ویرات کوہلی نے ریٹائرمنٹ کا اعلان کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 12th, May 2025 GMT
بھارتی کرکٹ اسٹار ویرات کوہلی نے ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کر دیا ہے، جس کے ساتھ ہی اس فارمیٹ میں ان کی 14 سالہ شاندار کرکٹ کیریئر کا اختتام ہو گیا ہے۔ کوہلی نے 123 ٹیسٹ میچز کھیلے، جن میں سے 68 میچز میں وہ بھارت کے کپتان رہے، اور اس دوران انہوں نے 9230 رنز اسکور کیے۔ ان کا اوسط 46.85 رہا۔
کوہلی نے اپنے ریٹائرمنٹ کے حوالے سے ایک بیان میں کہا، ’14 سال ہو گئے ہیں جب میں نے پہلی بار ٹیسٹ کرکٹ میں بیگی بلو پہنی۔ سچ کہوں تو کبھی نہیں سوچا تھا کہ یہ سفر مجھے کہاں تک لے جائے گا۔ یہ سفر میرے لیے ایک امتحان، ایک تربیت اور زندگی بھر کے لیے سیکھنے کا موقع ثابت ہوا ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا، ’ٹیسٹ کرکٹ کھیلنا بہت ذاتی تجربہ ہے۔ اس میں خاموش محنت، طویل دن، اور وہ لمحے شامل ہیں جو لوگ نہیں دیکھ پاتے مگر وہ ہمیشہ آپ کے ساتھ رہتے ہیں۔‘
ویرات کوہلی نے کہا کہ ’جب میں اس فارمیٹ کو چھوڑ رہا ہوں تو یہ آسان نہیں ہے، مگر یہ صحیح لگتا ہے۔ میں نے جو کچھ بھی تھا اس میں لگا دیا اور اس نے مجھے اس سے کہیں زیادہ واپس دیا جس کی میں نے امید کی تھی۔ میں ایک دل کے ساتھ جا رہا ہوں جو شکر گزار ہے، اس کھیل کا، ان لوگوں کا جنہوں نے میدان میں میرے ساتھ وقت گزارا اور ہر اس شخص کا جس نے مجھے راستے میں سراہا۔ میں ہمیشہ اپنی ٹیسٹ کرکٹ کیریئر کو مسکراہٹ کے ساتھ یاد رکھوں گا۔‘
کوہلی کا یہ فیصلہ اس وقت آیا ہے جب ان کے کچھ ساتھی کھلاڑیوں نے بھی ریٹائرمنٹ لے لیا ہے، جن میں روہت شرما اور آر اشوین شامل ہیں۔ اس وقت چیتیشور پجارا اور اجنکیا رہانے ٹیم سے باہر ہیں، اور محمد شامی کی فارم پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ تاہم، کے ایل راہول، رویندر جڈیجا اور جسپریت بمراہ ہی اس دور کے آخری کھلاڑی ہیں۔
کوہلی کا ٹیسٹ کرکٹ کیریئر 2011 میں ویسٹ انڈیز کے دورے سے شروع ہوا تھا۔ ابتدائی طور پر کوہلی کو مشکلات کا سامنا تھا، لیکن 2014-15 میں آسٹریلیا کے دورے پر ان کی کارکردگی نے ان کی حیثیت کو مستحکم کیا۔ انہوں نے ایڈلیڈ میں ٹوئن سنچریز اسکور کیں اور اس سیریز میں 692 رنز بنائے۔ اس کے بعد وہ بھارت کے ٹیسٹ کپتان بن گئے۔
کوہلی کی قیادت میں بھارت نے 68 ٹیسٹ میچز میں سے 40 میں فتح حاصل کی، جس سے وہ بھارت کے سب سے کامیاب ٹیسٹ کپتان بن گئے۔ ان کے بعد ایم ایس دھونی اور سوراو گانگولی کا نمبر آتا ہے۔ اس دوران بھارت نے 2 مرتبہ ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کے فائنل میں جگہ بنائی۔
کوہلی کا 2018 میں انگلینڈ کے دورے پر کارکردگی بھی شاندار رہی، جب انہوں نے 5 میچز میں 583 رنز بنائے۔ 2018 میں وہ سال کے سب سے زیادہ رنز بنانے والے کھلاڑی بنے، اور اسی سال انہوں نے 1322 رنز اسکور کیے۔
حالانکہ حالیہ برسوں میں کوہلی کی کارکردگی اتنی عمدہ نہیں رہی، تاہم 2024 میں پرتھ ٹیسٹ میں ان کی سنچری ان کے کیریئر کا ایک اہم لمحہ تھی۔ ان کا اوسط گزشتہ 24 مہینوں میں 32.
