امریکہ نے ثالث کا کردار ادا کیا ،دونوں ممالک کا جنگ بندی کا فیصلہ دانشمندانہ ہے (ڈونلڈ ٹرمپ )مسائل سے بچنے کیلئے دونوں ممالک کے درمیان ہونیوالی میٹنگ میں ساری چیزوں پر بات کی جائیگی (شہباز شریف)

پاکستان، بھارت میں جنگ بندی ہوگئی، فوجی کارروائیاں روک دی گئی ہیں، پاک بھارت، ڈائریکٹر ملٹری آپریشنز آج بات چیت کریں گے (بھارتی سیکرٹری خارجہ) جن ممالک نے سیز فائر میں حصہ ڈالا ان کا مشکور ہوں(اسحق ڈار)

پاکستان اور بھارت جنگ بندی کیلئے تیار ہوگئے ، وزیراعظم شہباز شریف نے تصدیق کردی۔ ہفتے کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا سائٹ پر اعلان کیا کہ رات گئے فریقین کے ساتھ طویل بات چیت کے بعد پاکستان اور بھارت فوری جنگ بندی پر متفق ہوگئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک اور ان کے عوام کو مبارک باد دیتا ہوں، جنگ بندی کا اطلاق فوری طور پر ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کا جنگ بندی کا فیصلہ دانشمندانہ ہے جس کیلئے ثالث کا کردار امریکہ نے ادا کیا۔صدر ٹرمپ نے معاملے پر توجہ دینے اور معاملے کو سلجھانے پر فریقین کا شکریہ بھی ادا کیا۔ دوسری جانب نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے تصدیق کی کہ پاکستان اور بھارت دونوں نے سیز فائر کا فیصلہ کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ آگے چل کر دونوں ممالک میں میٹنگ ہوگی اس میں یہ ساری چیزیں پر بات چیت کی جائے گی تاکہ مسائل نہ پیدا ہوں۔دریں اثناء نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بھی پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ بندی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور بھارت نے فوری جنگ بندی پر اتفاق کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جنگ کسی چیز کا حل نہیں ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے کہا سیز فائر کیلئے تیارہیں اگر بھارت کوئی جارحیت کرے گا تو ہم جواب دیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ جن ممالک نے سیز فائر میں حصہ ڈالا ان کا مشکور ہوں، سارا دن سفارتی کوششیں چل رہی تھیں جس کے بعد اب سیز فائر پر اتفاق ہوا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اپنا بھرپور دفاع کیا، بھارت کو ردعمل بھی باوقار انداز میں دیا، پاکستان نے ہمیشہ خودمختاری اور علاقائی سالمیت پر سمجھوتہ کیے بغیر خطے میں امن کیلئے کوششیں کی ہیں۔علاوہ ازیں بھارتی سیکرٹری خارجہ وکرم مسری نے میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ پاکستان اور بھارت میں جنگ بندی ہوگئی ہے ، دونوں طرف سے فوجی کارروائیاں روک دی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے ڈائریکٹر ملٹری آپریشن (کل)12مئی کو بات چیت کریں گے ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے ڈی جی ایم ملٹری آپریشنز کے درمیان بات چیت ہوئی ہے ، دونوں اطراف نے بری، بحری اور فضائی فائر بندی پر اتفاق کیا ہے ۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

پڑھیں:

حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا

وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کا دن پاکستان میں لیبر مائیگریشن کے نظم و نسق کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ پالیسی ہر اس پاکستانی سے کیے گئے قومی عزم کی عکاس ہے جو بہتر مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ محفوظ اور منظم نقل مکانی، مہارتوں کی ترقی، کارکنوں کا تحفظ، تارکینِ وطن کی شمولیت اور وطن واپس آنے والوں کی بحالی اس پالیسی کے بنیادی ستون ہیں۔ تکنیکی جدت، آبادیاتی تبدیلیاں اور لیبر مارکیٹ کے بدلتے ہوئے تقاضے دنیا بھر کی معیشتوں کو نئی شکل دے رہے ہیں. اس لیے پاکستان کو اپنی افرادی قوت کو آج اور مستقبل دونوں کے مواقع کے لیے تیار کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 اس سمت میں ایک اہم قدم اور پاکستان کی افرادی قوت کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں سنگ میل ثابت ہوگی۔چوہدری سالک حسین نے کہا کہ ایک کروڑ 20 لاکھ پاکستانی دنیا بھر میں مقیم ہیں اور اپنی پیشہ ورانہ مہارت، دیانت داری اور محنت کی بدولت پاکستان کے سفیر بن چکے ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں سمندر پار پاکستانیوں نے 41 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی ترسیلاتِ زر وطن بھیجیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین رقم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے اور ان کی فلاح و بہبود ہماری قومی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی اداروں، تجربات اور شراکت داریوں کو ایک مشترکہ وژن کے تحت یکجا کرتی ہے تاکہ ہر پاکستانی کارکن نقل مکانی کے پورے سفر کے دوران بہتر طور پر تیار، محفوظ اور معاونت یافتہ ہو۔ اس پالیسی کا محور ہر اس پاکستانی کا سفر ہے جو مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے، جبکہ ذمہ داری روانگی سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے، جہاں نوجوان کارکنوں کو متعلقہ مہارتیں، قابلِ اعتماد معلومات اور اخلاقی بھرتی تک رسائی فراہم کی جائے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اس پالیسی کی کامیابی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، نفاذ کرنے والے اداروں، آجروں، تربیتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں، نجی شعبے اور سمندر پار پاکستانیوں کے باہمی تعاون سے مشروط ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں، آئی سی ایم پی ڈی (ICMPD)، دیگر ترقیاتی شراکت داروں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کا مشاورتی عمل میں تعاون پر شکریہ ادا کیا، جبکہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی مسلسل معاونت کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا کہ ہجرت یا نقل مکانی غیر یقینی کا سفر نہیں بلکہ مواقع، وقار اور قومی ترقی کا راستہ ہونا چاہیے۔ آئیں مل کر ایسا مستقبل بنائیں جہاں ہر پاکستانی اعتماد کے ساتھ بیرون ملک جائے، فخر کے ساتھ وطن واپس آئے اور ہمیشہ ایک ایسی قوم سے جڑا رہے جو اس کی خدمات کی قدر اور عزت کرتی ہو۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس وژن کو عوام کے لیے بامعنی ترقی، پاکستان کے لیے دیرپا خوشحالی اور ہر سمندر پار پاکستانی اور اس کے خاندان کے روشن مستقبل کا ذریعہ بنائے۔

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
  • حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان