عمران خان سے ملنے نہ دیا تو مریم نواز بھی کے پی میں اپنے گھر نہیں جا سکیں گی، گنڈاپور کی دھمکی
اشاعت کی تاریخ: 8th, May 2025 GMT
راولپنڈی:
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے دھمکی دی ہے کہ انہیں عمران خان سے ملنے نہ دیا گیا تو مریم نواز بھی کے پی میں اپنے گھر نہیں جا سکیں گی۔
بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات کے لیے اڈیالہ جیل جاتے ہوئے روکے جانے پر ایکسپریس سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے کہا کہ عدالت نے مجھے توہین عدالت کے کیس میں ملاقات کی اجازت دی ہے، اگر ملنے نہیں دیا جاتا تو دوبارہ توہین عدالت کی درخواست دائر کروں گا۔
انہوں نے کہا کہ میں صوبے کے سارے کام چھوڑ کر ملاقات کے لیے آیا ہوں۔ ملک میں قانون نام کی کوئی چیز نہیں۔ مجھے عمران خان سے ملاقات کی سب سے کم اجازت دی جاتی ہے جب کہ بانی پی ٹی آئی نے مجھے ملاقات کے لیے پیغام بھجوایا تھا۔
علی امین گنڈاپور کا کہنا تھا کہ مجھے عمران خان سے ملنے نہیں دیا گیا تو وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز بھی کے پی کے میں اپنے گھر نہیں جا سکتیں۔
واضح رہے کہ آج اڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات کا دن ہے اور ان سے ملنے کے لیے ایم پی اے سہیل آفریدی، ایم این اے شاہد خٹک، محسن جتوئی اور دیگر رہنما گورکھ پور ناکا پہنچے جب کہ کچھ رہنما اڈیالہ جیل پہنچے اور اپنے نام کا اندراج کروایا۔
اسی دوران وزیراعلیٰ کے پی کے علی امین گنڈاپور کو گورکھ پور ناکے پر روک لیا گیا، جہاں ان کے ساتھ پولیس کے مذاکرات بھی ہوئے۔ علی امین گنڈاپور نے پروٹوکول سے ہٹ کر پیدل جیل کی جانب جانے کی کوشش کی اس موقع پر پولیس اہل کاروں کے ساتھ ان کا سخت جملوں کا بھی تبادلہ ہوا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: علی امین گنڈاپور کے لیے
پڑھیں:
سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
فائل فوٹوسپریم کورٹ نے اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا۔
کیس کی سماعت جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی، جسٹس عرفان سعادت نے کہا کہ درخواست 25 دن تاخیر سے دائر کی گئی۔
پشاور ہائیکورٹ فیصلے پر توہین عدالت کی درخواست شہداء کےلواحقین کی جانب سے دائر کی گئی تھی، پشاور ہائیکورٹ نے توہین عدالت کی درخواست خارج کردی تھی۔
درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ شہداء کے لواحقین کو اعلان کردہ پیکیج نہیں ملا۔
جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ اگر کوئی پیکیج ملا ہے تو سب کو دیں، وفاقی حکومت بتائے کہ پشاور ہائیکورٹ فیصلے پر عملدرآمد ہوا یا نہیں۔
کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کردی گئی۔