Express News:
2026-06-03@00:25:11 GMT

سیز فائر کی کہانی

اشاعت کی تاریخ: 13th, May 2025 GMT

پاکستان اور بھارت کے درمیان سیز فائر ہو گیا ہے۔ سیز فائرکا کریڈٹ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ لے رہے ہیں۔ ان کے ساتھ ان کی ٹیم جس میں سیکریٹری خارجہ اور نائب صدر شامل ہیں وہ بھی اس سیز فائزکا کریڈٹ لے رہے ہیں۔ لیکن سب جاننا چاہتے ہیں کہ اس سیز فائر کی کہانی کیا ہے۔

عجیب صورتحال ہے کہ بھارت کہتا ہے کہ اس نے تو امریکیوں کو سیز فائر کے لیے کہا ہی نہیں۔ اس نے تو امریکیوں سے بات ہی نہیں کی ہے۔ جب کہ پاکستان کہتا ہے کہ اس نے سیز فائر کی کوئی درخواست بھارت کو نہیں کی ہے۔ اس لیے سیز فائر کی کہانی ایسی ہے کہ یہ سیز فائر ہے بھی اور اس کو دونوں فریقین مان بھی رہے ہیں۔ لیکن کیسے ہوا، پر اختلاف ہے۔

سب سے پہلے یہ بات تو واضح ہے کہ پاکستان کو امریکا کی ثالثی پر کوئی اعتراض نہیں۔ بلکہ پاکستان کو تو دنیا کے کسی ملک کی ثالثی پر بھی اعتراض نہیں ہے۔ ہم نے تقریباً دنیا کے تمام بڑے ممالک جو ثالثی کا کردارادا کر سکتے تھے انھیں جنگ روکنے اور ثالثی کے لیے کہا۔ پاکستان پہلگام کے واقعہ کی غیر جانبدارانہ اور کسی عالمی ایجنسی سے تحقیقات کے لیے بھی تیار تھا۔

ہم جس کو بھی جنگ روکنے کے لیے کہہ رہے تھے ساتھ غیر جانبدارانہ تحقیقات کی بات بھی کر رہے تھے۔ ہمارا سادہ بیانیہ تھا کہ پہلے تحقیقات کر لیں، اگر تحقیقات میں کچھ ثابت ہو تو جنگ کر لیں۔ تحقیقات سے پہلے جنگ کیسے ممکن ہے۔ لیکن بھارت کسی بھی ملک کی ثالثی قبول کرنے کے لیے تیار نہیں تھا۔ وہ جنگ کے لیے تیار تھا۔

اسی لیے آپ دیکھیں کہ جنگ سے پہلے امریکا نے اس معاملے سے خود کو الگ کر لیا تھا۔ وہی امریکا جو اب ثالثی کا کریڈٹ لے رہا ہے۔ جنگ سے پہلے امریکی صدر اور نائب صدر دونوں کہہ رہے تھے کہ اگر دونوں ملک لڑتے ہیں تو ہم کیا کریں ۔

یہ دونوں ملک صدیوں سے لڑ رہے ہیں۔ نائب صدر نے تو کہا کہ یہ امریکا کا کام نہیں کہ دونوں ممالک کے درمیان جنگ روکے۔ اگر دونوں لڑنا چاہتے ہیں تو لڑیں۔ یہ بھارتی لائن تھی۔ بھارت نے امریکا کو کہا کہ وہ لڑنا چاہتا ہے۔ اس لیے اسے کسی بھی قسم کی ثالثی قبول نہیں۔ جب بھارت کو ثالثی قبول ہی نہیں تھی تو اکیلے پاکستان کے ثالثی ماننے سے تو ثالثی نہیں ہونی تھی۔ اس لیے امریکا نے جنگ شروع ہونے سے پہلے ہی خود کو الگ کر لیا تھا۔

