عالمی نشریاتی ادارے ڈی ڈبلیو نے فیکٹ چیک کیساتھ پاکستان کیخلاف بھارتی پروپیگنڈا بے نقاب کردیا
اشاعت کی تاریخ: 12th, May 2025 GMT
اسلام آباد(اوصاف نیوز) پاکستان کیخلاف بھارتی جارحیت کے دوران بھارتی میڈیاکا گمراہ کُن پروپیگنڈا سامنے آنے پرعالمی نشریاتی ادارے ڈی ڈبلیو نے فیکٹ چیک کے ساتھ بھارتی اکاؤنٹس سے شیئر ہونے والی ویڈیوز کو جھوٹا ثابت کر دیا۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق کچھ دن پہلے بھارتی سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے پاکستان کے شہر سیالکوٹ پر حملے کی ویڈیو شیئر کی گئی۔ جو جھوٹ پر مبنی تھی۔
ویڈیوایک ماہ پرانی اور ممبئی میں گیس سلنڈر کے ہونے والے دھماکے کی تھی۔ جبکہ بھارتی اکاؤنٹ سے ڈی جی آئی ایس پی آر کی اے آئی سے بنائی گئی فیک ویڈیو بھی شیئر کی گئی۔
ویڈیو میں ڈی جی آئی ایس پی آر کے اصل ادا کیےالفاظ کو اے آئی کی مدد سے بدلا گیا۔ اور بھارتی اکاؤنٹس سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی بھارتی جارحیت کی حمایت میں ویڈیو بھی شیئر کی گئی۔
عالمی میڈیا کے مطابق فیکٹ چیک سے واضح ہے کہ ویڈیو اے آئی سے بنائی گئی جبکہ امریکی صدر نے ایسا کوئی بیان نہیں دیا۔ جھوٹی ویڈیوز لوگوں کو اشتعال دلا سکتی ہیں انہیں شیئر کرنے سے پہلے فیکٹ چیک ضرور کرنا چاہیئے۔
دفاعی ماہرین نے کہا کہ بھارتی میڈیا نے ہمیشہ گمراہ کن پروپیگنڈا اور جھوٹ پھیلا کر حقائق پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی ہے۔ اور عالمی میڈیا بھارتی جھوٹ کو بے نقاب کر رہا ہے۔ جس سے بھارت کا اصل اور مکروہ چہرہ سامنے آیا ہے۔
سیزفائر کے باوجود ایک بار پھر24 بھارتی ایئرپورٹ بند،444 پروازیں منسوخ، نریندرا مودی پریشان
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: فیکٹ چیک
پڑھیں:
بی ایم ڈبلیو سے 5 لاکھ جرمانہ وصولی، ڈی ایچ اے ویجیلینس سے جواب طلب
کراچی:ایڈیشنل سیشن جج جنوبی نے بی ایم ڈبلیو تحویل میں لے کر پانچ لاکھ روپے جرمانہ وصولی پر ڈی ایچ اے ویجلنس، ایس ایس پی جنوبی اور ایس ایچ او ساحل کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر جواب طلب کرلیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق درخواست گزار نے ڈی ایچ اے ویجلنس پر گاڑی غیر قانونی طور پر قبضے میں لینے کا الزام عائد کیا ہے۔
درخواست گزار ارسلان خواجہ نے موقف اختیار کیا ہے کہ ڈی ایچ اے ویجلنس اہلکاروں نے اختیارات سے تجاوز کیا، بغیر شواہد درخواست گزار پر ڈرفٹنگ اور ڈونٹس کا الزام لگایا گیا، 25 سے 30 اہلکاروں نے گاڑی کو گھیر کر تحویل میں لیا، بی ایم ڈبلیو گاڑی ضبط کرکے ڈی ایچ اے ویجلنس دفتر منتقل کی گئی اور 5 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا۔
درخواست گزار نے وکیل کے توسط سے کہا کہ گاڑی کی رہائی کے لیے 5 لاکھ روپے طلب کیے گئے، ڈی ایچ اے ویجلنس کو گاڑیاں ضبط کرنے کا اختیار حاصل نہیں، شہریوں کو روکنے اور جرمانہ عائد کرنے کا اختیار صرف پولیس کے پاس ہے، ڈی ایچ اے ویجلنس پولیس فورس نہیں، ویجلنس حکام کے اقدامات اختیارات کے ناجائز استعمال کے مترادف ہیں، درخواست میں بھتہ خوری، غیر قانونی حراست اور دھمکیوں کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
درخواست پر عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 5 جون کو جواب طلب کرلیا۔