کراچی فتح نہ کرسکے تو بھارتی انتہا پسند حیدرآباد کی کراچی بیکری پر چڑھ دوڑے
اشاعت کی تاریخ: 12th, May 2025 GMT
پاکستان اور بھارت کے درمیان حالیہ کشیدگی کے پس منظر میں، بی جے پی کے ارکان نے مبینہ طور پر حیدرآباد دکن میں قائم کراچی بیکری کی ایک شاخ میں توڑ پھوڑ کی اور مالکان سے اس کا نام تبدیل کرنے کا مطالبہ کیا۔
تلنگانہ پولیس پولیس کے مطابق یہ واقعہ ہفتہ کی سہ پہر 3 بجے شمس آباد میں واقع کراچی بیکری کی شاخ پر احتجاج کے دوران پیش آیا۔
یہ بھی پڑھیں:سیز فائر کا اعلان کیوں کیا؟ سیکریٹری خارجہ وکرم مسری کو بھارتی انتہا پسندوں کی دھمکیاں
آر جی آئی ایئرپورٹ پولیس اسٹیشن کے انسپکٹر کے بالاراجو نے کے مطابق بیکری کے کسی ملازم کو نقصان نہیں پہنچا۔ ’کوئی شدید نقصان نہیں ہوا، ہم واقعے کے چند منٹ بعد موقع پر موجود تھے اور سیاسی کارکنوں کو منتشر کر چکے تھے۔‘
Men calling themselves nationalists vandalising an Indian owned Karachi bakery in Hyderabad.
It's a 6-decade old Indian brand founded by founded by Khanchand Ramnani.
Poor Karachi bakery that has nothing to do with Pakistan becomes the victim of idiocy every single time. pic.twitter.com/XDkmtMnkgp
— Anusha Ravi Sood (@anusharavi10) May 11, 2025
یہ پہلا موقع نہیں جب کراچی بیکری کیخلاف احتجاج دیکھا گیا ہو، گزشتہ ہفتے پاک بھارت کشیدگی کے عروج پر مظاہرین کو بیکری کی بنجارہ ہلز برانچ میں ترنگا جھنڈا لگاتے دیکھا گیا۔
مزید پڑھیں:پاک بھارت کشیدگی کے پیش نظر پنجاب بھر میں اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ
حیدرآباد دکن کی اس کراچی بیکری کا نام پاکستان کے تجارتی شہر کراچی سے موسوم ہے، جسے ایک بھارتی ہندو خاندان چلاتا ہے، جو تقسیم ہند کے دوران حیدرآباد دکن ہجرت کرنے والوں کی اولاد ہیں، بیکری کی بنیاد 1953 میں حیدرآباد کے موزمجاہی مارکیٹ میں رکھی گئی تھی۔
بیکری مینیجر نے زور دے کر کہا ہم ایک ہندوستانی اسٹیبلشمنٹ ہیں، ہمیں پاکستانی نہیں کہا جا سکتا۔
مزید پڑھیں: کرتارپور راہداری پاک بھارت کشیدگی کے بعد بند کر دی گئی
کراچی بیکری کی دہلی، بنگلورو اور چنئی سمیت کئی شہروں میں شاخیں ہیں، صرف حیدرآباد میں بیکری کی 24 شاخیں ہیں، جس کے فروٹ کیک اور عثمانیہ بسکٹ ہیں۔
قبل ازیں بیکری کے مالکان راجیش اور ہریش رامنی نے اپنے ایک بیان میں چیف منسٹر اے ریونت ریڈی سے تحفظ فراہم کرنے کی درخواست کی تھی، پولیس کا کہنا ہے کہ 2019 کے پلوامہ حملے کے بعد بھی بیکری میں توڑ پھوڑ کی گئی تھی۔
مزید پڑھیں: پاک بھارت کشیدگی کم کرنے کے لیے کن ممالک نے رابطے کیے؟
ہفتہ کے حملے کے بعد، آر جی آئی ایئرپورٹ پولیس نے مظاہرین کے خلاف بی این ایس کی دفعہ 126 (2) اور 324 (4) کے تحت ان افراد کیخلاف غلط روک تھام اور املاک کو نقصان پہنچانے مقدمہ درج کرلیا گیا ہے، تاہم کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
املاک ایئرپورٹ پولیس تلنگانہ حیدرآباد دکن کراچی بیکری ہاکستان
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: املاک ایئرپورٹ پولیس تلنگانہ کراچی بیکری ہاکستان پاک بھارت کشیدگی کراچی بیکری کی کشیدگی کے
پڑھیں:
کراچی، شہر کے مختلف علاقوں میں پولیس مقابلے، 6 زخمیوں سمیت 9 ڈاکو گرفتار
کراچی:شہر قائد کے مختلف علاقوں میں پولیس نے مبینہ مقابلوں کے دوران 6 زخمیوں سمیت 9 ڈاکوؤں کو گرفتار کر لیا۔
کارروائیوں کے دوران ملزمان کے قبضے سے اسلحہ، چھینے گئے موبائل فونز، نقد رقم اور موٹر سائیکلیں بھی برآمد کر لی گئیں۔
پولیس کے مطابق شاہ لطیف تھانے کی حدود میں بھینس کالونی کے قریب ایک نجی یونیورسٹی کے سامنے مبینہ پولیس مقابلے کے بعد ایک ڈاکو کو زخمی حالت میں گرفتار کیا گیا۔
زخمی ملزم کو جناح اسپتال منتقل کیا گیا جہاں اس کی شناخت جاوید عرف راول کے نام سے ہوئی۔
پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزم اسٹریٹ کرائمز، ڈکیتی اور دیگر سنگین جرائم کی متعدد وارداتوں میں مطلوب تھا اور ماضی میں 15 سے زائد مقدمات میں گرفتار ہو کر جیل جا چکا ہے۔ ملزم کے قبضے سے اسلحہ، چھینے گئے موبائل فونز اور نقد رقم بھی برآمد ہوئی۔
دوسری کارروائی اقبال مارکیٹ تھانے کی حدود اورنگی ٹاؤن سیکٹر ساڑھے گیارہ میں کی گئی جہاں مبینہ مقابلے کے بعد دو ڈاکوؤں کو گرفتار کر لیا گیا۔
زخمی ملزم سہیل کو عباسی شہید اسپتال منتقل کیا گیا جبکہ اس کے ساتھی اکرم کو تھانے منتقل کر دیا گیا۔
مزید پڑھیںکراچی، پولیس اور ایس آئی یو کے ڈاکوؤں کے ساتھ مقابلے، 1 ڈاکو ہلاک، 3 زخمی حالت میں گرفتار
پولیس نے ملزمان کے قبضے سے اسلحہ، موبائل فون، نقد رقم اور موٹر سائیکل برآمد کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
ادھر بہادرآباد تھانے کی حدود میں کنگری ہاؤس کے قریب مبینہ پولیس مقابلے کے دوران دو ڈاکو گرفتار کیے گئے جن میں ایک زخمی ملزم جان شیر بھی شامل ہے۔
زخمی ملزم کو جناح اسپتال منتقل کیا گیا۔ پولیس کے مطابق گرفتار ملزمان سے اسلحہ، موبائل فونز، نقد رقم اور موٹر سائیکل برآمد کی گئی۔
ایک اور کارروائی فیروز آباد پولیس اور شاہین فورس نے جیل چورنگی کے قریب مشترکہ طور پر کی جہاں مبینہ مقابلے کے بعد دو ڈاکو زخمی حالت میں گرفتار کر لیے گئے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان کے قبضے سے اسلحہ، موبائل فونز، نقد رقم اور موٹر سائیکل برآمد ہوئی ہے۔
پولیس حکام کے مطابق گرفتار ملزمان کے خلاف مقدمات درج کر کے تفتیش کا آغاز کر دیا گیا ہے جبکہ ان کے دیگر ساتھیوں اور جرائم پیشہ نیٹ ورک سے متعلق بھی تحقیقات جاری ہیں۔