سعودی عرب اور ایران نے کوشش کی لیکن وہ کامیاب نہیں رہی۔ سعودی وزیر پاکستان سے گئے اور لڑائی شروع ہو گئی تھی۔ ایرانی وزیر خارجہ کے دورے بھی کوئی کامیاب نہیں رہے تھے۔ اس لیے ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ یہ وہی امریکا ہے جو پہلے ثالثی کروانے کو تیار نہیں تھا۔ اب کریڈٹ لے رہا ہے۔

لہٰذا صاف بات ہے کہ بھارت نے ہی امریکا کو اشارہ دیا کہ وہ ثالثی کے لیے تیار ہے اور بھارت کے ثالثی پر تیار ہونے کے بعد ہی امریکا نے پاکستان سے بات کی تھی۔ اس لیے یہ بات کوئی راز نہیں کہ پہلے بھارت نے ہی امریکا کو ثالثی سے روکا ہوا تھا اور پھر بھارت نے ہی امریکا سے ثالثی کی درخواست کی۔

حالانکہ بھارت نے آئی ایم ایف میں پاکستان کے قرض کی قسط رکوانے کی بہت کوشش کی۔ بھارتی نمایندہ نے آئی ایم ایف کے بورڈ اجلاس سے بائیکاٹ بھی کیا۔لیکن امریکا سمیت تمام ممالک نے پاکستان کے حق میں ووٹ دیا۔ اس لیے سمجھیں بھارت امریکا سے خوش نہیں ہوگا کہ اس نے جنگ کے دوران آئی ایم ایف میں پاکستان کے قرض کی منظوری کے حق میں ووٹ دیا۔ ایسے میں بھارت کا پھر امریکا کو ثالثی اور سیز فائر کے لیے کہنا ۔ اس بات کا ثبوت ہے کہ بھارت جنگ بند کرنا چاہتا تھا۔ وہ اب مزید جنگ کا متحمل نہیں تھا۔ اسے اندازہ ہوگیا تھا کہ معاملات اس کے ہاتھ سے نکل گئے ہیں۔

اب تک جو خبریں سامنے آئی ہیں۔ پہلے امریکا کو جنگ سے الگ کرنے کے لیے بھی بھارت نے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کو استعمال کیا تھا۔کیونکہ وہ پہلگام کے واقعہ کے وقت بھارت میں تھے۔ اور بعد میں سیز فائر کے لیے بھی بھارت نے امریکی نائب صدر سے ہی رابطہ کیا تھا۔ بہرحال اب بھارت امریکا کے کسی بھی قسم کے کردار کو ماننے کے لیے تیار ہی نہیں۔ بھارت کہہ رہا ہے کہ سیز فائر میں کوئی امریکی کردار نہیں یہ تو پاکستان نے سیز فائر کی درخواست کی جس کو بھارت نے قبول کر لیا ہے۔ بات اگر پاکستان اور بھارت کے درمیان ہوئی ہوتی تو سب سے پہلے سیز فائر کی خبر امریکا سے کیسے آگئی۔ لیکن بھارت اور بالخصوص نریندر مودی اس وقت بھارت میں شدید مشکل میں ہیں۔ اس لیے سیز فائر پر بار بار موقف بدل رہے ہیں۔

بھارت کی فوجی کمان نے جو پریس بریفنگ کی ہے۔ اس میں یہی کہا گیا ہے کہ پاکستان کے ڈی جی ایم او کی درخواست پر سیز فائر کیا گیا ہے۔ لیکن یہاں بھارت نے یہ تسلیم کیا ہے کہ سات مئی کو پہلے بھارت نے اپنے ڈی جی ایم او کے ذریعہ پاکستان کو سیز فائر کا پیغام بھجوایا تھا۔ لیکن پاکستان نے اس پیغام کے جواب میں کہا تھا کہ ہم واپس اسٹرائیک کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

یہ اس وقت کی بات ہے جب بھارت نے مریدکے اور بہاولپور پر حملہ کیا تھا۔ حالانکہ پاکستان نے بھارت کے جنگی جہاز گرا لیے تھے۔ لیکن پاکستان نے تب بھارت کی سیز فائر کی درخواست کا کوئی جواب نہیں دیا تھا۔ یہ بات بھارتی فوجی قیادت نے اپنی پریس بریفنگ میں کہی ہے کہ پہلے انھوں نے سیز فائر کی درخواست بھیجی تھی لیکن پاکستان نے قبول نہیں کی۔ بھارت کا موقف ہے کہ سیز فائر کی جو درخواست پاکستان نے سات آٹھ مئی کو مسترد کر دی تھی۔

