ہمارے جوانوں نے دشمن کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بتایا پاکستان کمزور یا بزدل نہیں، مریم نواز
اشاعت کی تاریخ: 11th, May 2025 GMT
لاہور:
وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے وزیر اعظم شہباز شریف کے یوم تشکر منانے کے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔
مریم نواز شریف نے اپنے بیان میں کہا کہ اللہ تعالی کے شکر گزار ہیں کہ دشمن کے ناپاک ارادوں کو خاک میں ملایا، آج کا دن صرف شکرگزاری کا نہیں بلکہ غیرت، جرأت، اور قومی وحدت کی فتح کا دن ہے۔
مریم نواز شریف نے کہا کہ پاک فوج بہادر، پروفیشنل اور باصلاحیت ادارہ ہے، افواج پاکستان نے بھارتی جارحیت کا جواب صرف گولی سے نہیں حکمت سے دیا۔
انہوں نے کہا کہ شاہینوں نے دشمن کے طیارے گراکر دنیا کو پیغام دیا پاکستان کا دفاع ناقابل تسخیر ہے، دنیا نے جان لیا پاکستان اپنے دفاع میں ایک قدم پیچھے نہیں ہٹے گا۔
مریم نواز نے کہا کہ ہمارے جوانوں نے دشمن کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بتایا کہ پاکستان پر امن ہے کمزور یا بزدل نہیں۔ پاکستان کی قیادت مخلص، قوم متحد اور افواج ناقابلِ شکست ہیں۔
مریم نواز نے کہا کہ ہم اپنے شہداء کی قربانیوں کو رائیگاں نہیں جانے دیں گے، نوجوانوں کو تعلیم، ہنر، ٹیکنالوجی سے آراستہ کرکے ایسا پاکستان بنائیں گے جسے کوئی دشمن میلی آنکھ سے دیکھنے کا تصور نہ کر پائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: مریم نواز نے کہا کہ
پڑھیں:
باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔(جاری ہے)
درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