بھارت پاکستان کو کمزور نہ جانے، بیٹھ کر بات کرلے تو ان کیلئے بہتر ہوگا، اعزاز چودھری
اشاعت کی تاریخ: 12th, May 2025 GMT
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سابق سیکرٹری خارجہ اعزاز چودھری نے کہا ہے کہ بھارت پاکستان کو کمزور نہ جانے، بیٹھ کر بات کرلے تو ان کیلئے بہتر ہوگا، بھارت جتنا جلدی سمجھے اس کیلئے اچھا ہے۔
نجی ٹی وی چینل جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے اعزاز چودھری نے کہاکہ جموں وکشمیرمیں 93فیصد مسلمان آبادی تھی، گہری سازش کے تحت جموں کشمیر کا علاقہ پاکستان سے لیاگیا، کل کے بعد سے پاکستان نے واضح کردیا کہ اصل مسئلہ کشمیر کا ہے،مسئلہ کشمیر کا حل ضروری ہے،ان کاکہناتھا کہ پاکستان کا جواب دیکھ کر بھارت خوفزدہ ہوا، بھارت پاکستان کو کمزور نہ جانے، بیٹھ کر بات کرلے تو ان کیلئے بہتر ہوگا، بھارت جتنا جلدی سمجھے اس کیلئے اچھا ہے،سابق سیکرٹری خارجہ نے کہاکہ امن ایک پراسس ہے،بات چیت سے بہت سے مسائل حل ہو جاتے ہیں،بھارت کو مذاکرات کی میز پر آنا چاہئے،بھارت کو چاہئے کہ انڈس واٹرٹریٹی کی معطلی کورول بیک کرے،بھارت کو اندازہ ہو جانا چاہئے کہ کشمیری ان کے ساتھ نہیں رہنا چاہتے۔
یہی امید ہے کہ پی ایس ایل کے بقیہ میچز پاکستان میں ہوں گے،عاطف رانا
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
پڑھیں:
شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
کراچی میں شارع فیصل پر ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کے لیے ٹریفک لین کی پاسداری کرانے کے لیے قوانین پر سختی عملدرآمد کیا جارہا ہے۔
ٹریفک لین کی خلاف ورزی پر 24 گھنٹوں کے دوران 96 چالان جاری کیے گئے ہیں۔
کراچی میں ٹریفک جام اور حادثات کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیچھے کئی وجوہات ہیں، لیکن ایک بڑی وجہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
شہر کی سڑکوں پر مختلف گاڑیوں کے لیے مخصوص لینز تو موجود ہیں، اور زیادہ تر شہری اس بات سے واقف بھی ہیں کہ کون سی لین کس قسم کی گاڑی کے لیے مختص ہے، مگر وقت بچانے اور جلد منزل تک پہنچنے کی دوڑ میں اکثر لوگ ان اصولوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔
ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کو روکنے اور سڑکوں پر نظم و ضبط بہتر بنانے کے لیے ٹریفک پولیس نے پہلے ہی ای-ٹکٹنگ سسٹم نافذ کیا ہوا ہے، لیکن اب شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو خودکار طریقے سے جرمانے جاری کیے جائیں گے۔
ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کے مطابق ٹریفک جام کی صورت میں شہریوں کو لین تبدیل کرنے کی رعایت ہے، لیکن سست ٹریفک پر شہریوں کو مقررہ لین میں ہی رہنا ہوگا اور ہیوی بائیک رائڈرز بھی لین کی خلاف ورزی کریں گے تو چالان ہوگا۔
دوسری جانب شہریوں نے اس اقدام کو ٹریفک نظم و ضبط کی جانب ایک مثبت پیشرفت قرار دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ قوانین پر مؤثر عملدرآمد کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی بھی انتہائی ضروری ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ نئے نظام اور لین ڈسپلن کے اصولوں سے واقف ہو سکیں۔
قانون تو موجود ہے، اب اصل امتحان اس پر عملدرآمد اور شہریوں کے تعاون کا ہے۔ اگر دونوں ساتھ چلیں تو شاید کراچی کی سڑکیں زیادہ محفوظ اور منظم بن سکیں۔