27ویں آئینی ترمیم: مشترکہ پارلیمانی کمیٹی اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آگئی
اشاعت کی تاریخ: 9th, November 2025 GMT
27ویں آئینی ترمیم سے متعلق مشترکہ پارلیمانی کمیٹی اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آگئی جب کہ حکومتی اتحادی جماعتوں کی جانب سے تین مزید ترامیم پیش کردی گئیں۔
اے این پی، بی این پی اور ایم کیو ایم نے اپنی ترامیم بھی پیش کر دیں، ذرائع نے کہا کہ مشترکہ پارلیمانی کمیٹی نے آئینی عدالتوں کے قیام کی شق کی منظوری دیدی۔
زیر التوا مقدمات میں فیصلے کی مدت چھ ماہ سے بڑھا کرایک سال کرنے کی ترمیم منظور کرلی گئی، ایک سال تک مقدمہ کی پیروی نہ ہونے پر اسے نمٹا ہوا تصور کیا جائے گا۔
اے این پی نے خیبر پختونخوا کا نام تبدیل کرنے کی ترمیم کمیٹی میں پیش کردی، خیبر پختونخوا سے نام خیبر ہٹا کر پختونخوا رکھنے کے ترمیم پیش کی گئی۔
اے این پی نے موقف اپنایا کہ خیبر ضلع ہے دیگر صوبوں میں نام کیساتھ ضلعے کا نام نہیں لکھا جاتا۔
ایم کیو ایم کے بلدیاتی نمائندوں کو فنڈ سے متعلق ترمیم پر اتفاق کیا گیا، ذرائع نے کہا کہ آرٹیکل 243اور آرٹیکل 200 سے متعلق مشاورت جاری ہے۔
ذرائع کا کہنا تھا کہ بلوچستان اسمبلی کی نشستیں بڑھانے پر اتفاق ہوگیا، کتنی نشستیں بڑھائی جائینگی اس پر بات ہونا باقی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
محکمہ موسمیات کے مطابق موسلادھار بارشوں کے باعث اسلام آباد/راولپنڈی، پشاور، نوشہرہ، گجرات، گوجرانوالہ، لاہور، سیالکوٹ، ساہیوال، خانیوال، ملتان اور فیصل آباد میں نشیبی علاقے زیر آب آنے کا خدشہ ہے۔ اسلام ٹائمز۔ آئندہ چوبیس گھنٹوں کے دوران موسلادھار بارشوں کے سبب خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، مری، گلیات اور کشمیر کے پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ ہے۔ محکمہ موسمیات نے اس حوالے سے انتباہ جاری کردیا جس میں کہا ہے کہ آئندہ چوبیس گھنٹوں کے دوران کشمیر، مری، گلیات، شمال مشرقی پنجاب، اسلام آباد، خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، ڈیرہ غازی خان کے پہاڑی ندی نالوں اور شمال مشرقی بلوچستان کے مقامی/ بر ساتی ندی نالوں میں طغیانی کا خدشہ ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق موسلادھار بارشوں کے باعث اسلام آباد/راولپنڈی، پشاور، نوشہرہ، گجرات، گوجرانوالہ، لاہور، سیالکوٹ، ساہیوال، خانیوال، ملتان اور فیصل آباد میں نشیبی علاقے زیر آب آنے کا خدشہ ہے۔ موسلادھار بارش، تیز آندھی اور آسمانی بجلی گرنے کے باعث کمزور تعمیرات (سولر پینلز، بجلی کے کھمبے، بل بورڈز وغیرہ) کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