Express News:
2026-07-24@06:15:00 GMT

پاکستان کی فتح اور شہباز شریف کا فاتحانہ خطاب

اشاعت کی تاریخ: 12th, May 2025 GMT

10اور11مئی 2025 کی درمیانی شب ، گیارہ بجے کے بعد، وزیر اعظم ، جناب محمد شہباز شریف، نے قوم سے جو خطاب کیا ، شاندار، موثر اور قابلِ تحسین تھا۔ ساری پاکستانی قوم اِس خطاب کی منتظر تھی۔ خطاب کا ہر لفظ نگینے کی طرح چنیدہ تھا اور براہِ راست قوم کے دل پر بیٹھا ۔ یہ خطاب بجا طور پر فاتح پاکستانی قوم کے دل و دماغ کی ترجمانی تھی ۔

10مئی 2025 کا دن پوری پاکستانی قوم کے لیے اُسی طرح شادمانی کا دن تھا جیسے 28مئی1998 کا دن مسرتوں بھرا تھا ، جب پاکستان نے جناب نواز شریف کی قیادت میں ، بھارت سے زیادہ، ایٹمی دھماکے کیے۔ یہ10مئی کا دن اور وہ28مئی کا دن ، دونوں تاریخیں پاکستان کے ساتھ عالمِ اسلام ، عالمِ عرب کے لیے بھی حقیقی خوشی اور فتح کا باعث بنی ہیں۔ لاریب۔ عالمِ اسلام پاکستان کی کامیابی میں اپنی کامیابی اور پاکستان کی مسرت میں اپنی مسرتیں دیکھتا ہے۔آج پاکستان اور عالمِ اسلام اس لیے خصوصاً خوش ہیں کہ 10مئی کو پاکستان نے بے لگام ، کذاب اور مسلم دشمن بھارت کے منہ میں ،فاتحانہ عسکری طاقت کے ساتھ ، لگام ڈالی ہے ۔

 10مئی2025 کا دن درحقیقت پاکستان، پاکستانی قوم اور افواجِ پاکستان کی پُر شکوہ فتح کا دن ہے۔ اس روز افواجِ پاکستان اور پاکستان بھر کے عوام نے دُنیا پر ثابت کر دیا کہ پاکستان حقیقی طور پر بُنیانِ مرصوص ہے۔ افواجِ پاکستان نے خونریز مسلسل بھارتی جارحیت کا منہ موڑنے اوردندان شکن جواب دینے کے لیے ’’آپریشن بُنیانِ مرصوص‘‘ کے زیر عنوان چنیدہ بھارتی مراکز کو اہداف بناکر اقوامِ عالم پر ثابت کر دیا کہ دشمن کے خلاف صف آرا افواجِ پاکستان حقیقی طور پر اور بامعنی انداز میں سیسہ پلائی ہُوئی عسکریات ہیں : ایک ثابت شدہ بُنیانِ مرصوص!

6اور7مئی2025کی درمیانی شب ، رات کی تاریکیوں میں ، کمینے دشمن بھارت نے پاکستان کے کئی مقامات پر میزائلوں سے حملے کیے تو جواب دینے کے لیے پاکستان نے صبر اور اعراض سے کام لیا ۔پاکستانی فضائیہ کے شاہین اگرچہ جارح بھارت کے پانچ لڑاکا طیارے بھسم کر چکے تھے ۔ ان میں فرانسیسی ساختہ ’’رافیل ‘‘ جنگی جہاز کا پاکستانی جانباز شاہینوں کے مقابل شکست کھا کر زمیں بوس ہونا بھارت میں صفِ ماتم بچھانے کا باعث بن گیا۔ نریندر مودی ، مقتدر بی جے پی اور انڈین آرمی، سبھی، ندامت میں بَل کر رہ گئے۔ انتقام اور شرمندگی سے مغلوب ہو کر بھارت نے پھر جنگی ڈرونز سے پاکستان کے مختلف شہروں پر حملے کیے۔

افواجِ پاکستان اور پاکستانی فضائیہ کے جہاندیدہ دیدہ وروں نے مگر سب حملہ آور ڈرونز اپنی سرزمین پر گرا دیے ۔ اِس سے بھارت کو اپنے عوام اور اقوامِ عالم کے سامنے مزید شرمندگی اُٹھانا پڑی۔ بتایا گیا ہے کہ گرائے جانے والے بھارتی ڈرونز کی تعداد 70سے زائد ہے۔ مبینہ طور پر ایک بھارتی ڈرون کی قیمت ایک کروڑ 80لاکھ بھارتی روپے ہے۔ ہم اِسی سے اندازہ لگا سکتے ہیں کہِ صرف ڈرونز کی مَد میں، پاکستان نے تین دنوں میں بھارت کو کتنا بڑا مالی و فوجی نقصان پہنچایا ہے ۔ بھارت یہ خسارہ کبھی فراموش نہیںکر سکے گا۔

