Daily Mumtaz:
2026-06-03@04:24:12 GMT

جنگ بندی اعلان کے بعد ٹوئٹ! وسیم اکرم تنقید کی زد میں

اشاعت کی تاریخ: 11th, May 2025 GMT

جنگ بندی اعلان کے بعد ٹوئٹ! وسیم اکرم تنقید کی زد میں

قومی ٹیم کے سابق کرکٹر باسط علی نے پاک بھارت کشیدگی کے دوران تاخیر سے یکجہتی کرنے پر سابق کپتان وسیم اکرم کو آڑے ہاتھوں لے لیا۔

سماجی رابطے کی سائٹ ایکس (ٹوئٹر) پر ٹوئٹ کرتے ہوئے لیجنڈری کرکٹر وسیم اکرم نے لکھا کہ ہم سب اپنی مسلح افواج کے ساتھ کھڑے ہیں، انہوں نے دشمن کی جارحیت کا جواب دیا۔

انہوں نے مزید لکھا کہ جیسا کہ وہ کہتے ہیں، ‘جنگ تب ہوتی ہے جب زبان ناکام ہوجاتی ہے’ اس لیے سرحد کے پار نوجوانوں کی بہتری کیلئے بات چیت اور تنازعات کو حل کرنے میں مدد ملے گی، امن ہی ہم سب چاہتے ہیں! پاکستان زندہ باد۔

وسیم اکرم کی جانب سے ٹوئٹ ایسے وقت میں سامنے آیا جب پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ بندی کا باضابطہ اعلان ہوگیا تھا، جس پر انہیں شدید تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔

سابق کرکٹر باسط علی نے دوٹوک الفاظ میں وسیم اکرم پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انتہائی حساس لمحات میں خاموش رہنا اور پھر صورتحال معمول پر آنے کے بعد بیان دینا۔۔ یہ کہاں کی بہادری ہے؟ کرکٹرز کو قوم کے مشکل وقت میں آواز اٹھانی چاہیے، نہ کہ بعد میں!۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بھی وسیم اکرم کو پاک فوج کے حق میں تاخیر سے ٹوئٹ کرنے پر خوب تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔

دوسری جانب پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ بندی کے اعلان کے بعد پی ایس ایل کے 10ویں ایڈیشن کو مکمل کرنے کے امکانات بڑھ گئے ہیں جبکہ غیرملکی کرکٹرز کو دبئی میں ہی قیام کرنے کا کہہ دیا گیا ہے۔

انتظامیہ کی جانب سے راولپنڈی میں پی ایس ایل کے بقیہ 8 میچز کروانے پر غور کیا جارہا ہے۔

Post Views: 4.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: وسیم اکرم

پڑھیں:

اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ

تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیل میں وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر مسلسل تنقید میں اضافہ ہو رہا ہے۔ الجزیرہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی سیاست دانوں اور مختلف ذرائع ابلاغ کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بنیامین نیتن یاہو قومی اہداف کی بجائے سیاسی مفادات اور اقتدار کے تحفظ کو ترجیح دے رہے ہیں۔ اسرائیلی میڈیا میں اظہار خیال کرنے والے مبصرین نے کہا کہ بہت سے اسرائیلی شہری اور سیاسی حلقے توقع کر رہے تھے کہ نیتن یاہو ایسے اقدامات کریں گے، جنہیں وہ اسرائیل کے تزویراتی مقاصد کے حصول کیلئے ضروری سمجھتے ہیں، تاہم ان کی حالیہ پالیسیوں نے ان توقعات کو پورا نہیں کیا۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایک بار پھر ریاستی مفادات کے بجائے اپنی سیاسی بقا کو ترجیح دی، تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔

متعلقہ مضامین

  • الیکشن مہم‘ سلمان اکرم راجہ کو دیامر سے واپس بھیج دیا گیا
  • کوٹ عبدالمالک: بیٹی‘ سابق بیوی پر تشدد‘ تیزاب پھینک دیا‘ دونوں جھلس گئیں
  • اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
  • وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
  • چلاس: پی ٹی آئی کے مرکزی جنرل سیکریٹری سلمان اکرم راجا کو دیامر میں روک لیا گیا
  • شیخ رشید کا وکالت شروع کرنے کا اعلان
  • نوازشریف کا گلگت تک موٹروے بنانے، ایئرپورٹ بڑا کرنے اور الیکٹرک بسیں چلانے کا اعلان 
  • نواز شریف ایک روزہ دورے پر گلگت بلتستان پہنچ گئے
  • وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان
  • نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان