، مربوط جواب کو یقینی بنانے کی ہدایت دی گئی۔ کابینہ کی ایمرجنسی میٹنگ جموں و کشمیر کی سکیورٹی کے پیش نظر رکھی گئی۔ اس میٹنگ میں کابینی وزراء تبادلہ خیال کرکے یہ طے کریں گے کہ پاکستان سے بدلہ لینے کے درمیان جموں و کشمیر کی عوام کو محفوظ کیسے رکھا جائے۔ اس کے لئے کیا کیا اقدامات کئے جاسکتے ہیں۔ بہرحال کابینہ کیا فیصلہ لیتی ہے، یہ میٹنگ کے بعد ہی پتہ چل سکے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: عمر عبداللہ
پڑھیں:
آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
اسلام آباد: پی ایس ڈی پی 2026-27 کے تحت وفاقی حکومت نے آزاد جموں و کشمیر میں ترقیاتی، تعلیمی، صحت، توانائی، مواصلات اور بنیادی ڈھانچے کے مختلف منصوبوں کے لیے 54 ارب 17 کروڑ 37 لاکھ روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق جاری ترقیاتی منصوبوں کے لیے 43 ارب 10 کروڑ 54 لاکھ روپے جبکہ نئے منصوبوں کے لیے 3 ارب 94 کروڑ 45 لاکھ روپے سے زائد فنڈز رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ آزاد کشمیر بلاک ایلوکیشن کے لیے 33 ارب روپے اور وزیراعظم کے خصوصی ترقیاتی پیکج کے لیے 5 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پی ایس ڈی پی 2026-27 میں تعلیمی شعبے کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے۔ آزاد کشمیر کے چار اضلاع میں دانش سکولوں کے قیام اور توسیع کے منصوبوں کے لیے 6 ارب 27 کروڑ روپے سے زائد فنڈز تجویز کیے گئے ہیں۔ ضلع باغ کے ہاڑی گہل میں دانش سکول کے لیے 2 ارب 14 کروڑ روپے، بھمبر میں 60 کروڑ روپے، وادی نیلم کے شاردا میں ایک ارب 55 کروڑ روپے جبکہ حویلی کہوٹہ میں دانش سکول کے قیام کے لیے 2 ارب 9 کروڑ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
توانائی کے شعبے میں جگراں-II ہائیڈرو پاور منصوبے کے لیے ایک ارب 14 کروڑ 94 لاکھ روپے، شاردا-II منصوبے کے لیے 10 کروڑ روپے اور نگدر ہائیڈرو پاور منصوبے کے لیے 30 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔ دواریاں ہائیڈرو پاور منصوبہ بھی ترقیاتی پروگرام میں شامل ہے۔
بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لیے آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کمپلیکس، رٹھوعہ ہریام پل اور نوسیری لیسوا بائی پاس روڈ سمیت متعدد منصوبوں کے لیے فنڈز رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
صحت کے شعبے میں میرپور، مظفرآباد اور راولاکوٹ کے میڈیکل کالجوں کے انفراسٹرکچر اور سہولیات کی بہتری کے لیے کروڑوں روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ میرپور واٹر سپلائی و سیوریج اسکیم، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ اور ایل او سی متاثرین کی بحالی کے منصوبوں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
دستاویزات کے مطابق آزاد کشمیر میں لینڈ ریکارڈ کمپیوٹرائزیشن، آسان خدمت مرکز مظفرآباد، کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کی استعداد کار میں اضافے اور گورنمنٹ کالجز آف ٹیکنالوجی کے قیام کے منصوبوں کے لیے بھی فنڈز تجویز کیے گئے ہیں۔
حکومت نے آئندہ مالی سال کے ترقیاتی پروگرام میں تعلیم، صحت، توانائی، سڑکوں کے انفراسٹرکچر اور شہری سہولیات کے منصوبوں کو خصوصی ترجیح دی ہے۔