بھارت کی مسلسل دراندازیوں ، زیادتیوں اور حملوں کے باوصف پاکستان اور افواجِ پاکستان نے صبر کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑا ۔ پاکستان کی فیصلہ ساز قوتیں بجا اور مستحسن انداز میں سوچ رہی تھیں کہ یہ جنگ مزید نہ پھیلے ۔ امریکہ و مغربی ممالک سمیت اقوامِ عالم کی بھی یہی نیت اور سوچ تھی ۔ حکومتِ پاکستان کے ترجمانوں ( بشمول عطاء اللہ تارڑ) اور افواجِ پاکستان کے ترجمان ( لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری)نے مقامی اور بین الاقوامی صحافیوں کے سامنے تفصیلی ،بار بار پریس کانفرنسیں کرکے دُنیا کو یہ باور کروانے کی مستحسن کوشش کی کہ بھارتی جارحیت کے باوجود پاکستان مکالمے واعراض کو ترجیح دے رہا ہے ۔

دُنیا میں جو جو قوتیں اور شخصیات پاک بھارت جنگ رکوانے کی سعی کررہی تھیں، پاکستان ان کوششوں کی حوصلہ افزائی اور تعریف کررہا تھا ۔ مگر اِس سب کوششوں کے باوجود بھارت باز نہ آیا ۔ اُس نے شائد پاکستان کے صبر کو کمزوری سمجھ لیا تھا؛ چنانچہ شہ پا کراُس نے پاکستان پر پھر حملہ کیا تو جری افواجِ پاکستان شیر کی مانند اپنے تیار کچھار سے نکلیں اور اپنے دشمن پر حملہ آور ہو گئیں۔ پاکستان کے آزمودہ میزائل ( فتح وَن) قہر بن کر بیک وقت کئی بھارتی شہروں ( از قسم :آدم پور، صورت گڑھ، اُدھم پور،وغیرہ اورکئی بھارتی ائر بیسز و ائر فیلڈز) پر برسے تو دشمن اور اُس کی جملہ فوجی تنصیبات کھائے ہُوئے بھوسے کی مانند بن کر رہ گئے۔

تب بھارت کے ہوش ٹھکانے لگے ۔ اور تبھی بھارتی افواج کی ترجمان ( کرنل صوفیہ قریشی) نے بھارتی ٹی وی پر باقاعدہ اعلان کیا: اگر پاکستان مزید حملے نہ کرے تو بھارت بھی جواب نہیں دے گا۔پاکستان بھی جب یہی اسلوب اختیار کررہا تھا تو بھارت کے کانوں پر جُوں تک نہیں رینگ رہی تھی ۔ اُس کا زُعم اور تکبرو غرور آسمانوں کو چھُو رہا تھا ۔ پاکستانی فتح وَن میزائلوں کی بوچھاڑ نے بھارتی نخوت و تکبر خاک میں ملا دیا۔ سچ ہے لاتوں کے بھُوت باتوں سے نہیں مانتے !

سیز فائر کی خبر تو10مئی کی سہ پہر ہی آگئی تھی مگر اِس کا اعلان کرنے کے لیے حکومتِ پاکستان نے مزید صبر اور تحمل سے کام لیا۔ نجی ٹی ویوں پر یہ خبریں بھی آ گئی تھیں کہ وزیر اعظم ، جناب شہباز شریف، فتح کا اعلان کرنے کے لیے باقاعدہ قوم سے خطاب فرمائیں گے۔ یہ خطاب سامنے آتے آتے رات کے سوا گیارہ بج گئے ۔

