سخت گیر جنرل عاصم منیر دو قومی نظریے پر پورا یقین رکھتے ہیں: برطانوی اخبار
اشاعت کی تاریخ: 11th, May 2025 GMT
سخت گیر جنرل عاصم منیر دو قومی نظریے پر پورا یقین رکھتے ہیں: برطانوی اخبار WhatsAppFacebookTwitter 0 11 May, 2025 سب نیوز
برطانوی اخبار ’’دی گارڈین‘‘کے مطابق بھارت کے حوالے سے عاصم منیر کی آئیڈیالوجی سخت گیر کے طور پر جانی جاتی ہے۔ وہ “دو قومی نظریے” پر پورا یقین رکھتے ہیں۔ اس نظریہ کے مطابق پاکستان کے مسلمان ہندوؤں کے ساتھ ایک ملک میں نہیں رہ سکتے۔ گزشتہ ماہ دیے گئے اپنے بیانات میں انہوں نے کہا کہ ہمارے مذاہب مختلف ہیں۔ ہماری ثقافتیں مختلف ہیں۔ ہماری روایات مختلف ہیں۔ ہمارے خیالات مختلف ہیں اور ہماری خواہشات مختلف ہیں۔
انہوں نے پڑوسی ممالک ایران اور افغانستان کی جانب سے اشتعال انگیزیوں اور مسلح سرگرمیوں کے خلاف بھی غیر مصالحانہ رویہ ظاہر کیا ہے اور گزشتہ سال دونوں ممالک کے خلاف سرحد پار انتقامی حملے کیے ہیں۔
دوسری جانب سابق چیف آف جنرل اسٹاف ریٹائرڈ جنرل محمد سعید نے کہا ہے کہ میں نے کئی سال ان کے ساتھ کام کیا ہے، اور میں جانتا ہوں کہ جنرل عاصم منیر ایک ایسے شخص ہیں جو ڈر سے ناواقف ہیں۔ حکومت نے انہیں بھارت کے خلاف جوابی کارروائی کا منصوبہ بنانے کی اجازت دے دی ہے لیکن وہ اکیلے فیصلہ نہیں کریں گے اور جب وہ منصوبہ بنائیں گے تو اپنی پوری طاقت سے داخل ہوں گے۔
بھارتی جرنیلوں کی جانب سے بھی پاکستانی فوج کے اہلکاروں کو نظم و ضبط اور اعلیٰ کارکردگی کا حامل سمجھا جاتا ہے۔ ییل یونیورسٹی میں سیاسیات کے مصنف اور پروفیسر سوشانت سنگھ، جنہوں نے بھارتی فوج میں بیس سال خدمات انجام دیں، نے کہا ہے کہ اصل مسئلہ اعلیٰ قیادت میں ہے۔ سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ پاکستانی اعلیٰ فوجی قیادت شدید طور پر سیاسی ہے اور اکثر آئیڈیالوجی، مذہبی قدامت پسندی یا حتیٰ کہ ذاتی خیالات سے متحرک ہو کر کام کرتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا ہے کہ جنرل عاصم منیر پر زبردست سیاسی دباؤ ہے۔ قیادت میں شامل دیگر رہنماؤں کی جانب سے بھی فوج کی ایک ادارے کے طور پر ساکھ بحال کرنے کے لیے سخت کارروائی کرنے کا دباؤ ہے۔
سورڈز” کے مصنف اور پاکستانی فوج کے امور کے ایک معروف ماہر شجاع نواز نے کہا ہے کہ موجودہ صورتحال میں جنرل عاصم منیر کے پاس تاخیر کی عیش و عشرت کرنے کی گنجائش نہیں ہے۔ انہیں فوری طور پر یہ ثابت کرنا ہوگا کہ فوج تیار ہے اور وہ ملک کا دفاع کرے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ جوہری تصادم کے خدشات پہلے کبھی اتنے زیادہ نہیں تھے۔ ۔ بھارت اور پاکستان طویل جنگیں نہیں لڑتے بلکہ مختصر جنگیں لڑتے ہیں۔ ہر فریق اپنے پاس موجود سب کچھ استعمال کرتا ہے۔ میرا سب سے بڑا خوف یہ ہے کہ پاکستان جسے ٹیکٹیکل نیوکلیئر ہتھیار کہتا ہے ان کا سہارا لے گا اور تب سب کچھ پھٹ جائے گا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرجنگ بندی کے باوجود پاکستان اور بھارت کے درمیان سندھ طاس معاہدہ معطل رہے گا، بھارتی عہدیدار جنگ بندی کے باوجود پاکستان اور بھارت کے درمیان سندھ طاس معاہدہ معطل رہے گا، بھارتی عہدیدار ہم نے پیغام دیا کہ نئی دہلی میں کچھ ڈیلیور بھی کرسکتے ہیں، وزیر دفاع پاکستان جنگ بندی معاہدے پر مکمل عملدر آمد کیلئے پرعزم ہے، ترجمان دفتر خارجہ امید ہے پاک بھارت جنگ بندی دیرپا ہوگی: پاکستانی ہائی کمشنر ڈاکٹر فیصل بھارت ناکام ہو گیا، پاکستانی افواج فاتح بن کر ابھریں، برطانوی صحافی بھارتی تکبر زمین بوس! آپریشن سندور کے نام سے شروع ہوا پاک فوج نے تندور بنایا اور پھر گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردیاCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
پڑھیں:
بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کی جانب سے بھارت کو مؤثر جواب دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بھارت خود امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ۔
قرارداد 2788 کے تناظر میں تنازعات کے پرامن حل پر مباحثے کے دوران پاکستان مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حق جواب میں کہا کہ ایک وفد نے تنازعات کے پُرامن حل پر ہونے والی بحث کو حقائق مسخ کرنے، انکار اور بے بنیاد الزامات کے ذریعے متاثر کرنے کی کوشش کی۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
پاکستانی مندوب برائے اقوام متحدہ کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر نہ بھارت کا نام نہاد اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ؛ بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتا۔ بھارت خود جموں و کشمیر کا مسئلہ سلامتی کونسل میں لے کر آیا تھا، مگر آج اسی کونسل کی قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے۔ قراردادوں کی کوئی میعاد ختم نہیں ہوتی۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔ ایک طرف سیاسی آزادی ہے، دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔ کشمیری عوام کے ناقابل تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور سے بے اعتنائی کا مظہر ہے۔
پاکستانی مندوب نے حق جواب میں کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔ ایسے غیر ذمہ دارانہ اقدامات علاقائی امن کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ پاکستان دہشت گردی کا سب سے بڑا متاثرہ ملک ہے؛ ہزاروں بے گناہ شہریوں کی قربانیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جدوجہد حقیقی ہے۔
قونصلر صائمہ سلیم کا کہنا تھا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک علاقائی حدود سے نکل کر عالمی سطح تک پہنچ چکے ہیں۔ کلبھوشن یادیو کیس اس کا ایک واضح ثبوت ہے۔ بھارت میں ہندوتوا پر مبنی انتہا پسند نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی کا رنگ دے دیا ہے، جبکہ اقلیتیں امتیازی سلوک اور جبر کا سامنا کر رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اشتعال انگیزی اور جارحیت کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا راستہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پُرامن حل کو ترجیح دی۔ جنوبی ایشیا میں امن کا راستہ انکار یا ہٹ دھرمی نہیں بلکہ اقوام متحدہ کے منشور، بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی پاسداری سے ہو کر گزرتا ہے۔
پاکستانی مندوب نے کہا کہ بھارت کو چاہیے کہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے معاہداتی وعدے پورے کرے اور جموں و کشمیر تنازع کے پُرامن حل کے لیے سنجیدہ کردار ادا کرے۔