کوئی بیرونی دباؤ قبول نہیں، قوم مطمئن رہے، بھارت کو جواب دینے کیلئے 200 فیصد تیار ہیں، وزیر دفاع
اشاعت کی تاریخ: 9th, May 2025 GMT
کوئی بیرونی دباؤ قبول نہیں، قوم مطمئن رہے، بھارت کو جواب دینے کیلئے 200 فیصد تیار ہیں، وزیر دفاع WhatsAppFacebookTwitter 0 9 May, 2025 سب نیوز
اسلام آباد(آئی پی ایس) وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ پاکستان کوئی بیرونی دباؤ قبول نہیں کرے گا، قوم مطمئن رہے، جواب دینے کے لیے 200 فیصد تیار ہیں، پاکستان اپنی جوابی کارروائی میں بھارت کے سویلینز کو نشانہ نہیں بنائے گا، ہم صرف فوجی تنصیبات پر حملے کریں گے۔
تفصیلات کے مطابق قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بھارتی میڈیا میں جھوٹ کا سیلاب آیا ہوا ہے، بھارت نے جس طرح ذلت اٹھائی، انہوں نے اپنے عوام کو مطمئن کرنا ہے، بھارت اپنے عوام کو یہ تو نہیں بتائے گا کہ سب جگہ ہمیں مار پڑ رہی ہے۔
خواجہ آصف نے کہا کہ اسرائیل اور بھارت کا اتحاد فطری ہے، دونوں اسلام مخالف ہیں، ان کی اسلام دشمنی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔
وزیر دفاع نے کہا کہ دوست ملک کھل کرپاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں، ترکیہ اور آٓذربائیجان نے کھل کر پاکستان کی حمایت کی ہے، بھارت کے قریب ترین حلیف بھی اس کاساتھ نہیں دے رہے، پاک فوج لائن آف کنٹرول (ایل او سی) اور سرحد پر دشمن کا بھرپور مقابلہ کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ مسلح افواج کی بھرپور جوابی کارروائی اس وقت بھی جاری ہے، ہم اس قت دنیا کے تمام ضروری ممالک کے ساتھ رابطے میں ہیں، خلیجی ممالک کے ساتھ روزانہ کی بنیاد پر رابطے میں ہیں، نائب وزیراعظم کا سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور چین کے ساتھ روزانہ کی بنیاد پر رابطہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ سفارتی کوششوں کو مزید تیز کر کے مؤثر بنانے کی ضرورت ہے، اب تک ایک سے دو ممالک نے ہلکی پھلکی حمایت کی ہے، ہمارے دوست بالکل صراحت کے ساتھ اس وقت پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں۔
وزیر دفاع نے کہا کہ اسرائیل کا بھارت کے ساتھ کھڑا ہونا فطری عمل ہے، ان دونوں ممالک کی اسلام دشمنی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے۔
خواجہ آصف نے کہا کہ مدارس اور اس کے طلبہ ہماری ثانوی دفاعی لائن ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کل سے شروع کیے گئے ڈرون حملے ہماری اہم لوکیشنز لینے کے لیے کیے گئے تھے، ڈرون حملوں کو انٹرسیپٹ اس لیے نہیں کیا گیا تاکہ ہماری لوکیشنز ٹریس نہ ہوں، جب ڈرونز مناسب فاصلے پر آئے تو انہیں مار گرایا۔
خواجہ آصف نے مزید کہا کہ اب بھی جوابی کارروائی رات دن جاری ہے، اس وقت ہماری افواج بہترین پوزیشن میں ہیں، پاکستانی افواج بہادری سے ملک کا دفاع کر رہی ہیں۔ قوم مطمئن رہے، ہم اپنے دفاع کے لیے 200 فیصد تیار ہیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبریہ وقت ملک کے دفاعی اداروں کو مضبوط کرنے کا ہے، ملکی وحدت کیلئے ہم ایک ہیں: مولانافضل الرحمان پاک فوج کا دندان شکن جواب، بھارتی فوج پسپا، سفید جھنڈا لہرایا بھارت کی ایل او سی پر گولہ باری، 5شہری شہید، پاک فوج کی جوابی کارروائی سے کئی پوسٹیں تباہ ایسی جنگ میں مداخلت نہیں کریں گے جس سے ہمیں فائدہ نہ ہو، امریکی نائب صدر کا دو ٹوک بیان پاک فوج نے بھارت کے مزید 6 اسرائیلی ساختہ ڈرون مار گرائے ایسا سوچنا بھی نہیں چاہیے تھا کہ پاکستان حملے پر جوابی ردعمل نہیں دے گا، سفیر رضوان سعید سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر 9 مئی کو شیڈول کیمبرج امتحانات منسوخCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: جوابی کارروائی انہوں نے کہا کہ فیصد تیار ہیں قوم مطمئن رہے خواجہ ا صف نے وزیر دفاع بھارت کے پاک فوج کے ساتھ کے لیے
پڑھیں:
سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