فتحیابی اور مسرت کے نشے سے سرشار مگر قوم رات گیارہ بجے بھی جاگ رہی تھی۔ وزیر اعظم صاحب نے نہائت نپے تُلے الفاظ میں فتح کا اعلان کیا ۔ اللہ کریم کی بے پناہ کرم فرمائیوں اور کرم نوازیوں کا شکر بھی ادا کیا ۔ تینوں مسلّح افواج کے جوانو ںافسروںاور تینوں مسلّح افواج کے سربراہوں کی جرأتوں کو احترام و اکرام سے سیلوٹ کیا۔پاکستان بھر کی سیاسی جماعتوں اور اُن کے لیڈروں کے تعاون کا شکریہ بھی ادا کیا اور خصوصاً اپنے قائد ، جناب نواز شریف ، کی رہنمائی کو بھی یاد رکھا۔ جناب شہباز شریف نے دل کی گہرائیوں سے امریکی صدر (ڈونلڈ ٹرمپ)، سعودی فرمانروا و سعودی کراؤن پرنس (جناب شاہ سلمان و محمد بن سلمان)، برطانوی وزیر اعظم ( کیئر اسٹارمر) ، ترکیہ و قطر اور یو اے ای کے معزز سربراہوں کا نام لے لے کر بے حد شکریہ ادا کیا کہ اُن کی درمیان داری سے پاک بھارت جنگ بندی معرضِ عمل میں آئی ہے ۔

قوم سے خطاب کرتے ہُوئے وزیر اعظم پاکستان ، شہباز شریف، کے اَنگ اَنگ سے اعتماد اور خوشی جھلک رہی تھی ۔ صاف نظر آ رہا تھا کہ یہ تقریر ایک فاتح کی تقریر ہے ۔ چھ اور سات مئی کی درمیان شب جب بھارت نے پُر امن پاکستان پر حملہ کیا تھا تو امریکی صدر ِ ڈونلڈ ٹرمپ، نے اِس اقدام کو ’’شرمناک‘‘ قرار دیا ۔ اِسی سے مترشح اور عیاں ہو گیا تھا کہ پاکستان کے خلاف بھارتی سازشوں اور حملوں کو امریکہ کی اشیرواد نہیں ملنے والی۔ ساری دُنیا نے بھی بھارتی جارحیت کی لعنت ملامت کی اور پاکستان کے صبر و اعراض کی تعریف و تحسین کی ۔ یوں پاکستان فوجی محاذ کے ساتھ ساتھ سفارتی محاذ پر بھی سرخرو ہُوا ہے ۔ پاکستان آرمی کے سربراہ، جنرل سید عاصم منیر، ایک زبردست ہیرو کے طور پر قوم کے سامنے آئے ہیں ۔ ہمارا اصل فاتح۔ قوم جنرل عاصم منیر صاحب پر فخر کررہی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: پاکستانی قوم اور پاکستان پاکستان اور پاکستان کی شہباز شریف پاکستان نے پاکستان کے پاکستان ا بھارت کے رہی تھی فتح کا قوم کے

پڑھیں:

اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام

پاکستان نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ بڑھتے ہوئے مسلح تنازعات کے تناظر میں سفارتکاری، مذاکرات اور ثالثی کو مضبوط بنایا جائے.

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں تنازعات کے پرامن حل سے متعلق کھلے مباحثے کے دوران پاکستان نے بھارت پر عالمی قوانین، اقوام متحدہ کی قراردادوں اور سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام بھی عائد کیا۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی ایک اور بڑی سفارتی کامیابی، سلامتی کونسل میں امن دستوں کے تحفظ کی قرارداد متفقہ طور پر منظور

اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ عالمی حالات میں تنازعات کے پرامن حل کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہر نیا بحران یہ ثابت کرتا ہے کہ انصاف پر مبنی اور دیرپا امن کا کوئی فوجی متبادل موجود نہیں، اس لیے عالمی برادری کو تنازعات کی روک تھام، مکالمے، ثالثی اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق پرامن تصفیے پر نئی توجہ دینا ہوگی۔

Today, the imperative of peaceful settlement is more urgent than ever before. At a time when armed conflicts are growing across regions, the costs of delayed diplomacy are becoming more evident. Every new crisis underscores a simple truth: there is no military substitute for a… pic.twitter.com/ITgheZpBLd

— Permanent Mission of Pakistan to the UN (@PakistanUN_NY) July 23, 2026

انہوں نے یاد دلایا کہ پاکستان کی سلامتی کونسل کی صدارت کے دوران متفقہ طور پر منظور کی جانے والی قرارداد 2788 نے اس اصول کی توثیق کی تھی کہ سفارت کاری کو اس وقت استعمال نہیں کرنا چاہیے جب امن ناکام ہو جائے، بلکہ اسے ایسے حالات پیدا ہونے سے پہلے ہی فعال ہونا چاہیے۔

