Express News:
2026-07-24@07:03:32 GMT

سیز فائر کی کہانی

اشاعت کی تاریخ: 13th, May 2025 GMT

پاکستان اور بھارت کے درمیان سیز فائر ہو گیا ہے۔ سیز فائرکا کریڈٹ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ لے رہے ہیں۔ ان کے ساتھ ان کی ٹیم جس میں سیکریٹری خارجہ اور نائب صدر شامل ہیں وہ بھی اس سیز فائزکا کریڈٹ لے رہے ہیں۔ لیکن سب جاننا چاہتے ہیں کہ اس سیز فائر کی کہانی کیا ہے۔

عجیب صورتحال ہے کہ بھارت کہتا ہے کہ اس نے تو امریکیوں کو سیز فائر کے لیے کہا ہی نہیں۔ اس نے تو امریکیوں سے بات ہی نہیں کی ہے۔ جب کہ پاکستان کہتا ہے کہ اس نے سیز فائر کی کوئی درخواست بھارت کو نہیں کی ہے۔ اس لیے سیز فائر کی کہانی ایسی ہے کہ یہ سیز فائر ہے بھی اور اس کو دونوں فریقین مان بھی رہے ہیں۔ لیکن کیسے ہوا، پر اختلاف ہے۔

سب سے پہلے یہ بات تو واضح ہے کہ پاکستان کو امریکا کی ثالثی پر کوئی اعتراض نہیں۔ بلکہ پاکستان کو تو دنیا کے کسی ملک کی ثالثی پر بھی اعتراض نہیں ہے۔ ہم نے تقریباً دنیا کے تمام بڑے ممالک جو ثالثی کا کردارادا کر سکتے تھے انھیں جنگ روکنے اور ثالثی کے لیے کہا۔ پاکستان پہلگام کے واقعہ کی غیر جانبدارانہ اور کسی عالمی ایجنسی سے تحقیقات کے لیے بھی تیار تھا۔

ہم جس کو بھی جنگ روکنے کے لیے کہہ رہے تھے ساتھ غیر جانبدارانہ تحقیقات کی بات بھی کر رہے تھے۔ ہمارا سادہ بیانیہ تھا کہ پہلے تحقیقات کر لیں، اگر تحقیقات میں کچھ ثابت ہو تو جنگ کر لیں۔ تحقیقات سے پہلے جنگ کیسے ممکن ہے۔ لیکن بھارت کسی بھی ملک کی ثالثی قبول کرنے کے لیے تیار نہیں تھا۔ وہ جنگ کے لیے تیار تھا۔

اسی لیے آپ دیکھیں کہ جنگ سے پہلے امریکا نے اس معاملے سے خود کو الگ کر لیا تھا۔ وہی امریکا جو اب ثالثی کا کریڈٹ لے رہا ہے۔ جنگ سے پہلے امریکی صدر اور نائب صدر دونوں کہہ رہے تھے کہ اگر دونوں ملک لڑتے ہیں تو ہم کیا کریں ۔

یہ دونوں ملک صدیوں سے لڑ رہے ہیں۔ نائب صدر نے تو کہا کہ یہ امریکا کا کام نہیں کہ دونوں ممالک کے درمیان جنگ روکے۔ اگر دونوں لڑنا چاہتے ہیں تو لڑیں۔ یہ بھارتی لائن تھی۔ بھارت نے امریکا کو کہا کہ وہ لڑنا چاہتا ہے۔ اس لیے اسے کسی بھی قسم کی ثالثی قبول نہیں۔ جب بھارت کو ثالثی قبول ہی نہیں تھی تو اکیلے پاکستان کے ثالثی ماننے سے تو ثالثی نہیں ہونی تھی۔ اس لیے امریکا نے جنگ شروع ہونے سے پہلے ہی خود کو الگ کر لیا تھا۔

سعودی عرب اور ایران نے کوشش کی لیکن وہ کامیاب نہیں رہی۔ سعودی وزیر پاکستان سے گئے اور لڑائی شروع ہو گئی تھی۔ ایرانی وزیر خارجہ کے دورے بھی کوئی کامیاب نہیں رہے تھے۔ اس لیے ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ یہ وہی امریکا ہے جو پہلے ثالثی کروانے کو تیار نہیں تھا۔ اب کریڈٹ لے رہا ہے۔