پاکستان نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی آئل ٹینکر پر حملے اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی کو درپیش خطرات کی پرزور الفاظ میں مذمت کی ہے اور سعودی عرب کی سلامتی و خودمختاری کے لیے اپنی مکمل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کو سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ٹیلی فونک رابطہ کر کے بحرِ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حوثی ملیشیا کے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔وزیراعظم نے حملے کو بزدلانہ اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ ”ایسے اقدامات قطعی ناقابلِ قبول ہیں. یہ بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں، جہاز رانی اور تجارتی نقل و حمل کی آزادی کے لیے خطرہ ہیں اور علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچاتے ہیں“۔وزیراعظم نے سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں خود، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور پوری پاکستانی قوم اس نازک وقت میں سعودی قیادت اور مملکت کے برادر عوام کے ساتھ مضبوطی اور عزم کے ساتھ کھڑے ہیں۔انہوں نے مزید یقین دہانی کرائی کہ پاکستان مملکت سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کرتا ہے اور بحرِ احمر، آبنائے ہرمز اور خطے میں سمندری تجارت کی روانی کو یقینی بنانے کے لیے عالمی برادری اور سعودی عرب کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا۔گفتگو کے دوران سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے پاکستان کی اس مستقل حمایت اور دونوں ممالک کے درمیان قائم قریبی برادرانہ تعلقات کی تعریف کی۔ اس موقع پر وزیراعظم پاکستان نے خادمِ حرمین شریفین، شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے لیے بھی نیک خواہشات اور خیر سگالی کے جذبات کا اظہار کیا۔
دوسری جانب، دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”گزشتہ ہفتے بھی حوثیوں کی جانب سے حملہ کیا گیا تھا. جس کی وزیراعظم پاکستان نے فوری مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا تھا“۔طاہر اندرابی نے کہا کہ ہمارے بحری جہازوں پر حملہ ریڈلائن ہوگی. ہم سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور سعودی عرب کے ساتھ تمام معاہدوں کی پاسداری کریں گے۔انہوں نے خبردار کیا کہ یمن کے مسلح گروہوں کی جانب سے سعودی عرب پر ایسے حملے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں، اس لیے پاکستان تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور مسائل کا پرامن حل سفارتی راستے سے نکالنے کی اپیل کرتا ہے۔خطے میں امن قائم کرنے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان نے اپنی سفارتی رفت و آمد میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔ترجمان کے مطابق حال ہی میں ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے پاکستان کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے وزیراعظم، فیلڈ مارشل اور وفاقی وزیر داخلہ سمیت اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کیں تاکہ علاقائی سیکیورٹی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔اس کے علاوہ پاکستان اور کویت کے وزرائے خارجہ کے درمیان رابطہ ہوا، جبکہ منیلا میں آسیان ریجنل فورم کے موقع پر نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مصر، عمان، فلپائن، روس اور بنگلہ دیش کے وزرائے خارجہ سے الگ الگ اہم ملاقاتیں کیں۔ان ملاقاتوں کی تفصیل بتاتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ ”مصر کے وزیر خارجہ سے ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے تمام ممالک کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کے احترام پر زور دیا، جبکہ عمان کے وزیر خارجہ نے خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور امن و استحکام کے لیے پاکستان کے سفارتی کردار کو سراہا“۔اس کے ساتھ ساتھ روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ خلیل الرحمان سے بھی باہمی تعلقات اور تعاون کو آگے بڑھانے پر بات چیت کی گئی۔ترجمان دفترِ خارجہ نے مزید بتایا کہ پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اب شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے وزرائے خارجہ کونسل اجلاس میں شرکت کے لیے بشکیک پہنچیں گے. جہاں ان کی کرغزستان کے صدر اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں متوقع ہیں۔ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند نے بھی حال ہی میں پاکستان کا دورہ کیا ہے، جو گزشتہ بیس سالوں میں کسی کینیڈین وزیر خارجہ کا پہلا دورہ تھا اور اس دوران دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کی مضبوطی کے لیے اعلیٰ سطح پر بات چیت کی گئی۔