لگتا ہے حکمرانوں نے مشرقی پاکستان سے سبق نہیں سیکھا، کاشف شیخ
اشاعت کی تاریخ: 5th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لاڑکانہ(نمائندہ جسارت) امیر جماعت اسلامی سندھ کاشف سعید شیخ نے کہا ہے کہ مجوزہ 27 ویں ترمیم کے حوالے سے پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری کے انکشافات کے بعد بلی تھیلے سے باہر آگئی ہے۔ فارم 47 کے ذریعے ملک پر جعلی قیادت مسلط کرنے والے اب مجوزہ ترمیم کے ذریعے سندھ کی وحدت وسائل اور صوبائی خود مختاری پر حملہ آور ہیں۔ وکلا جمہوریت کی دعویدار پارٹیوں اور سول سوسائٹی سمیت جمہوریت پسند لوگوں کو 27 ترمیم کے خلاف متحد ہونا پڑے گا۔ابھی 26ویں ترمیم کے زخم ختم نہیں ہوئے تو 27 ویں ترمیم کے ذریعے قومی وحدت اور چھوٹے صوبوں کی محرومیوں میں اضافہ اور وسائل پر قبضے کی سازش کی جارہی ہے، لگتا ہے حکمرانوں نے مشرقی پاکستان سے سبق نہیں سیکھا۔ 21 نومبر کو مینار پاکستان لاہور میں ہونے والا اجتماع عام مایوسی کے ماحول میں امید کی کرن ثابت ہوگا۔ کراچی کشمور لوگ بھرپور شرکت کریں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اجتماع عام کی تیاریوں کے سلسلے میں ضلع لاڑکانہ کے ہر سطح کے ناظمین کے اجتماع سے خطاب کے دوران کیا۔ امیر ضلع ایڈووکیٹ نادر علی کھوسہ، قیم ذیشان عابد، مقامی امیر رمیز راجا شیخ ودیگر ذمے داران بھی موجود تھے۔ انہوں نے مزید کہاکہ ملک میں کوئی بھی قانون سازی عوامی مسائل اور ملکی مفاد میں ہونی چاہیے مگر افسوس کی بات ہے کہ یہاں پر محض اپنے ذاتی مفادات، اقتدار کو طول دینے اور شخصی آمریت کو برقرار رکھنے کے لیے رات کے اندھیرے اور بند کمروں میں بیٹھ کر کی جاتی ہے ،بدقسمتی سے اس وقت فارم 47کی بنیاد پر پارلیمنٹ میں موجود لوگوں اور مقتدر قوتوں نے پارلیمنٹ کو ربڑ اسٹیمپ بناکر رکھ دیا ہے، معیشت کی ترقی، بیروزگاری،مہنگائی، کرپشن اور غربت کے خاتمے کے لیے کوئی قانون سازی نہیں کی جاتی۔پیپلزپارٹی کے قائدین ذوالفقار علی بھٹو اور محترمہ بینظیر بھٹو نے ہمیشہ ملک میں جمہوری اصولوں کی پاسداری،صوبائی حقوق اور وفاقی ہم آہنگی کے لیے اپنا کردار ادا کیا لیکن موجودہ قیادت مکمل طور پر طاقتور حلقوں کے سامنے ہتھیار ڈال کر ملک کو 73کے متفقہ آئین سے محروم، عدلیہ کو ایگزیکٹو کے ماتحت اور ملک میں اظہار رائے کی آزادی،پرامن احتجاج اور اختلاف کو ختم کرنے کی راہ پر گامزن ہے۔ این ایف سی ایوارڈ میں کٹوتی صوبوں اور عوام کے حقوق پر براہ راست حملہ ہے ۔ جماعت اسلامی ملک میں جمہوری اصولوں کے فروغ،عدلیہ کی آزادی اور عوامی حقوق کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔ 21تا23نومبر مینار پاکستان لاہور ’’بدل دو نظام اجتماع عام‘‘ میں امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن آئندہ کا لائحہ عمل پیش کریںگے، ذمے داران اجتماع عام میں عوام خصوصاًنوجوانوں کی بھرپور شرکت کو یقینی بنانے کے لیے بھرپور کوشش اور ڈور ٹوڈور مہم چلائیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ترمیم کے ملک میں کے لیے
پڑھیں:
جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ
ملک میں جعلی اور غیر معیاری ادویات کے خاتمے کی جانب ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں وفاقی کابینہ نے ملک بھر میں ادویات کے لیے جدید ٹریک اینڈ ٹریس نظام نافذ کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ اس اقدام کا مقصد عوام کو جعلی دواؤں سے محفوظ بنانا اور دوا سازی کے شعبے میں شفافیت اور نگرانی کو مزید موثر بنانا ہے۔منگل کے روز وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے اس فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ نئے نظام کے نفاذ کے لیے ڈرگ لیبلنگ اور پیکنگ رولز میں ضروری ترامیم کی بھی منظوری دے دی گئی ہے۔ ان تبدیلیوں کے بعد ایک جدید ڈیجیٹل نظام متعارف کرایا جائے گا.جس کے ذریعے ادویات کی تیاری سے لے کر صارف تک پہنچنے کے پورے عمل کی نگرانی اور تصدیق ممکن ہو سکے گی۔وزیر صحت کے مطابق یہ فیصلہ پاکستان سے جعلی، نقلی اور ناقص معیار کی ادویات کے خاتمے کی جانب ایک تاریخی قدم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلی مرتبہ ملک میں دستیاب ہر دوا کو ڈیجیٹل طریقے سے ٹریک اور تصدیق کیا جا سکے گا.جس سے ادویات کے نظام میں شفافیت، تحفظ اور جوابدہی میں نمایاں بہتری آئے گی۔نئے ضوابط کے تحت تمام دوا ساز کمپنیوں اور درآمد کنندگان کو اپنی مصنوعات کی پیکنگ پر معیاری ٹو ڈی (2D) بارکوڈز اور سیریلائزیشن ڈیٹا درج کرنا ہوگا۔ اس نظام کے ذریعے متعلقہ ادارے ادویات کی نقل و حرکت پر پیداواری مرحلے سے لے کر صارف تک مسلسل نظر رکھ سکیں گے، جبکہ جعلی مصنوعات کی نشاندہی اور ان کے خاتمے میں بھی مدد ملے گی۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ نظام مکمل طور پر فعال ہونے کے بعد عوام کسی بھی دوا کی میعاد ختم ہونے کی تاریخ، قیمت اور تصدیقی حیثیت سمیت دیگر اہم معلومات تک آسانی سے رسائی حاصل کر سکیں گے۔ اس سے مریضوں کو بہتر اور باخبر فیصلے کرنے میں مدد ملے گی اور دواسازی کے شعبے پر عوامی اعتماد میں اضافہ ہوگا۔اس منصوبے پر عمل درآمد کی نگرانی ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (DRAP) کرے گی جو دوا ساز صنعت کے لیے تفصیلی تکنیکی رہنما اصول بھی جاری کرے گی تاکہ نئے نظام سے مطابقت پیدا کرنے میں آسانی ہو۔ اعلامیے کے مطابق اس سلسلے میں متعلقہ فریقوں کے ساتھ مشاورتی اجلاس پہلے ہی منعقد کیے جا چکے ہیں تاکہ منتقلی کا عمل بغیر کسی رکاوٹ کے مکمل ہو سکے۔وزیر صحت نے اس بات پر زور دیا کہ جدید ڈیجیٹل نظام روایتی نگرانی کے طریقوں کی جگہ لے کر ادویات کی فراہمی کے پورے نظام کو زیادہ محفوظ اور معیاری بنائے گا۔ ان کے بقول جدید ٹیکنالوجی کا استعمال پاکستان کو خطے کے ان ممالک کی صف میں شامل کرے گا جہاں ادویات کی نگرانی اور ریگولیشن کے جدید ترین نظام رائج ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ٹریک اینڈ ٹریس نظام جعلی ادویات کے خلاف ایک مضبوط حفاظتی دیوار ثابت ہوگا اور عوامی صحت، انسانی جانوں اور دواسازی کے نظام پر اعتماد کے تحفظ میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