لہٰذا صاف بات ہے کہ بھارت نے ہی امریکا کو اشارہ دیا کہ وہ ثالثی کے لیے تیار ہے اور بھارت کے ثالثی پر تیار ہونے کے بعد ہی امریکا نے پاکستان سے بات کی تھی۔ اس لیے یہ بات کوئی راز نہیں کہ پہلے بھارت نے ہی امریکا کو ثالثی سے روکا ہوا تھا اور پھر بھارت نے ہی امریکا سے ثالثی کی درخواست کی۔

حالانکہ بھارت نے آئی ایم ایف میں پاکستان کے قرض کی قسط رکوانے کی بہت کوشش کی۔ بھارتی نمایندہ نے آئی ایم ایف کے بورڈ اجلاس سے بائیکاٹ بھی کیا۔لیکن امریکا سمیت تمام ممالک نے پاکستان کے حق میں ووٹ دیا۔ اس لیے سمجھیں بھارت امریکا سے خوش نہیں ہوگا کہ اس نے جنگ کے دوران آئی ایم ایف میں پاکستان کے قرض کی منظوری کے حق میں ووٹ دیا۔ ایسے میں بھارت کا پھر امریکا کو ثالثی اور سیز فائر کے لیے کہنا ۔ اس بات کا ثبوت ہے کہ بھارت جنگ بند کرنا چاہتا تھا۔ وہ اب مزید جنگ کا متحمل نہیں تھا۔ اسے اندازہ ہوگیا تھا کہ معاملات اس کے ہاتھ سے نکل گئے ہیں۔

اب تک جو خبریں سامنے آئی ہیں۔ پہلے امریکا کو جنگ سے الگ کرنے کے لیے بھی بھارت نے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کو استعمال کیا تھا۔کیونکہ وہ پہلگام کے واقعہ کے وقت بھارت میں تھے۔ اور بعد میں سیز فائر کے لیے بھی بھارت نے امریکی نائب صدر سے ہی رابطہ کیا تھا۔ بہرحال اب بھارت امریکا کے کسی بھی قسم کے کردار کو ماننے کے لیے تیار ہی نہیں۔ بھارت کہہ رہا ہے کہ سیز فائر میں کوئی امریکی کردار نہیں یہ تو پاکستان نے سیز فائر کی درخواست کی جس کو بھارت نے قبول کر لیا ہے۔ بات اگر پاکستان اور بھارت کے درمیان ہوئی ہوتی تو سب سے پہلے سیز فائر کی خبر امریکا سے کیسے آگئی۔ لیکن بھارت اور بالخصوص نریندر مودی اس وقت بھارت میں شدید مشکل میں ہیں۔ اس لیے سیز فائر پر بار بار موقف بدل رہے ہیں۔

بھارت کی فوجی کمان نے جو پریس بریفنگ کی ہے۔ اس میں یہی کہا گیا ہے کہ پاکستان کے ڈی جی ایم او کی درخواست پر سیز فائر کیا گیا ہے۔ لیکن یہاں بھارت نے یہ تسلیم کیا ہے کہ سات مئی کو پہلے بھارت نے اپنے ڈی جی ایم او کے ذریعہ پاکستان کو سیز فائر کا پیغام بھجوایا تھا۔ لیکن پاکستان نے اس پیغام کے جواب میں کہا تھا کہ ہم واپس اسٹرائیک کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

یہ اس وقت کی بات ہے جب بھارت نے مریدکے اور بہاولپور پر حملہ کیا تھا۔ حالانکہ پاکستان نے بھارت کے جنگی جہاز گرا لیے تھے۔ لیکن پاکستان نے تب بھارت کی سیز فائر کی درخواست کا کوئی جواب نہیں دیا تھا۔ یہ بات بھارتی فوجی قیادت نے اپنی پریس بریفنگ میں کہی ہے کہ پہلے انھوں نے سیز فائر کی درخواست بھیجی تھی لیکن پاکستان نے قبول نہیں کی۔ بھارت کا موقف ہے کہ سیز فائر کی جو درخواست پاکستان نے سات آٹھ مئی کو مسترد کر دی تھی۔

وہ پاکستان نے 11مئی کی شام قبول کر لی۔ پاکستان کا موقف ہے کہ ہمارے پاس ان کی سیز فائر کی درخواست کافی دن سے موجود تھی۔ ہم مان نہیں رہے تھے۔ پھر جب ہم نے واپس اسٹرائیک مکمل کر لی تو ہم مان گئے۔ لیکن پہلے بھارت نے درخواست کی تھی۔ بھارت اپنی پہلے والی درخواست مانتا ہے۔ لیکن کہتا ہے کہ 11مئی کو کوئی درخواست نہیں کی۔

