حماس نے امریکی نژاد اسرائیلی قیدی کو رہا کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 12th, May 2025 GMT
ریڈ کراس کا عملہ امریکی نژاد ایڈن الیگزینڈر کو اسرائیلی فوج کے سپرد کرے گا جو اسے امریکا سے آئے ہوئے ان کے والدین سے ملائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکہ کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کے بعد حماس نے امریکی نژاد اسرائیلی قیدی ایڈن الیگزینڈر کو رہا کر دیا۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق حماس نے معاہدے کے تحت 21 سالہ ایڈن الیگزینڈر کو ریڈ کراس کے حوالے کردیا۔ ریڈ کراس کا عملہ امریکی نژاد ایڈن الیگزینڈر کو اسرائیلی فوج کے سپرد کرے گا جو اسے امریکا سے آئے ہوئے ان کے والدین سے ملائیں گے۔ حماس نے امید ظاہر کی ہے کہ امریکی نژاد اسرائیلی کی رہائی سے جنگ زدہ غزہ کی پٹی میں سیز فائر مذاکرات کی بحالی کی راہ ہموار ہوسکتی ہے۔ ایڈن الیگزینڈر کو حماس نے 7 اکتوبر 2023 کو اسرائیل پر حملے کے وقت جھڑپ کے دوران قیدی بنایا تھا اور دیگر 250 افراد کے ہمراہ غزہ لے آئے تھے۔
امریکی نژد اسرائیلی فوجی نے حماس کی قید میں 584 دن گزارے اور بالکل تندرست حالت میں واپس لوٹے ہیں۔ خیال رہے کہ یہ رہائی امریکا اور حماس کے درمیان ہونے والے براہِ راست مذاکرات کے نتیجے میں عمل میں لائی گئی ہے۔ امریکا کے خصوصی ایلچی نے کہا ہے کہ ایڈن الیگزینڈر کی رہائی غزہ میں دو سال سے جاری جنگ کے خاتمے کا باعث بنے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: امریکی نژاد
پڑھیں:
جارحیت کے باوجود مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے، ایران نے امریکا کو بڑا پیغام دے دیا
تہران: ایران کے ایک سینئر سفارتی عہدیدار نے کہا ہے کہ موجودہ کشیدگی کے باوجود تہران نے سفارت کاری کا دروازہ بند نہیں کیا اور مختلف علاقائی ثالثوں کے ذریعے امریکا کے ساتھ پیغامات کا تبادلہ اب بھی جاری ہے۔
غیر ملکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایرانی عہدیدار نے الزام عائد کیا کہ امریکا ایران کے اہم بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنا کر بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔ شہری تنصیبات پر حملے جنگی جرائم کے زمرے میں آ سکتے ہیں اور یہ اقدامات امریکا کی بے بسی کو ظاہر کرتے ہیں۔
سینئر ایرانی سفارتی ذریعے نے کہا کہ ایران نے ہمیشہ مذاکرات اور سفارتی حل کے لیے مثبت رویہ اختیار کیا تاہم امریکا کی دھمکی آمیز پالیسی، جارحانہ اقدامات اور مسلسل فوجی کارروائیوں نے مذاکراتی ماحول کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران اب بھی اختلافات کے حل کے لیے سفارتی راستے کو اہم سمجھتا ہے، لیکن ساتھ ہی اپنی قومی سلامتی اور مفادات کے تحفظ کے لیے تمام ممکنہ آپشنز بھی زیر غور رکھے ہوئے ہے۔
ایرانی عہدیدار نے مزید دعویٰ کیا کہ موجودہ بحران کی بنیادی وجہ 17 جون کو ہونے والی مفاہمتی یادداشت سے امریکا کی مبینہ دستبرداری ہے۔ ان کے مطابق واشنگٹن نے اپنے وعدوں پر عمل نہیں کیا، جس کے باعث خطے میں کشیدگی دوبارہ شدت اختیار کر گئی۔
ایرانی حکام کے مطابق اگر امریکا اپنی پالیسی میں تبدیلی لاتا ہے اور معاہدے کی شرائط کا احترام کرتا ہے تو سفارتی پیش رفت کی گنجائش موجود ہے، تاہم موجودہ حالات میں تہران اپنی دفاعی اور سیاسی حکمت عملی پر عمل جاری رکھے گا۔
تاحال امریکی حکومت کی جانب سے ایرانی عہدیدار کے ان تازہ الزامات پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