رحیم یار خان: بھارتی حملے میں شیخ زید بن سلطان النہیان ایئرپورٹ کا رن وے و ٹرمینل متاثر
اشاعت کی تاریخ: 11th, May 2025 GMT
شیخ زید بن سلطان النہیان ایئرپورٹ کی تعمیر متحدہ عرب امارات کی فنڈنگ سے ہوئی تھی—فوٹو اسکرین گریپ
بھارت نے رحیم یار خان میں متحدہ عرب امارات اور پاکستان کی دوستی کی علامت اور غیر فوجی ایئر پورٹ شیخ زید بن سلطان النہیان ایئر پورٹ کو نشانہ بنایا۔
ایئرپورٹ حکام کے مطابق رحیم یار خان ایئرپورٹ 17 مئی کی رات 11:59 بجے تک رن وے کے مرمتی کام کی وجہ سے پروازوں کے لیے دستیاب نہیں ہوگا۔ بھارت کے حملے سےشیخ زید بن سلطان النہیان ایئرپورٹ کی ٹرمینل بلڈنگ اور رن وے کو نقصان ہوا ہے۔
بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے پر پاکستان کی عالمی سطح پر پزیرائی ہونے لگی، غیر ملکی اخبار نے پاک فضائیہ کو فضاؤں کی حکمراں قرار دے دیا۔
رحیم یار خان ایئرپورٹ 1993 میں تعمیر کیا گیا تھا اور اس کا نام متحدہ عرب امارات کے پہلے صدر اور موجودہ صدر شیخ محمد بن زید النہیان کے والد شیخ زاید بن سلطان النہیان کے نام پر رکھا گیا تھا۔
متحدہ عرب امارات کے حکمراں خاندان کے افراد کی رحیم یار خان آمد شیخ زید بن سلطان النہیان ایئرپورٹ کے ذریعے ہی ہوتی ہے۔
یو اے ای کے حکمران خاندان کے افراد چھٹیاں گزارنے اور شکار کی غرض سے رحیم یار خان آتے ہیں۔
ایئر پورٹ حکام کے مطابق رحیم یار خان کے شیخ زید بن سلطان النہیان ایئرپورٹ پر میزائل لگنے سے رن وے پر 10 سے 15 فٹ لمبا اور گہرا گڑھا پڑ گیا ہے۔
ماہرین کے مطابق چینی جنگی جہاز مشرق وسطیٰ میں طاقت کا توازن تبدیل کر سکتے ہیں۔
شیخ زید بن سلطان النہیان ایئرپورٹ کی تعمیر متحدہ عرب امارات کی فنڈنگ سے ہوئی تھی۔
حکام کے مطابق غیر فوجی مقاصد کے لیے استعمال ہونے والے شیخ زید بن سلطان النہیان ایئر پورٹ کو بھارت نے 3 ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنایا ہے۔
ایک ڈرون نے خاص اس لاؤنچ کو نشانہ بنایا جو یو اے ای کے حکمران اور ان کے خاندان کیلئے مخصوص ہے، دوسرا ڈرون کار پارکنگ میں اور تیسرا رن وے پر گرا ہے، ایئرپورٹ بند ہونے کی وجہ سے حملے میں کوئی فرد زخمی نہیں ہوا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: شیخ زید بن سلطان النہیان ایئر متحدہ عرب امارات رحیم یار خان ایئر پورٹ کے مطابق
پڑھیں:
تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ
وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری۔فوٹو: فائلوزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری کا کہنا ہے کہ تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ ہوئے، ورلڈ سمٹ آن دی انفارمیشن سوسائٹی (ڈبلیو ایس آئی ایس) میں دو منصوبوں کی شارٹ لسٹنگ کے ساتھ دنیا کا واحد ملک بن گیا۔
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ اقوامِ متحدہ ڈبلیو ایس آئی ایس پرائز 2026 میں پنجاب کا ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی میرا پیارا عالمی چیمپئن پروجیکٹ قرار پایا، ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی ’’میرا پیارا‘‘ پروجیکٹ دنیا کے ٹاپ فائیو میں شامل ہوگیا۔
صوبائی وزیر نے کہا کہ پنجاب حکومت کا ورچوئل ویمن پولیس اسٹیشن بھی دنیا بھر کے ٹاپ 20 پروجیکٹس میں شارٹ لسٹ ہوگیا، ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی کی بدولت 77 ہزار سے زائد گمشدہ بچے بازیاب، ماؤں کی گودیں ہری ہو گئیں، حکومت نے 3 ہزار اسپیشل (معذور) بچوں کو بھی تلاش کر کے خاندانوں سے ملوایا، بدسلوکی، آن لائن استحصال اور کمزور بچوں کے تحفظ کے ہزاروں کیسز حل کیے گئے۔
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ پنجاب میں اب تک مختلف کیٹیگریز کے 1,45,772 کیسز رپورٹ، 1,36,157 کیسز کو کامیابی سے حل کیا گیا، رپورٹ ہونے والے مقدمات میں سے 26,274 ایف آئی آرز رجسٹرڈ،7,081 چالان عدالتوں میں جمع کروا دیے گئے۔
صوبائی وزیر نے مزید بتایا کہ گمشدہ اور اغوا ہونے والے 54,741 بچوں میں سے 53,811 بچوں کو کامیابی سے تلاش کر کے اہلخانہ سے ملا دیا گیا، ریسکیو ٹیموں کی کارروائی کے نتیجے میں 22,989 بچے ملے، 21,178 کو خاندانوں کے سپرد کیا گیا، اس وقت سسٹم میں 930 بچے لاپتہ اور 1,811 بچے تاحال غیر شناخت شدہ ہیں۔
وزیر اطلاعات پنجاب نے کہا کہ بچوں پر تشدد اور ابیوز کے 15,447 کیسز رپورٹ ہوئے، 5,075 ایف آئی آرز درج کی گئیں، چائلڈ ابیوز کیسز میں 3,830 ملزمان کو گرفتار کر کے 4,168 مقدمات کے چالان عدالتوں میں جمع کروائے جا چکے ہیں، بچوں کے خلاف آن لائن اور ڈیجیٹل ابیوز کے 191 کیسز سامنے آئے، 14 ایف آئی آرز درج اور 5 ملزمان کو گرفتار کیا گیا۔
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ خصوصی افراد کے مجموعی طور پر 4,377 کیسز رپورٹ ہوئے، 2,984 افراد کو بازیاب کروا کے خاندانوں سے ملایا گیا، خصوصی افراد کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے پولیس نے اب تک 646 ایف آئی آرز درج کیں، چائلڈ پروٹیکشن بیورو میں 251 اور دارالامان میں 14 متاثرہ افراد کو فوری پناہ اور حکومتی سرپرستی فراہم کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے میرا پیارا یو این گلوبل چیمپئن قرار دیے جانے پر اظہار تشکر کیا۔