یقیناً سادہ بات ہے جب بھارت نے امریکا کو سیز فائر کے لیے کہا تو سچا بننے کے لیے یہ بھی کہا ہوگا کہ ہم نے تو پہلے دن ہی سیز فائر کی درخواست بھیجی تھی پاکستان نہیں ما ن رہا۔ آپ پاکستان کو سیز فائر پر منائیں۔ جب امریکا اور پاکستان کے درمیان سیز فائر پر بات طے ہوگئی ہوگی۔ تو امریکا نے پاکستان سے کہا ہوگا کہ آپ کے پاس بھارت کی جانب سے سیز فائر کی درخواست زیر التوا ہے اسے قبول کر لیں۔ پاکستان نے قبول کر کے بھارت کو اطلاع کر دی۔ لیکن اس میں بھارت کا یہی خیال ہوگا کہ امریکا سیز فائر میں اپنا کردار خفیہ ہی رکھے گا۔ لیکن شاید بھارت کو اندازہ نہیں تھا کہ امریکا پاکستان اور بھارت کے سیز فائر کے اعلان سے پہلے خود اعلان کر دے گا۔ اور دنیا کوپتہ چل جائے گا کہ امریکا نے سیز فائر کروایا ہے۔

امریکا کی جانب سے پہلے سیز فائر کے اعلان اور بعد میں ڈولنڈ ٹرمپ کے دوسرے ٹوئٹ نے بھارت میں نریدر مودی کی حکومت کی پوزیشن بہت خراب کر دی ہے۔ ٹرمپ نے کشمیر پر بھی ثالثی کی پیشکش کی ہے۔ جو بھی مودی کے لیے سیاسی موت سے کم نہیں۔ اسی لیے ایک طرف پاکستان امریکا کا شکریہ ادا کر رہا ہے۔ دوسری طرف بھارت جس نے امریکا کو سیز فائر کی درخواست کی ہے وہ شکریہ بھی نہیں ادا کر پا رہا ہے۔ بلکہ یہ صفائیاں دے رہا ہے کہ اس نے سیز فائر کی درخواست نہیں کی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: سیز فائر کی درخواست سیز فائر کے لیے نے سیز فائر کی کے لیے تیار کو سیز فائر درخواست کی پاکستان نے کہ پاکستان پاکستان کو پاکستان کے بھارت نے ا امریکا کو امریکا نے ہی امریکا کی ثالثی نہیں تھا کہ بھارت بھارت کو کہ اس نے رہے ہیں ہوگا کہ رہے تھے ہی نہیں سے پہلے نہیں کی قبول کر اس لیے رہا ہے تھا کہ

پڑھیں:

پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا

پاکستان کی جغرافیائی حیثیت محض ایک زمینی ریاست کی نہیں بلکہ ایک ایسے ملک کی ہے جس کے مفادات خشکی، سمندر اور خطے کی مجموعی سلامتی سے یکساں طور پر وابستہ ہیں۔ اسی لیے جب مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے شعلے بلند ہوتے ہیں تو ان کی تپش صرف جنگ میں شریک ممالک تک محدود نہیں رہتی بلکہ عالمی تجارت، توانائی کی رسد، بحری راستوں، علاقائی معیشتوں اور سفارتی توازن کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔

آج بحیرہ احمر، باب المندب اور آبنائے ہرمز صرف آبی گزرگاہیں نہیں رہیں بلکہ عالمی طاقتوں کی کشمکش، علاقائی رقابتوں اور غیر ریاستی مسلح گروہوں کی حکمت عملی کا مرکز بن چکی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے اپنے بحری مفادات اور سعودی عرب کی سلامتی کے بارے میں دوٹوک اور واضح موقف اختیار کرنا نہ صرف ایک ذمے دار ریاست کی علامت ہے بلکہ یہ اس حقیقت کا اظہار بھی ہے کہ قومی سلامتی کی تعریف اب سرحدوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ سمندری راستے، تجارتی جہاز، بندرگاہیں اور توانائی کی سپلائی لائنیں بھی اسی قدر اہم قومی مفادات کا حصہ بن چکی ہیں۔