وہ پاکستان نے 11مئی کی شام قبول کر لی۔ پاکستان کا موقف ہے کہ ہمارے پاس ان کی سیز فائر کی درخواست کافی دن سے موجود تھی۔ ہم مان نہیں رہے تھے۔ پھر جب ہم نے واپس اسٹرائیک مکمل کر لی تو ہم مان گئے۔ لیکن پہلے بھارت نے درخواست کی تھی۔ بھارت اپنی پہلے والی درخواست مانتا ہے۔ لیکن کہتا ہے کہ 11مئی کو کوئی درخواست نہیں کی۔

یقیناً سادہ بات ہے جب بھارت نے امریکا کو سیز فائر کے لیے کہا تو سچا بننے کے لیے یہ بھی کہا ہوگا کہ ہم نے تو پہلے دن ہی سیز فائر کی درخواست بھیجی تھی پاکستان نہیں ما ن رہا۔ آپ پاکستان کو سیز فائر پر منائیں۔ جب امریکا اور پاکستان کے درمیان سیز فائر پر بات طے ہوگئی ہوگی۔ تو امریکا نے پاکستان سے کہا ہوگا کہ آپ کے پاس بھارت کی جانب سے سیز فائر کی درخواست زیر التوا ہے اسے قبول کر لیں۔ پاکستان نے قبول کر کے بھارت کو اطلاع کر دی۔ لیکن اس میں بھارت کا یہی خیال ہوگا کہ امریکا سیز فائر میں اپنا کردار خفیہ ہی رکھے گا۔ لیکن شاید بھارت کو اندازہ نہیں تھا کہ امریکا پاکستان اور بھارت کے سیز فائر کے اعلان سے پہلے خود اعلان کر دے گا۔ اور دنیا کوپتہ چل جائے گا کہ امریکا نے سیز فائر کروایا ہے۔

امریکا کی جانب سے پہلے سیز فائر کے اعلان اور بعد میں ڈولنڈ ٹرمپ کے دوسرے ٹوئٹ نے بھارت میں نریدر مودی کی حکومت کی پوزیشن بہت خراب کر دی ہے۔ ٹرمپ نے کشمیر پر بھی ثالثی کی پیشکش کی ہے۔ جو بھی مودی کے لیے سیاسی موت سے کم نہیں۔ اسی لیے ایک طرف پاکستان امریکا کا شکریہ ادا کر رہا ہے۔ دوسری طرف بھارت جس نے امریکا کو سیز فائر کی درخواست کی ہے وہ شکریہ بھی نہیں ادا کر پا رہا ہے۔ بلکہ یہ صفائیاں دے رہا ہے کہ اس نے سیز فائر کی درخواست نہیں کی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: سیز فائر کی درخواست سیز فائر کے لیے نے سیز فائر کی کے لیے تیار کو سیز فائر درخواست کی پاکستان نے کہ پاکستان پاکستان کو پاکستان کے بھارت نے ا امریکا کو امریکا نے ہی امریکا کی ثالثی نہیں تھا کہ بھارت بھارت کو کہ اس نے رہے ہیں ہوگا کہ رہے تھے ہی نہیں سے پہلے نہیں کی قبول کر اس لیے رہا ہے تھا کہ

پڑھیں:

عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی

بین الاقوامی سیاست کے افق پر بعض لمحات ایسے طلوع ہوتے ہیں جو محض روزمرہ سفارتی سرگرمیوں کا حصہ نہیں ہوتے بلکہ تاریخ کے دھارے میں ایک معنی خیز موڑ کی حیثیت اختیار کر لیتے ہیں۔ آج مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر اسی نوع کی بے یقینی، اضطراب اور کشمکش سے دوچار ہے۔

