پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں زبردست تیزی,100 انڈیکس میں 1800 پوائنٹس سے زائد کا اضافہ
اشاعت کی تاریخ: 8th, May 2025 GMT
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروباری دن کا آغاز مثبت رجحان کے ساتھ ہوا ہے۔ ٹریڈنگ کے ابتدائی اوقات میں ہی مارکیٹ میں زبردست تیزی دیکھی گئی اور 100 انڈیکس میں 1800 پوائنٹس سے زائد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ تازہ اعداد و شمار کے مطابق 100 انڈیکس 1 لاکھ 11 ہزار 800 پوائنٹس کی سطح پر پہنچ گیا ہے جو کہ سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافے اور مارکیٹ میں بحالی کے رجحان کا مظہر ہے۔ ماہرین کے مطابق، یہ اضافہ ملکی معاشی اشاریوں میں بہتری، سیاسی استحکام کی توقعات اور مالیاتی پالیسی میں ممکنہ نرمی کی توقعات کا نتیجہ ہے۔ سرمایہ کاروں کی دلچسپی بڑھنے سے مارکیٹ میں خریداری کا رجحان نمایاں رہا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
اسلام آباد: مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جہاں برینٹ کروڈ پہلی بار 100 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر گیا، جبکہ امریکی خام تیل بھی 90 ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچ گیا۔
تازہ عالمی مارکیٹ رپورٹس کے مطابق خطے میں جاری غیر یقینی صورتحال اور سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں کے خدشات نے خام تیل کی قیمتوں کو نئی بلند ترین سطح پر پہنچا دیا ہے۔
ماہرین توانائی کا کہنا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ کی صورتحال مزید کشیدہ ہوئی اور تیل کی ترسیل متاثر ہوئی تو برینٹ کروڈ کی قیمت 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔
تیل کی قیمتیں کیوں بڑھ رہی ہیں؟
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران سے تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات، بحیرہ احمر میں حوثیوں کی جانب سے بحری سرگرمیوں میں رکاوٹ اور اہم تجارتی راستوں پر بڑھتے ہوئے خطرات نے عالمی توانائی مارکیٹ کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے اہم آئل ٹرمینل جزیرہ خارگ کو کسی بھی ممکنہ نقصان یا تیل کی صنعت میں ہڑتال کی صورت میں عالمی سطح پر سپلائی مزید متاثر ہو سکتی ہے، جس سے قیمتوں میں مزید تیزی آنے کا امکان ہے۔
پاکستان پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟
توانائی ماہرین کے مطابق اگر عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت اسی رفتار سے بڑھتی رہی تو پاکستان میں بھی پیٹرول، ڈیزل اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات مزید مہنگی ہونے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ ٹرانسپورٹ، بجلی کی پیداوار، صنعتی لاگت اور مہنگائی پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ عالمی تیل منڈی میں جاری غیر یقینی صورتحال برقرار رہی تو نہ صرف توانائی کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں بلکہ عالمی معیشت اور سپلائی چین بھی شدید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