 پاکستان نے جس واضح انداز میں یہ اعلان کیا ہے کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں، بحری تنصیبات یا سمندری مفادات کے خلاف کسی بھی جارحیت کو قومی سلامتی کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا، وہ دراصل بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کی توثیق بھی ہے اور قومی خودمختاری کے تحفظ کا منطقی اظہار بھی۔ دنیا کی کوئی بھی ذمے دار ریاست اپنی تجارت، بحری نقل و حمل اور اقتصادی شہ رگوں کو خطرات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتی۔

پاکستان کی بڑی بندرگاہیں، برآمدات، درآمدات اور توانائی کی ضروریات عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہیں، اس لیے ان راستوں میں پیدا ہونے والی بے یقینی براہِ راست قومی معیشت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد کی جانب سے یہ واضح پیغام دینا کہ قومی بحری مفادات کے دفاع کے لیے ہر ضروری اقدام کیا جائے گا، دراصل ایک فطری ریاستی ذمے داری ہے، نہ کہ محض سفارتی بیان۔

 بحیرہ احمر میں حوثی حملوں اور تجارتی جہازوں کو دی جانے والی دھمکیوں نے عالمی تجارت کو غیر معمولی اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے۔ ماضی میں قزاقی کو سمندری تجارت کے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھا جاتا تھا، مگر اب منظم مسلح گروہ جدید میزائلوں، ڈرونز اور بحری حملوں کی صلاحیت کے ذریعے پوری عالمی سپلائی چین کو یرغمال بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اس صورتحال نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ غیر ریاستی عناصر بھی ایسے وسائل حاصل کر چکے ہیں جن کے ذریعے وہ عالمی معیشت پر ریاستوں سے کم اثر نہیں ڈال سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ متعدد آئل ٹینکروں نے اپنے راستے تبدیل کیے اور یورپی بحری اداروں نے بھی تجارتی جہازوں کو احتیاطی ہدایات جاری کیں، جو اس بحران کی سنگینی کا واضح ثبوت ہے۔

حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب سے وابستہ تجارتی سرگرمیوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں صرف ایک ملک کے خلاف کارروائی نہیں بلکہ بین الاقوامی تجارت کی آزادی پر حملہ ہیں۔ سمندری راستوں کی آزادی بین الاقوامی قانون کا بنیادی اصول ہے، جس پر عالمی تجارت کا پورا نظام قائم ہے، اگر کسی گروہ کو یہ حق دے دیا جائے کہ وہ سیاسی یا عسکری مقاصد کے لیے تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت روک دے تو پھر عالمی تجارت مسلسل خوف اور غیر یقینی کا شکار ہو جائے گی۔ پاکستان کی تشویش اسی تناظر میں نہایت برمحل ہے کیونکہ اس کی تجارت کا بڑا حصہ بھی انھی عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہے۔

 پاکستان نے سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کر کے نہ صرف دونوں ممالک کے تاریخی تعلقات کو مضبوط کیا ہے بلکہ ایک اصولی موقف بھی اختیار کیا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کئی دہائیوں پر محیط اعتماد، مذہبی وابستگی، اقتصادی تعاون اور دفاعی اشتراک پر استوار ہیں۔ اس لیے اگر کسی بحران کے ذریعے سعودی عرب کو براہِ راست جنگ میں گھسیٹنے یا اس کے تجارتی مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے تو پاکستان کا اس پر تشویش ظاہر کرنا ایک ذمے دار دوست اور شراکت دار ریاست کے کردار کی عکاسی کرتا ہے۔

اس وقت اصل تشویش صرف بحیرہ احمر تک محدود نہیں رہی بلکہ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی نے پورے خطے کو ایک نئے اور زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ دونوں ممالک کی جانب سے مسلسل سخت بیانات، ایک دوسرے کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں اور فوجی کارروائیوں کا دائرہ وسیع ہونے کے امکانات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جنگ اب محدود رہنے کے بجائے تدریجاً علاقائی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ جب عسکری کارروائیوں کا ہدف پل، بجلی گھر، توانائی کے مراکز اور دیگر شہری تنصیبات بن جائیں تو اس کے اثرات براہِ راست عام شہریوں پر مرتب ہوتے ہیں۔