کوہلی کا کرکٹ کیریئر ایک شاندار سفر رہا، جس میں انہوں نے نہ صرف اپنی محنت سے کامیابیاں حاصل کیں بلکہ بھارت کو عالمی کرکٹ میں ایک نئی شناخت دی۔ ان کے اس فیصلے کے بعد کرکٹ کی دنیا میں ایک نئے دور کا آغاز ہو رہا ہے۔
Post Views: 3
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کرکٹ کیریئر ٹیسٹ کرکٹ انہوں نے کوہلی کا کوہلی نے کے ساتھ کرکٹ کی اور اس
پڑھیں:
میڈ اِن پاکستان الیکٹرک گاڑی کی مارکیٹ میں آمد جلد متوقع، بی وائی ڈی نے اہم اعلان کردیا
چین کی معروف الیکٹرک اور نیو انرجی وہیکل ساز کمپنی ’بی وائی ڈی ‘ نے کہا ہے کہ سندھ کے علاقے غارو میں قائم کیا جانے والا اس کا 150 ملین ڈالر مالیت کا اسمبلنگ پلانٹ تکمیل کے آخری مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔
جبکہ کمپنی پاکستان میں تیار ہونے والی پہلی مقامی بی وائی ڈی گاڑی کو جلد از جلد مارکیٹ میں متعارف کرانے کے لیے کام تیز کر رہی ہے۔
کمپنی کے مطابق پلانٹ میں تعمیراتی کام تقریباً مکمل ہو چکا ہے، جبکہ اس وقت جدید مشینری کی تنصیب، کمیشننگ اور دیگر تکنیکی مراحل جاری ہیں تاکہ عالمی معیار کے مطابق پیداوار کا آغاز کیا جا سکے۔
پلانٹ کی سالانہ پیداواری صلاحیت 25 ہزار گاڑیاں ہوگیبی وائی ڈی پاکستان، میگا موٹر کمپنی (ایم ایم سی ) کے وائس پریزیڈنٹ سیلز اینڈ اسٹریٹجی، دانش خالق نے بتایا کہ تقریباً 2 سال سے بھی کم عرصے میں تیار ہونے والا یہ منصوبہ پاکستان میں اپنی نوعیت کے تیز ترین آٹو مینوفیکچرنگ منصوبوں میں شمار ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:چینی کمپنی پاکستان میں الیکٹرک گاڑیاں تیار کرے گی، شارک 6 پلگ اِن ہائبرڈ پک اپ آج مارکیٹ میں آئے گی
انہوں نے کہا کہ پلانٹ مکمل طور پر فعال ہونے کے بعد سالانہ تقریباً 25 ہزار نیو انرجی وہیکلز اسمبل کرنے کی صلاحیت رکھے گا، جس سے ملک میں ماحول دوست گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی طلب پوری کرنے میں مدد ملے گی۔
پہلی مقامی بی وائی ڈی گاڑی جلد متعارف کرانے کا ہدفدانش خالق کے مطابق کمپنی کی اولین ترجیح پاکستان میں تیار ہونے والی پہلی بی وائی ڈی گاڑی کو جلد از جلد صارفین تک پہنچانا ہے۔
تاہم انہوں نے واضح کیا کہ باقاعدہ پیداوار شروع کرنے سے قبل مشینری کی جانچ، پیداواری آزمائش اور معیار کی تصدیق کے متعدد مراحل مکمل کیے جائیں گے تاکہ ہر گاڑی کمپنی کے عالمی معیار پر پوری اترے۔
2 ہزار سے زیادہ گاڑیوں کی سب سے بڑی کھیپ پاکستان پہنچ گئیاس پیش رفت سے قبل بی وائی ڈی پاکستان نے گزشتہ ہفتے بحری جہاز کے ذریعے 2 ہزار سے زیادہ گاڑیوں کی اب تک کی سب سے بڑی کھیپ درآمد کی۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ اس درآمد کا مقصد صارفین کو بروقت گاڑیوں کی فراہمی یقینی بنانا اور ملک بھر میں موجود ڈیلر نیٹ ورک میں مطلوبہ تعداد میں گاڑیاں دستیاب رکھنا ہے۔
ایندھن کی بڑھتی قیمتوں سے الیکٹرک گاڑیوں کی طلب میں اضافہبی وائی ڈی کے مطابق پاکستان میں گزشتہ ایک سال کے دوران نیو انرجی وہیکلز میں صارفین کی دلچسپی مسلسل بڑھی ہے، جبکہ حالیہ عرصے میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافے نے اس رجحان کو مزید تقویت دی ہے۔
مزید پڑھیں:چین کی سب سے بڑی کارساز کمپنی پاکستان میں الیکٹرک گاڑیاں لانچ کرنے کے لیے پُرعزم
کمپنی کا دعویٰ ہے کہ اس کی جدید ٹیکنالوجی کی بدولت بی وائی ڈی گاڑیوں کے آپریٹنگ اخراجات روایتی پیٹرول یا ڈیزل گاڑیوں کے مقابلے میں 75 فیصد تک کم ہو سکتے ہیں، جبکہ حفاظت، کارکردگی اور قابلِ اعتماد معیار بھی برقرار رہتا ہے۔
چارجنگ انفراسٹرکچر میں بھی سرمایہ کاری جاریدانش خالق نے بتایا کہ بی وائی ڈی پاکستان نے ہبکو گرین پرائیویٹ لمیٹڈ (ایچ جی ایل) کے ساتھ شراکت داری کے ذریعے ملک بھر میں نیو انرجی وہیکلز کے لیے چارجنگ نیٹ ورک کی توسیع کا کام بھی جاری رکھا ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اب تک کراچی سے پشاور تک تقریباً 1,300 کلومیٹر طویل روٹ پر 19 پبلک ڈی سی فاسٹ چارجنگ اسٹیشنز قائم کیے جا چکے ہیں، جبکہ آئندہ مرحلے میں مزید شہروں، اہم شاہراہوں اور دوسرے درجے کے شہری مراکز تک اس نیٹ ورک کو توسیع دی جائے گی۔
بی وائی ڈی نے 2024 میں مقامی شراکت دار میگا موٹر کمپنی (ایم ایم سی) کے ساتھ اشتراک کے ذریعے پاکستان کی مسافر گاڑیوں کی مارکیٹ میں باضابطہ طور پر قدم رکھا تھا۔
گزشتہ سال کمپنی نے اعلان کیا تھا کہ پاکستان میں اسمبل ہونے والی پہلی بی وائی ڈی گاڑی جولائی یا اگست 2026 تک متعارف کرانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستان میں 2030 تک فروخت ہونے والی 30 فیصد نئی گاڑیاں الیکٹرک ہوں گی
ماہرین کے مطابق پاکستان میں الیکٹرک اور نیو انرجی وہیکلز کی مارکیٹ تیزی سے ترقی کر رہی ہے۔
حکومت کی جانب سے ماحول دوست ٹرانسپورٹ کی حوصلہ افزائی، ایندھن کی بڑھتی قیمتیں اور چارجنگ انفراسٹرکچر میں بہتری ایسے عوامل ہیں جو اس شعبے میں سرمایہ کاری اور صارفین کی دلچسپی میں اضافے کا سبب بن رہے ہیں۔
بی وائی ڈی کا غارو پلانٹ بھی اسی بدلتے ہوئے رجحان کا اہم حصہ تصور کیا جا رہا ہے، جس سے مقامی آٹو انڈسٹری، روزگار کے مواقع اور جدید ٹیکنالوجی کی منتقلی کو بھی فروغ ملنے کی توقع ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
الیکٹر گاڑیوں الیکٹرک گاڑیاں ایندھن بی وائی ڈی پیداواری ٹیکنالوجی نیو انرجی وہیکلز