ایک طرف جنگ کے بادل ہیں جو لبنان، غزہ اور خطے کے دیگر حساس مقامات پر مسلسل گہرے ہوتے جا رہے ہیں، دوسری طرف سفارت کاری کی وہ نحیف مگر روشن کرن بھی موجود ہے جو انسانیت کو ایک بڑے تصادم سے بچانے کی جدوجہد کر رہی ہے۔ ایسے نازک ماحول میں پاکستان کے کردار کو عالمی سطح پر ملنے والی پذیرائی نہ صرف قومی سفارت کاری کی کامیابی کا اعتراف ہے بلکہ اس حقیقت کی علامت بھی ہے کہ بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے میں پاکستان کو ایک ذمے دار، متوازن اور قابلِ اعتماد ریاست کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالاس کی جانب سے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہنا بظاہر ایک بیان ہے، مگر اس کے مضمرات کہیں زیادہ گہرے ہیں۔ عالمی سیاست میں تعریف کے الفاظ اکثر مفادات کے پردے میں لپٹے ہوتے ہیں، لیکن جب کسی ملک کی ثالثی کی صلاحیت، اس کی قائدانہ بصیرت اور امن کے لیے اس کی سنجیدہ کوششوں کا اعتراف مختلف بین الاقوامی حلقوں سے ہونے لگے تو یہ محض سفارتی آداب نہیں رہتے بلکہ ایک نئی حقیقت کا اظہار بن جاتے ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی گزشتہ نصف صدی سے عالمی سیاست کے حساس ترین موضوعات میں شمار ہوتی رہی ہے۔

ان دونوں ممالک کے درمیان محاذ آرائی صرف دو ریاستوں کا تنازع نہیں بلکہ اس کے اثرات توانائی کی عالمی منڈیوں، بین الاقوامی تجارت، علاقائی سلامتی اور عالمی اقتصادی استحکام تک پھیل جاتے ہیں۔ ایسی صورت میں اگر پاکستان نے متعدد مواقع پر دونوں فریقوں کو جنگ کے دہانے سے واپس لانے میں کردار ادا کیا ہے تو یہ ایک ایسی کامیابی ہے جسے محض رسمی تعریف کے پیمانے سے نہیں ناپا جا سکتا۔ یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ موجودہ عالمی نظام میں طاقت کی تعریف تبدیل ہو رہی ہے۔

ماضی میں عسکری قوت کو ریاستی برتری کی سب سے بڑی علامت سمجھا جاتا تھا، مگر آج دنیا بتدریج اس نتیجے پر پہنچ رہی ہے کہ مستقل اثر و رسوخ صرف وہی ریاست حاصل کر سکتی ہے جو تنازعات کے حل میں معاون ثابت ہو، جو پل تعمیر کرے، دیواریں نہیں؛ جو رابطے پیدا کرے، فاصلے نہیں۔ پاکستان کی حالیہ سفارتی سرگرمیاں اسی نئے تصور قوت کی عکاسی کرتی ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان براہِ راست یا بالواسطہ روابط کی راہیں ہموار کرنا، مختلف سطحوں پر اعتماد سازی کے عمل کو زندہ رکھنا اور کشیدگی کو جنگ میں تبدیل ہونے سے روکنے کی کوشش کرنا درحقیقت ایک ایسی ذمے داری ہے جس کے نتائج پوری دنیا پر مرتب ہوتے ہیں۔ دوسری طرف لبنان کی صورتحال عالمی ضمیر کے لیے ایک کڑا امتحان بن چکی ہے۔

اسرائیلی حملوں، حزب اللہ کے ساتھ جاری محاذ آرائی اور علاقائی طاقتوں کی مداخلت نے اس ملک کو ایک مرتبہ پھر عدم استحکام کے بھنور میں دھکیل دیا ہے۔ لبنان ایک ایسا معاشرہ ہے جو پہلے ہی معاشی بحران، سیاسی تقسیم اور سماجی مشکلات کا شکار ہے۔ ایسے میں مسلسل عسکری کارروائیاں نہ صرف اس کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا رہی ہیں بلکہ لاکھوں شہریوں کے مستقبل کو بھی تاریکی کی طرف دھکیل رہی ہیں۔

 امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو سے رابطہ اور بیروت میں ممکنہ کارروائی کو روکنے کی کوشش اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ واشنگٹن بھی اس بحران کے ممکنہ نتائج سے پوری طرح آگاہ ہے۔ تاہم مسئلہ یہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں سفارتی بیانات اور زمینی حقائق کے درمیان ہمیشہ ایک وسیع فاصلہ موجود رہا ہے۔ ایک جانب جنگ بندی کے اعلانات ہوتے ہیں، دوسری جانب گولہ باری، فضائی حملے اور عسکری پیش قدمی جاری رہتی ہے۔ یہی تضاد عالمی سفارت کاری کی ساکھ کو مجروح کرتا ہے اور متحارب فریقوں کے درمیان عدم اعتماد کو مزید گہرا کر دیتا ہے۔

 نیتن یاہو کی جانب سے جنوبی لبنان میں کارروائیاں جاری رکھنے کے اعلانات دراصل اسی پیچیدہ حقیقت کی ترجمانی کرتے ہیں۔ اسرائیل اپنی سلامتی کے نام پر عسکری اقدامات کو ناگزیر قرار دیتا ہے، جب کہ لبنان اور خطے کی دیگر قوتیں انھیں جارحیت اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتی ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ جب ہر فریق اپنی کارروائی کو دفاع اور دوسرے کے عمل کو جارحیت قرار دینے لگے تو پھر امن کا راستہ مزید دشوار ہو جاتا ہے۔ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں بین الاقوامی اداروں اور ثالث ریاستوں کا کردار فیصلہ کن اہمیت اختیار کر لیتا ہے۔

 لبنان میں ہونے والی ہلاکتوں اور زخمیوں کے اعداد و شمار محض شماریاتی معلومات نہیں بلکہ انسانی المیوں کی ایک طویل داستان ہیں۔ ہزاروں جانوں کا ضیاع اور لاکھوں انسانوں کی بے یقینی اس بات کا ثبوت ہے کہ جنگ کبھی بھی صرف فوجیوں کے درمیان نہیں ہوتی، اس کا سب سے بھاری بوجھ ہمیشہ عام شہریوں کے کندھوں پر آتا ہے۔ ایک ماں کی آغوش اجڑتی ہے، ایک بچے کا مستقبل تاریک ہوتا ہے، ایک خاندان اپنے سہارے سے محروم ہو جاتا ہے۔ افسوس یہ ہے کہ عالمی سیاست میں اکثر انسانی دکھ کو جغرافیائی مفادات کے شور میں نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔

 ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ جاری مذاکراتی عمل کو معطل کرنے کی اطلاعات اسی بگڑتی ہوئی صورتحال کا منطقی نتیجہ معلوم ہوتی ہیں، اگرچہ اس حوالے سے سرکاری سطح پر مکمل وضاحت سامنے نہیں آئی، تاہم ایرانی قیادت کے بیانات واضح کرتے ہیں کہ لبنان میں جاری کارروائیاں اعتماد کے ماحول کو شدید نقصان پہنچا رہی ہیں۔

سفارت کاری کا بنیادی اصول یہ ہے کہ مذاکرات طاقت کے استعمال کا متبادل ہوتے ہیں، لیکن جب میدانِ جنگ مسلسل گرم رہے تو مذاکراتی میز پر سنجیدہ پیش رفت تقریباً ناممکن ہو جاتی ہے۔ ایران کا یہ مؤقف کہ جنگ بندی کا اطلاق تمام محاذوں پر ہونا چاہیے، بین الاقوامی اصولوں کے تناظر میں خاصی اہمیت رکھتا ہے، اگر ایک معاہدہ صرف مخصوص علاقوں تک محدود رہے اور دوسرے مقامات پر عسکری کارروائیاں جاری رہیں تو اس کی حیثیت ایک عارضی سیاسی انتظام سے زیادہ نہیں رہتی۔ اس پورے بحران نے اقوام متحدہ کے کردار پر بھی کئی سوالات اٹھا دیے ہیں۔ سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس، تشویش کے بیانات اور قراردادوں کے مسودے اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن زمینی حقائق یہ ظاہر کرتے ہیں کہ عالمی ادارے اکثر طاقتور ریاستوں کے سیاسی مفادات کے سامنے بے بس دکھائی دیتے ہیں۔

