پاکستان کو آئی ایم ایف سے ایک ارب 2 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کی قسط موصول
اشاعت کی تاریخ: 14th, May 2025 GMT
رپورٹ کے مطابق عالمی مالیاتی ادارے نے ایک ارب 2 کروڑ 30 لاکھ ڈالر سٹیٹ بینک آف پاکستان کو منتقل کر دیئے، آئی ایم ایف کی جانب سے ای ایف ایف پروگرام کی دوسری قسط جاری کی گئی۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان کو عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے موجودہ قرض پروگرام کی دوسری قسط موصول ہوگئی۔ رپورٹ کے مطابق عالمی مالیاتی ادارے نے ایک ارب 2 کروڑ 30 لاکھ ڈالر سٹیٹ بینک آف پاکستان کو منتقل کر دیئے، آئی ایم ایف کی جانب سے ای ایف ایف پروگرام کی دوسری قسط جاری کی گئی۔ رپورٹ کے مطابق سٹیٹ بینک آف پاکستان نے عالمی مالیاتی ادارے سے رقم موصول ہونے کی تصدیق کر دی۔
سٹیٹ بینک کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ آئی ایم ایف کے جائزہ مشن نے پاکستان کی معیشت کا جائزہ لینے کے بعد قسط جاری کرنے کی سفارش کی تھی، آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ نے گزشتہ ہفتے 9 مئی کو بھارتی مخالفت کے باوجود پاکستان کیلئے رقم جاری کرنے کی منظوری دی تھی، دوسری قسط کی رقم 16 مئی 2025ء کے زرمبادلہ ذخائر کا حصہ ہوگی۔ آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ نے پاکستان کیلئے 2.
اعلامیہ کے مطابق موجودہ قرض پروگرام کی دوسری قسط کیلئے ایک ارب ڈالر منظور کر لئے گئے ہیں، موجودہ قرض پروگرام میں پاکستان کیلئے 7 ارب ڈالر میں سے 2.1 ارب ڈالر منظور کئے گئے۔ اعلامیہ میں کہا گیا کہ موسمیاتی تبدیلیوں کیلئے 1.4 ارب ڈالر ملیں گے، جبکہ پاکستان کو اصلاحات پر سختی سے عمل درآمد کرنا ہوگا۔
آئی ایم ایف کی جانب سے جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق پاکستان نے معاشی اہداف کے حصول میں شاندار کارکردگی دکھائی، آئندہ مالی سال سے زرعی آمدن پر انکم ٹیکس کی وصولی کو یقینی بنانا ہوگا۔ اعلامیہ میں مزید کہا گیا تھا کہ پاکستان کا بجٹ سرپلس 30 جون تک 2.1 فیصد ہونا چاہیے، رواں مالی سال 30 جون تک پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر 13.9 ارب ڈالر تک پہنچنے کی امید ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: پروگرام کی دوسری قسط عالمی مالیاتی آئی ایم ایف پاکستان کی پاکستان کو سٹیٹ بینک کے مطابق ارب ڈالر ایک ارب
پڑھیں:
چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد:حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔
سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔
دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔
وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