حماس نے امریکی نژاد اسرائیلی قیدی کو رہا کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 13th, May 2025 GMT
ریڈ کراس کا عملہ امریکی نژاد ایڈن الیگزینڈر کو اسرائیلی فوج کے سپرد کرے گا جو اسے امریکا سے آئے ہوئے ان کے والدین سے ملائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکہ کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کے بعد حماس نے امریکی نژاد اسرائیلی قیدی ایڈن الیگزینڈر کو رہا کر دیا۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق حماس نے معاہدے کے تحت 21 سالہ ایڈن الیگزینڈر کو ریڈ کراس کے حوالے کردیا۔ ریڈ کراس کا عملہ امریکی نژاد ایڈن الیگزینڈر کو اسرائیلی فوج کے سپرد کرے گا جو اسے امریکا سے آئے ہوئے ان کے والدین سے ملائیں گے۔ حماس نے امید ظاہر کی ہے کہ امریکی نژاد اسرائیلی کی رہائی سے جنگ زدہ غزہ کی پٹی میں سیز فائر مذاکرات کی بحالی کی راہ ہموار ہوسکتی ہے۔ ایڈن الیگزینڈر کو حماس نے 7 اکتوبر 2023 کو اسرائیل پر حملے کے وقت جھڑپ کے دوران قیدی بنایا تھا اور دیگر 250 افراد کے ہمراہ غزہ لے آئے تھے۔
امریکی نژد اسرائیلی فوجی نے حماس کی قید میں 584 دن گزارے اور بالکل تندرست حالت میں واپس لوٹے ہیں۔ خیال رہے کہ یہ رہائی امریکا اور حماس کے درمیان ہونے والے براہِ راست مذاکرات کے نتیجے میں عمل میں لائی گئی ہے۔ امریکا کے خصوصی ایلچی نے کہا ہے کہ ایڈن الیگزینڈر کی رہائی غزہ میں دو سال سے جاری جنگ کے خاتمے کا باعث بنے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: امریکی نژاد
پڑھیں:
اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیل میں وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر مسلسل تنقید میں اضافہ ہو رہا ہے۔ الجزیرہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی سیاست دانوں اور مختلف ذرائع ابلاغ کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بنیامین نیتن یاہو قومی اہداف کی بجائے سیاسی مفادات اور اقتدار کے تحفظ کو ترجیح دے رہے ہیں۔ اسرائیلی میڈیا میں اظہار خیال کرنے والے مبصرین نے کہا کہ بہت سے اسرائیلی شہری اور سیاسی حلقے توقع کر رہے تھے کہ نیتن یاہو ایسے اقدامات کریں گے، جنہیں وہ اسرائیل کے تزویراتی مقاصد کے حصول کیلئے ضروری سمجھتے ہیں، تاہم ان کی حالیہ پالیسیوں نے ان توقعات کو پورا نہیں کیا۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایک بار پھر ریاستی مفادات کے بجائے اپنی سیاسی بقا کو ترجیح دی، تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