پاکستانی قیادت نے بروقت فیصلوں سے دشمن کو منہ توڑ جواب دیا: اویس لغاری
اشاعت کی تاریخ: 11th, May 2025 GMT
اسلام آباد( ڈیلی پاکستان آن لائن ) وفاقی وزیر توانائی اویس خان لغاری نے کہا ہے کہ پاکستانی قیادت نے بروقت فیصلوں سے دشمن کو منہ توڑ جواب دیا۔
نجی ٹی وی دنیا نیوز کے مطابق اویس خان لغاری نے قوم کو یومِ تشکر پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ دشمن نے حملہ کیا، ہم نے تاریخ رقم کی، بھارت کی جارحیت کے جواب میں قوم سیسہ پلائی دیوار بنی رہی۔انہوں نے کہا کہ پاکستانی قیادت نے بروقت فیصلوں سے دشمن کو منہ توڑ جواب دیا، وزیراعظم محمد شہباز شریف اور تمام سیاسی قیادت کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں جن کی رہنمائی سے پاکستان کو فتح ہوئی۔
وفاقی وزیر توانائی کا کہنا تھا کہ افواجِ پاکستان نے بے مثال دلیری اور پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کیا، قوم کو فخر ہے، دشمن کی ہر چال کو ناکام بنایا، جنرل عاصم منیر اور افواج پاکستان کو زبردست خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں۔
اویس لغاری کا کہنا تھا کہ افواج پاکستان کی قربانیوں کو سلام، آپ نے قوم کا سر فخر سے بلند کر دیا، یہ افواج پاکستان کے ساتھ ساتھ پوری قوم کی بھی فتح ہے، پاکستان نے دنیا کو بتا دیا، ہم امن کے خواہاں ہیں مگر اسکو کمزوری نہ سمجھا جائے۔ان کا کہنا کہ پاکستان نے بتا دیا کہ ہم جنگ نہیں چاہتے لیکن اگر مسلط کی گئی تو جواب ایسا ہو گا کہ دشمن کو یاد رہے گا، قوم نے ثابت کر دیا کہ دشمن کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالنے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔
وفاقی وزیر توانائی کا مزید کہنا تھا کہ دشمن کو بتا دیا، ہم اپنی خودمختاری، وقار اور سرزمین پر کوئی سمجھوتا نہیں کریں گے، الحمدللہ! پاکستان سرخرو ہوا، یہ اللہ کا کرم، عوام کے اتحاد اور قیادت کی بصیرت سے ممکن ہوا۔
بھارت کبھی نہیں چاہتا تھا مسئلہ کشمیر کا معاملہ اٹھے: شیری رحمان
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
پڑھیں:
سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
اسلام آباد:سپریم کورٹ نے منشیات برآمدگی کیس میں پانچ لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض لاہور کی رہائشی نازیہ مختار خواجہ کی ضمانت منظور کر لی۔
دوران سماعت، ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلا دی جس پر عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کروانے کا حکم دے دیا۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی۔
وکیل احسن بھون نے دلائل دیے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف کا اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرہ عدالت میں موجود ہے۔
دوران سماعت، اے این ایف اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں، جس پر وکیل اے این ایف نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر دو لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
وکیل ملزمہ احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریماریس دیے کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرہ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے ملزمان تحویل میں ہوتے ہوئے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھکڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا۔
دوران سماعت، جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ اے این ایف اہلکار نے جواب دیا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے۔ جسٹس ہاشم کاکڑ کے ریمارکس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