کوئی ہمیں چیلنج کرے تو سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر دشمن پر غالب آتے ہیں، وزیراعظم کا قوم سے خطاب
اشاعت کی تاریخ: 10th, May 2025 GMT
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ کوئی ہمیں چیلنج کرے تو سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن جاتے ہیں اور کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے دشمن پر غالب آجاتے ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف نے قوم سے خطاب میں کہا کہ میں آج پاکستانیوں کو دل کی گہرائیوں سے سلام اور مبارکباد پیش کرتا ہوں کہ آپ نے دنیا پر یہ واضح کردیا ہے کہ پاکستانی ایک خوددار، باوقار اور غیرت مند قومی ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اپنی تقریر کا آغاز قرآن پاک کی آیت سے شروع کیا، جس کا ترجمہ ہے کہ ’اللہ کو وہ لوگ پسند ہیں جو اس کی راہ میں صف بند ہوکر لڑتے ہیں جیسے کہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہوں۔‘
شہباز شریف نے کہا کہ ہمارا وقار اور خودداری ہمیں جان سے بھی زیادہ عزیز ہے، کوئی ہمیں چیلینج کرے تو ہم اپنی سرزمین کے دفاع کے لیے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن جاتے ہیں اور کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے دشمن پر غالب آتے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: شہباز شریف نے
پڑھیں:
کشمیر کا وہ گاوٴں جس کے باسی فون چارج کرنے کے لیے 45 کلومیٹر دور جاتے ہیں
لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے نہایت قریب انڈیا کے زیرانتظام کشمیر کے ضلع کپواڑہ میں خوبصورت ہمالیائی پہاڑی سلسلے کے درمیان واقع ون دجی گاؤں کی 19 سالہ کلثومہ کے لیے جدید زمانہ صرف ایک محاورہ ہی ہے، کیونکہ ان کی زندگی قدیم انسانوں جیسی ہی ہے۔ون دجی گاؤں کی پانچ نسلوں نے آج تک بجلی کی روشنی نہیں دیکھی ہے اور نئی نسل بھی باورچی خانے میں چولہے کی آگ اور روشنی کے لیے مشعل کے دھویں میں پروان چڑھ رہی ہے۔اس گاؤں کو صدیوں سے بجلی کا انتظار ہے کیونکہ اسے ابھی تک بجلی کے گرڈ کے ساتھ نہیں جوڑا گیا ہے۔
ہم جدید دور کے قدیم انسان ہیں
ون دجی کی طرف جانے والے صرف راستے ہی دشوار نہیں ہیں، یہاں کی زندگی بھی مشکلات کے بیچ گھِری ہوئی ہے۔ دن بھر مشقت کے بعد جب شام ہوتی ہے، تو یہاں کے لوگ ایک نئی جدوجہد شروع کرتے ہیں۔کلثومہ کہتی ہیں کہ ’یہاں خواتین زیادہ پریشان ہیں، کیونکہ دن میں چولہے کا دھواں ہوتا ہے اور رات میں پڑھائی کے وقت مشعل کا دھواں انھیں بیمار کر دیتا ہے۔وہ کہتی ہیں کہ گاؤں سے باہر جاتے ہی انہیں احساس ہوتا ہے کہ وہ انسانی تہذیب کا حصہ نہیں ہیں۔جب ہم کپواڑہ مارکیٹ میں جاتے ہیں تو لوگوں کو سمارٹ فون پر مصروف پا کر ہمیں کمتری کا احساس ہوتا ہے، کسی رشتہ دار کے یہاں جاتے ہیں تو وہاں ہیٹر، بوائلر، گیزر وغیرہ دیکھ کر ہمیں لگتا ہے کہ ہمارے لیے وقت اُدھر ہی رُک گیا جب انسان آگ سے ہی کھانا پکاتا تھا اور آگ سے ہی رات میں روشنی کرتا تھا۔
’ہم جدید دور کے قدیم انسان ہیں۔‘