دوسری جانب اجلاس میں بھارتی مندوب کے بیان کے جواب میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حقِ جواب استعمال کرتے ہوئے کہا کہ جب رکن ممالک تنازعات کے پرامن حل کے طریقہ کار کو مضبوط بنانے پر گفتگو کر رہے تھے، بھارت نے حقائق کو مسخ کرنے اور بے بنیاد الزامات لگانے کی کوشش کی۔

مزید پڑھیں: سلامتی کونسل بریفنگ: پاکستان نے مستقل جنگ بندی اور آزاد فلسطینی ریاست کا مطالبہ دہرا دیا

انہوں نے کہا کہ بھارت ایک طرف امن کی بات کرتا ہے جبکہ دوسری جانب بین الاقوامی قانون، سلامتی کونسل کی قراردادوں اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔

ان کے مطابق جموں و کشمیر نہ تو بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی اس کا داخلی معاملہ، بلکہ یہ بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ متنازع خطہ ہے، جس کے بارے میں سلامتی کونسل کی قراردادیں آج بھی مؤثر ہیں۔

صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارتی زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی صورتحال میں واضح فرق ہے۔

It is ironic to hear India preaching peace while breaching international law and Security Council resolutions, and practising aggression against its neighbours, repression in Indian-occupied Jammu and Kashmir, persecution of minorities, and perpetrating State-sponsored terrorism… pic.twitter.com/oPfkrOvSJ5

— Permanent Mission of Pakistan to the UN (@PakistanUN_NY) July 24, 2026

ان کے مطابق آزاد کشمیر میں عوام سیاسی عمل میں حصہ لیتے اور آزادی سے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں، جبکہ بھارتی زیرِ انتظام کشمیر میں گرفتاریوں، ماورائے عدالت ہلاکتوں، جبری گمشدگیوں، آبادی کے تناسب میں تبدیلی اور حقِ خودارادیت سے محرومی جیسے اقدامات جاری ہیں۔

انہوں نے بھارت کے سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کے فیصلے کو یکطرفہ اور غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے تقریباً 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، اسے جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔

مزید پڑھیں: سلامتی کونسل میں اصلاحات ناگزیر، مستقل رکنیت کا نظام فرسودہ ہو چکا ہے، پاکستان

پاکستانی مندوب نے مزید الزام عائد کیا کہ بھارت ریاستی سرپرستی میں دہشتگردی میں ملوث ہے اور پاکستان میں دہشتگرد تنظیموں کی معاونت کرتا رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان دہشتگردی کے خلاف جنگ میں تقریباً ایک لاکھ شہریوں کی جانوں کی قربانی دے چکا ہے۔

انہوں نے بھارت میں مسلمانوں، عیسائیوں، سکھوں اور دلتوں کے ساتھ مبینہ امتیازی سلوک کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ اشتعال انگیزی کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا دروازہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پرامن حل کو ترجیح دی۔

مزید پڑھیں: سلامتی کونسل کی بلوچستان حملوں کی شدید مذمت، عالمی برادری سے پاکستان کیساتھ تعاون پر زور

صائمہ سلیم نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کا راستہ بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کے چارٹر، سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عملدرآمد اور مسئلہ جموں و کشمیر کے پرامن حل سے ہو کر گزرتا ہے۔

انہوں نے بھارت پر زور دیا کہ وہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے بین الاقوامی معاہدوں کا احترام کرے اور کشمیر تنازع کے حل کے لیے سنجیدہ مذاکرات کی راہ اختیار کرے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اقوام متحدہ امتیازی سلوک بھارت پاکستان جموں و کشمیر چارٹر دریائے سندھ دہشتگردی سلامتی کونسل سندھ طاس معاہدے صائمہ سلیم عاصم افتخار احمد مستقل مندوب

متعلقہ مضامین

  • معرکہ حق میں بھارت کو کتنا نقصان پہنچا؟ احتجاج میں شامل بھارتی طلبہ نے بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کردی
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • نواز شریف کل میرپور میں انتخابی جلسے سے خطاب کریں گے
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • فیلڈ مارشل، میں اور قوم سعودیہ کیساتھ ہیں، وزیراعظم کا ولی عہد سے رابطہ، آئل ٹینکرز پر حملے کی مذمت
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
  • آئی ٹی برآمدات میں اضافہ حکومتی اقدامات اور پالیسیوں کا ثمر ہے، وزیراعظم شریف
  • شہباز شریف سمیت حکومتی شخصیات کو 21 تحائف ملے، توشہ خانہ کا ریکارڈ جاری