اس تمام منظرنامے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ بین الاقوامی قانون اور سمندری ضابطوں کا احترام مسلسل کمزور پڑ رہا ہے، اگر بحری گزرگاہوں کو سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کیا جانے لگا تو مستقبل میں دنیا کے دیگر حساس سمندری راستے بھی اسی نوعیت کے تنازعات کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اس لیے عالمی برادری کی ذمے داری ہے کہ وہ آزادی جہاز رانی، تجارتی تحفظ اور شہری بنیادی ڈھانچے کے احترام کو ہر حال میں یقینی بنانے کے لیے موثر اقدامات کرے۔

پاکستان کے لیے موجودہ حالات ایک واضح پیغام رکھتے ہیں کہ بحری سلامتی کو قومی سلامتی کی حکمت عملی کا مزید مضبوط حصہ بنایا جائے۔ بحری افواج کی استعداد، ساحلی نگرانی، بندرگاہوں کی حفاظت، تجارتی جہازوں کی سیکیورٹی اور بین الاقوامی بحری تعاون کو مزید موثر بنانا وقت کی ضرورت ہے۔ گوادر اور کراچی جیسے اہم بندرگاہی مراکز صرف قومی معیشت کے ستون نہیں بلکہ علاقائی تجارت کے اہم مراکز بھی ہیں، جن کا تحفظ ہر حال میں یقینی بنایا جانا چاہیے۔

اس بحران میں پاکستان کے لیے سفارتی توازن بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ ایک جانب سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں تو دوسری جانب ایران ایک ہمسایہ اور اہم علاقائی ملک ہے۔ اس لیے پاکستان کا کردار اشتعال انگیزی میں اضافہ کرنے کے بجائے کشیدگی کم کرنے، رابطے بڑھانے اور مذاکرات کی حمایت کرنے کا ہونا چاہیے۔ یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کی خارجہ پالیسی کی روایات، قومی مفادات اور علاقائی امن کے تقاضوں سے مطابقت رکھتا ہے۔

عالمی طاقتوں کو بھی یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ طاقت کے ذریعے حاصل ہونے والی کامیابیاں عارضی ہوتی ہیں، جب کہ ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والا عدم استحکام کئی دہائیوں تک برقرار رہ سکتا ہے۔ مشرق وسطیٰ پہلے ہی جنگوں، پابندیوں، پراکسی تنازعات اور بیرونی مداخلتوں کے باعث شدید نقصان اٹھا چکا ہے، اگر موجودہ کشیدگی کو بروقت نہ روکا گیا تو اس کے اثرات صرف جنگ میں شامل ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری عالمی معیشت، توانائی کے نظام اور بین الاقوامی امن کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔

پاکستان کا حالیہ موقف اسی لیے اہم ہے کہ اس میں اپنے قومی اور بحری مفادات کے تحفظ کا واضح اعلان بھی موجود ہے، سعودی عرب کی سلامتی کے ساتھ اصولی یکجہتی بھی اور بالواسطہ یہ پیغام بھی کہ سمندری راستوں کو جنگی حکمت ِ عملی کا ہدف بنانا کسی کے مفاد میں نہیں۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ اشتعال انگیز بیانات، عسکری دھمکیوں اور جوابی کارروائیوں کے بجائے سنجیدہ سفارت کاری، علاقائی مکالمے اور بین الاقوامی قانون کی بالادستی کو ترجیح دی جائے، اگر بنیادی ڈھانچے، توانائی کے مراکز، بحری راستوں اور تجارتی جہازوں کو جنگ کا مستقل ہدف بنا دیا گیا تو دنیا ایک ایسے بحران میں داخل ہو سکتی ہے جس کے اثرات نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔ امن صرف جنگ نہ ہونے کا نام نہیں بلکہ ایسا بین الاقوامی نظم ہے جس میں تجارت محفوظ ہو، ریاستوں کی خودمختاری محترم رہے، شہری تنصیبات محفوظ ہوں اور اختلافات کا فیصلہ میدان جنگ کے بجائے مذاکرات کی میز پر ہو۔ یہی وہ راستہ ہے جو مشرق وسطیٰ کو مزید تباہی سے بچا سکتا ہے اور یہی وہ سوچ ہے جس کی آج پوری دنیا کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔

متعلقہ مضامین

  • معرکہ حق میں بھارت کو کتنا نقصان پہنچا؟ احتجاج میں شامل بھارتی طلبہ نے بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کردی
  • ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا