حالیہ پاک بھارت کشیدگی سے پاکستان کو کیا فائدہ ہوا؟ الجزیرہ کا ایسا تجزیہ کہ بھارتیوں کی نیندیں اڑ جائیں
اشاعت کی تاریخ: 11th, May 2025 GMT
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) قطری ٹی وی چینل الجزیرہ کا کہنا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والی حالیہ کشیدگی کی وجہ سے کشمیر کا مسئلہ ایک بار پھر عالمی سطح پر نمایاں ہوا ہے۔
الجزیرہ پر شائع ہونے والے ایک تجزیے کے مطابق پاکستان اور بھارت نے گزشتہ روز ایک دوسرے پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا، لیکن دونوں اس پر قائم ہیں۔زیادہ تر یہ جنگ بندی کامیاب ہے، عام طور پر کسی جنگ بندی کو مکمل طور پر نافذ ہونے میں کئی گھنٹے لگتے ہیں۔ اب اہم بات یہ ہے کہ دونوں جانب کے ڈائریکٹر جنرل آف ملٹری آپریشنز (ڈی جی ایم اوز) بات چیت کریں گے کہ اس جنگ بندی کو کیسے برقرار رکھا جائے۔لیکن فیصلہ سیاسی سطح پر کرنا ہوگا۔ کیا دونوں ممالک کے درمیان وزرائے خارجہ کی سطح کی بات چیت ہوگی، جو کئی سالوں سے نہیں ہوئی ہے؟
پاک بھار ت جنگ بندی پر او آئی سی کا بیان
دوسرا اہم مسئلہ یہ ہے کہ اس خاص تنازعے نے کشمیر کو نمایاں کر دیا ہے۔ یہ اب بھی ایک جوہری فلیش پوائنٹ ہے، اور دونوں ممالک کو اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے سنجیدگی سے بات کرنی ہوگی، ورنہ وہ وہیں واپس آجائیں گے جہاں سے انہوں نے شروع کیا تھا۔ خطے اور اس سے باہر ہر کوئی امید کرے گا کہ دونوں ممالک اسے سفارتی طور پر حل کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
پڑھیں:
امریکہ کا پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان
نیویارک(نیوز ڈیسک)امریکہ نے “جبری مشقت سے متعلق خدشات کے پیش نظر” پاکستان، بھارت، چین اور یورپی یونین سمیت 60 تجارتی شراکت دار ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریر کے مطابق ان برآمدی محصولات (ٹیرف) کی شرح 10 فیصد سے لے کر 12.5 فیصد تک ہوگی اور یہ جمعہ یعنی آج سے نافذ العمل ہوں گے۔
Today, Ambassador Greer is taking action, at President Trump’s direction, under Section 301 of the Trade Act of 1974 by imposing tariffs on 60 trading partners for their failure to adopt and effectively enforce a prohibition on the importation of goods produced with forced labor.…
— United States Trade Representative (@USTradeRep) July 23, 2026
انہوں نے کہا کہ امریکہ میں جبری مشقت کے خلاف قوانین طویل عرصے سے نافذ ہیں اور اب وقت آ گیا ہے کہ دیگر ممالک بھی اسی طرز کے اقدامات کریں۔
یہ نئے محصولات اس عالمی ڈیوٹی کی جگہ لیں گے جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے رواں سال کے آغاز میں عائد کی گئی تھی اور جس کی مدت اب ختم ہو رہی ہے۔ امریکی سپریم کورٹ کی جانب سے فروری میں بعض ٹیرف مسترد کیے جانے کے بعد ٹرمپ انتظامیہ نے متبادل قانونی راستوں کے ذریعے نئے اقدامات متعارف کروائے ہیں۔
امریکہ کے تجارتی نمائندوں کے دفتر کی جانب سے جاری کیے گئے اعلامیے کے مطابق پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، برطانیہ، کینیڈا اور ملائیشیا سمیت کئی ممالک پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا جائے گا، جبکہ چین سمیت دیگر 38 ممالک پر 12.5 فیصد ڈیوٹی لاگو ہوگی۔
یورپی یونین، جاپان اور جنوبی کوریا جیسے ممالک کے لیے ٹیرف کی مجموعی شرح 10 سے 12.5 فیصد کے درمیان رکھی گئی ہے۔
دوسری جانب متاثرہ ممالک نے ان اقدامات پر شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔ جاپان اور آسٹریلیا نے ان ٹیرف کو غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ آزاد تجارتی معاہدوں کے منافی ہیں۔
امریکی حکام کے مطابق اسٹیل اور ایلومینیم جیسے شعبہ جاتی ٹیرف پہلے سے نافذ ہیں اور ان پر نئے اقدامات کا اطلاق نہیں ہوگا، جبکہ توانائی اور کھاد سمیت بعض اشیا کو استثنا دیا گیا ہے۔
اسلام آباد نے بھی جبری مشقت سے متعلق تحقیقات پر امریکی حکام کو تفصیلی جوابات جمع کرائے ہیں، بلکہ حالیہ تجارتی مذاکرات سے ایک روز قبل بھی مزید وضاحتیں فراہم کی تھیں۔
مزید پڑھیں۔ایران اور عراق کے درمیان دوطرفہ تعاون بڑھانے کے لیے 4 معاہدے