پیپلز پارٹی کا امریکی صدر ٹرمپ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اظہار تشکر ریلیاں نکالنے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 13th, May 2025 GMT
اپنے ایک بیان میں نثار کھوڑو نے کہا کہ ٹرمپ نے پاک بھارت کشیدگی ختم کروا کر جنگ بندی سے متعلق اپنی انتخابی مہم کے نعرے پر عمل کرکے دکھایا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ پیپلز پارٹی سندھ نے پاک بھارت جنگ بندی پر 15 مئی جمعرات کو سندھ بھر میں اظھار تشکر ریلیاں نکالنے کا اعلان کر دیا۔ پیپلز پارٹی سندھ کے صدر نثار کھوڑو نے اپنے پالیسی بیان میں کہا کہ پیپلز پارٹی کی جانب سے پاک بھارت جنگ بندی پر 15 مئی جمعرات کو شام 5 بجے سندھ کے تمام ضلعی ہیڈکوارٹرز میں اظہار تشکر ریلیاں نکالی جائیں گی۔ نثار کھوڑو نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا شکریہ ادا کرتے ہیں، جنہوں نے دو ایٹمی ممالک کے درمیان جنگ بندی کرانے میں بھرپور کردار ادا کیا، ٹرمپ نے پاک بھارت کشیدگی ختم کروا کر جنگ بندی سے متعلق اپنی انتخابی مہم کے نعرے پر عمل کرکے دکھایا ہے۔
نثار کھوڑو نے کہا کہ بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے اور جراۤت کا مظاہرہ کرنے پر فضائیہ، بحری اور پاک فوج کے جوانوں کو سلام پیش کرتے ہیں، پاکستان خطے میں امن کا خواہاں ہے اور جنگیں کسی مسئلے کا حل نہیں۔ نثار کھوڑو نے کہا کہ پاک بھارت سیز فائر کے بعد سندھ طاس معاہدے کے تنازع کو بھی حل ہونا چاہئے، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بین الاقوامی فورمز پر پاک بھارت کشیدگی کے خاتمے اور امن پسندی کی سوچ کے متعلق آواز اٹھا کر اپنا بھرپور کردار ادا کیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: پیپلز پارٹی پاک بھارت
پڑھیں:
بحری جہازوں کو ہونے والے نقصان کا ازالہ منجمد ایرانی اثاثوں سے کیا جائے گا، ٹرمپ کا بڑا اعلان
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ خلیجی خطے میں بحری جہازوں، کارگو اور متعلقہ سامان کو پہنچنے والے نقصانات کی تلافی کے لیے امریکا اپنی تحویل میں موجود منجمد ایرانی اثاثوں سے ادائیگی کرے گا۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا کہ آئندہ کسی بھی بحری جہاز، کارگو یا اس سے متعلق املاک کو نقصان پہنچنے کی صورت میں اس کا مالی ازالہ ایرانی فنڈز سے کیا جائے گا، جو امریکا کے کنٹرول میں ہیں۔
ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ ’آج سے اور آئندہ اطلاع تک، بحری جہازوں، کارگو یا ان سے متعلق کسی بھی نقصان کی ادائیگی امریکا کی تحویل میں موجود ایرانی رقم سے کی جائے گی۔‘
امریکی صدر کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خلیج، آبنائے ہرمز اور بحیرۂ احمر میں جاری کشیدگی کے باعث عالمی جہاز رانی اور توانائی کی ترسیل شدید دباؤ کا شکار ہے۔ حالیہ ہفتوں میں متعدد تجارتی جہازوں اور آئل ٹینکروں پر حملوں کی اطلاعات بھی سامنے آ چکی ہیں۔
اگرچہ ٹرمپ نے یہ واضح نہیں کیا کہ کن ایرانی اثاثوں یا کتنی رقم کو اس مقصد کے لیے استعمال کیا جائے گا، تاہم امریکا ماضی سے مختلف پابندیوں کے تحت اربوں ڈالر مالیت کے ایرانی اثاثے منجمد کیے ہوئے ہے۔
pic.twitter.com/Lbev6wPsNZ
— Rapid Response 47 (@RapidResponse47) July 23, 2026ماہرین کے مطابق اگر امریکا اس اعلان پر عملی اقدامات کرتا ہے تو اس سے ایران اور امریکا کے درمیان قانونی اور سفارتی تنازعات مزید شدت اختیار کر سکتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس معاملے پر بین الاقوامی قوانین، مالیاتی ضوابط اور خودمختار ریاستوں کے اثاثوں سے متعلق نئے سوالات بھی جنم لے سکتے ہیں۔