بین الاقوامی قانون کی بالادستی کا تصور اسی وقت معتبر رہ سکتا ہے جب اس کا اطلاق سب پر یکساں ہو، اگر بعض ریاستوں کے لیے ایک معیار اور دوسروں کے لیے دوسرا معیار اختیار کیا جائے تو عالمی نظام کی اخلاقی بنیادیں کمزور پڑ جاتی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے سلامتی کونسل میں اختیار کیا گیا مؤقف خاص اہمیت رکھتا ہے۔ لبنان کی صورتحال کو ایک انسانی بحران قرار دینا دراصل اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ جنگوں کو محض عسکری زاویے سے نہیں دیکھا جا سکتا۔ انسانی جانوں کا تحفظ، بنیادی حقوق کی پاسداری اور شہری آبادی کا امن ہر قسم کی سیاسی مصلحت سے بالاتر ہونا چاہیے۔

پاکستان نے مسلسل یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ تنازعات کا حل طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات، سفارت کاری اور بین الاقوامی قانون کے دائرے میں تلاش کیا جانا چاہیے۔ یہی مؤقف آج خطے کی ضرورت بھی ہے اور عالمی امن کا تقاضا بھی۔ اس پوری صورتحال کو اگر وسیع تر تناظر میں دیکھا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ اس وقت ایک تاریخی دوراہے پر کھڑا ہے۔ ایک راستہ مسلسل عسکری تصادم، انتقامی کارروائیوں اور بڑھتی ہوئی نفرت کی طرف جاتا ہے۔ دوسرا راستہ مکالمے، مفاہمت اور سیاسی حل کی جانب لے جاتا ہے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ جنگ کا راستہ ہمیشہ زیادہ شور پیدا کرتا ہے جب کہ امن کی کوششیں خاموشی سے آگے بڑھتی ہیں۔ میڈیا کی شہ سرخیوں میں بمباری کی آواز زیادہ سنائی دیتی ہے، مگر سفارت کاری کی خاموش محنت اکثر نظروں سے اوجھل رہتی ہے۔

تاریخ گواہ ہے کہ جنگیں بالآخر مذاکراتی میز پر ہی ختم ہوتی ہیں۔ کوئی بھی تنازع مستقل طور پر بارود کے ذریعے حل نہیں کیا جا سکا۔ انسانی تہذیب کی بقا، اقتصادی ترقی اور عالمی استحکام کا انحصار بالآخر مکالمے پر ہی ہوتا ہے۔ آج لبنان، ایران، امریکا اور اسرائیل کے گرد گھومتا بحران اسی ابدی حقیقت کی ایک نئی یاد دہانی ہے، اگر عالمی قیادت نے دانش کا راستہ اختیار کیا تو یہ خطہ ایک اور بڑے سانحے سے بچ سکتا ہے، لیکن اگر طاقت کے استعمال کو ہی واحد حل سمجھا گیا تو اس کے نتائج صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا کو عدم استحکام کی نئی لہر کا سامنا کرنا پڑے گا۔ایسے میں پاکستان کی آواز، جو جنگ کے شور میں امن، مفاہمت اور مذاکرات کی بات کر رہی ہے، محض ایک سفارتی مؤقف نہیں بلکہ ایک اخلاقی ضرورت اور بین الاقوامی ذمے داری کی علامت بن چکی ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو تباہی کے اندھیروں سے نکل کر امن، استحکام اور مشترکہ انسانی مستقبل کی طرف لے جا سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟
  • خطے میں تنازعات کے پُرامن حل کیلئے کوششیں جاری رکھیں گے: اسحاق ڈار