پاکستان کے ہاتھوں رافیل گرنے کا بھارتی اعتراف، فرانسیسی کمپنی کے شیئرز مزید گرگئے
اشاعت کی تاریخ: 12th, May 2025 GMT
بھارت نے پاکستان کی جانب سے رافیل طیارے گرنے کا بالواسطہ اعتراف کرلیا، جس کے بعد فرانسیسی کمپنی کے شیئرز مزید گرگئے۔
بھارتی ایئر مارشل اے کے بھارتی نے گزشتہ روز صحافی کے سوال پر جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ نقصانات جنگ کا حصہ ہوتے ہیں، اگر میں رافیل کے گرنے کا اعتراف کرلوں تو اس کا فائدہ پاکستان کو ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں پاک فضائیہ نے بھارتی رافیل مار گرایا، انڈین ایئر مارشل کا ڈھکا چھپا اعتراف
بھارتی ایئر مارشل اے کے بھارتی کی جانب سے اس اعتراف کے بعد رافیل جہاز بنانے والی فرانسیسی کمپنی ’ڈاسو ایوی ایشن‘ کے شیئرز میں آج مزید 5.
پاک بھارت کشیدگی کے دوران گزشتہ 5 روز میں فرانسیسی کمپنی کے شیئرز کی قدر مجموعی طور پر 10.33 فیصد گرگئی ہے، جبکہ اسے پہلے 5 روز میں کمپنی کے شیئرز میں 3.4 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا۔
واضح رہے کہ بھارت نے 6 اور 7 مئی کی درمیانی شب پاکستان کے مختلف شہروں پر حملہ کیا تھا، جس کے جواب میں پاکستان نے بھارت کے 5 جنگی جہاز مار گرائے تھے، جن میں 3 رافیل طیارے بھی شامل تھے۔
گزشتہ روز پریس کانفرنس کرتے ہوئے ایئر وائس مارشل اورنگزیب احمد نے کہا تھا کہ رافیل ایک بہترین جنگی جہاز ہے، لیکن اصل بات پائلٹ کی مہارت ہے کہ وہ اسے کیسے اڑا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں بہتر کون؟ رافیل یا جے 10، عالمی دفاعی اداروں نے جدید ہتھیاروں پر نظریں جما لیں
ان کا مزید کہنا تھا کہ ہمیں بھارتی فضائیہ کے مقابلے میں 0-6 سے کامیابی ملی، ہم نے بھارت نے 6 جہاز مار گرائے جبکہ ہمارے کسی جہاز کو نقصان نہیں پہنچا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews امریکی صدر پاک بھارت کشیدگی پاک فضائیہ پاکستان بھارت جنگ پاکستانی افواج جنگی جہاز ڈونلڈ ٹرمپ رافیل شیئرز گر گئے فرانسیسی کمپنی وی نیوز
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکی صدر پاک بھارت کشیدگی پاک فضائیہ پاکستان بھارت جنگ پاکستانی افواج جنگی جہاز ڈونلڈ ٹرمپ رافیل وی نیوز کمپنی کے شیئرز
پڑھیں:
گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
اسلام آباد: مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوؤں کی حقیقت سامنے آگئی ہے۔ مختلف پلیٹ فارمز پر یہ خبریں وائرل ہو رہی تھیں کہ عیدالاضحیٰ سے قبل مری میں غیر شادی شدہ مردوں یا بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، تاہم سرکاری وضاحت نے ان دعوؤں کو غلط قرار دے دیا ہے۔
سوشل میڈیا پوسٹس میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ دفعہ 144 کے نفاذ کے بعد مری شہر میں صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت ہوگی جبکہ بیچلرز کو مکمل طور پر روک دیا گیا ہے۔ تاہم ضلعی انتظامیہ کے مطابق ایسی کوئی پابندی پورے مری شہر پر نافذ نہیں کی گئی۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود تھی، جہاں سیاحوں کے رش اور نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے اکیلے آنے والے مردوں اور بیچلرز گروپس کے داخلے پر عارضی پابندی لگائی گئی تھی۔ فیملیز کو معمول کے مطابق مال روڈ جانے کی اجازت دی گئی تھی۔
ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) مری کامران صغیر کے مطابق دفعہ 144 کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا اور 31 مئی تک نافذ رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ مری شہر میں آنے والے تمام سیاحوں کے لیے راستے کھلے تھے اور بیچلرز کے شہر میں داخلے پر کوئی مکمل پابندی نہیں تھی۔
ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں بھی واضح کیا گیا تھا کہ یہ اقدام صرف سیاحتی سہولیات بہتر بنانے اور ہجوم کو منظم رکھنے کے لیے کیا گیا تھا۔
اس طرح مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی کے حوالے سے وائرل ہونے والا دعویٰ حقیقت کے برعکس ثابت ہوا۔ مری بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے جبکہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص علاقے تک محدود رہی۔