وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے تعلیمی اداروں سے متعلق اہم اعلان سامنے آگیا
اشاعت کی تاریخ: 7th, May 2025 GMT
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں کل سکول معمول کے مطابق کھلے رہیں گے۔
ڈپٹی کمشنر آفس اسلام آباد کی طرف سے اعلان میں کہا گیا ہے کہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں کل 8 مئی کو تمام تعلیمی ادارے معمول کے مطابق کھلے رہیں گے۔
قبل ازیں پاک بھارت کشیدگی کی صورتحال میں وار بک کے مطابق ڈی سی اسلام آباد کی زیرصدارت ایک اعلیٰ سطحی اجلاس یوا جس میں تمام سرکاری و نجی اسپتالوں، ریسکیو 1122، سول ڈیفنس، پولیس، اسپیشل برانچ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے نمائندے شریک ہوئے۔
اجلاس میں تمام اداروں کو وار بک رولز کے تحت کسی بھی قسم کی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیاریاں مکمل کرنے کی ہدایت کی گئی جبکہ اداروں کی باہمی کوآرڈینیشن کے لیے لائحہ عمل بھی تیار کر لیا گیا۔
واضح رہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کے پیش نظر وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے تعلیمی ادارے آج بند رکھنے کا اعلان کیا گیا تھا۔
ضلعی انتظامیہ اسلام آباد کی جانب سے تعلیمی اداروں کو بند رکھنے کا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں پاک بھارت کشیدگی: پنجاب کے تعلیمی ادارے آج بند رکھنے کا اعلان، صوبے میں ہنگامی حالت نافذ
نوٹیفکیشن میں کہا گیا تھا کہ سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر آج نجی و سرکاری اسکولز و کالجز بند رہیں گے، تاہم امتحانات شیڈول کے مطابق منعقد کیے جائیں گے۔
واضح رہے کہ بھارت کی جانب سے پاکستان پر میزائل حملوں کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی بڑھ گئی ہے۔ بھارتی جارحیت کے باعث پاکستان کے 8 معصوم شہری شہید جبکہ 33 زخمی ہوگئے۔
یہ بھی پڑھیں پاک فوج کا بھارت کو منہ توڑ جواب، 5 جنگی طیارے اور بریگیڈ ہیڈکوارٹر تباہ
پاکستان نے بھرپور جوابی کارروائی کرتے ہوئے دشمن کے 5 جہاز مار گرائے ہیں، جبکہ انڈین بریگیڈ ہیڈکوارٹر بھی تباہ کردیا گیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسکولز اسلام اباد پاک بھارت کشیدگی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسکولز اسلام اباد پاک بھارت کشیدگی وفاقی دارالحکومت اسلام اسلام آباد کے مطابق اسلام ا
پڑھیں:
حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء) حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا ، مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے ۔ تازہ ترین حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ایف بی آر کی ٹیکس وصولیاں نظرثانی شدہ اہداف کے مطابق جاری ہیں۔ مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد کے مطابق 864 ارب روپے کے ٹیکس شارٹ فال کا تاثر ابتدائی 14 ہزار 130 ارب روپے کے ہدف کی بنیاد پر دیا جا رہا ہے جو گمراہ کن ہے۔معاشی حالات میں تبدیلی کے بعد آئی ایم ایف کی مشاورت سے ریونیو ہدف تقریباً 13 ہزار ارب روپے تک ایڈجسٹ کیا گیا۔ مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مہنگائی،درآمدات اور عالمی صورتحال میں تبدیلی کے باعث اہداف پر نظرثانی معمول کا مالی عمل ہے، نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کیتحت ایف بی آر کی کارکردگی مضبوط،11 ماہ کا تقریباً مکمل ہدف حاصل کیا گیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا جبکہ مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے۔(جاری ہے)
مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مئی میں ایف بی آر نے ماہانہ ہدف کا 97 فیصد جبکہ 11 ماہ کے ہدفکا 99.8 فیصد حاصل کیا، موجودہ کارکردگی ریونیو بحران یا بڑے ٹیکس شارٹ فال کے دعوؤں کی نفی کرتی ہے، جون 2026 کا 1 ہزار 727 ارب ریونیو ہدف 15 فیصد اضافے کے ساتھ نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کے مطابق قابل حصول ہے، کاروباری طبقے اور سرمایہ کار غیر معمولی ٹیکس اقدامات سے متعلق قیاس آرائیوں پر توجہ نہ دیں، مالی معاملات پر تبصرہ پرانے اہداف کے بجائے موجودہ معاشی حقائق اور درست اعداد و شمار پر ہونا چاہیے۔