جسے کچرے سے اُٹھا کر پالا تھا؛ اُسی لڑکی نے بوائے فرینڈز کیساتھ ملکر ماں کو قتل کردیا
اشاعت کی تاریخ: 19th, May 2025 GMT
جس 3 دن کی نومولود کو سڑک سے اٹھا کر پال پوس کر جوان کیا تھا اُسی لڑکی نے اپنے بوائے فرینڈز کے ساتھ مل کر ماں کو ہی قتل کردیا۔
بھارتی میڈیا کے مطابق یہ دل دہلادینے والا واقعہ ریاست اوڈیشہ کے ضلع گجپتی میں پیش آیا۔ ماں کو منہ پر تکیہ رکھ کر قتل کیا گیا تھا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ اس سفاک جرم کے پیچھے کوئی اور نہیں خاتون کی لے پالک 14 سالہ لڑکی تھی جس نے قتل کی یہ ہولناک واردات اپنے 2 بوائے فرینڈز کے ساتھ مل کر انجام دی۔
لے پالک لڑکی کے محلے کے دو خود سے بڑی عمر کے لڑکوں 20 سالہ رتھ اور 21 سالہ ساہو کے ساتھ تعلقات تھے جنھوں نے اسے ماں کی دولت ہتھیانے کے لیے قتل پر آمادہ کیا۔
لڑکی کی ماں اُسے گنیش رتھ اور دینش ساہو سے دور رکھنے کی کوشش کرتی تھی اور بات نہ ماننے پر ڈانٹ ڈپٹ بھی کیا کرتی تھی۔
جس پر رتھ اور ساہو نے لڑکی کو ورغلایا کہ اگر ماں کا قصہ تمام کردیا جائے تو نہ صرف جائیداد مل جائے گی بلکہ وہ بلا روک ٹوک مل بھی سکیں گے۔
احسان فراموش لڑکی نے پیسوں کی لاش اور اپنے ہوس کا سامان پورا کرنے کے لیے حقیقی ماں سے بڑھ کر پرروش کرنے والی خاتون کو قتل کرنے میں زرا تامل کا اظہار نہ کیا۔
ماں کے رات کو سوتے ہی لے پالک لڑکی نے اپنے بوائے فرینڈز کو گھر بلالیا جن میں سے ایک نے ماں کے منہ پر تکیہ رکھا اور دوسرے نے ٹانگیں پکڑیں۔
بدنصیب ماں نے جان بچانے کی کوشش میں ہاتھ تو چلائے تو وہ ان کی لے پالک بیٹی نے پکڑ لیے۔ یہاں تک کہ ماں کا دم نکل گیا۔
بعد ازاں یہ تینوں ہی مقتولہ کو لے کر اسپتال پہنچے جہاں موت کی تصدیق کے بعد آخری رسومات بھی ادا کردی گئی تھیں۔
تاہم لے پالک لڑکی کا بھانڈا اُس وقت پھوٹا جب مقتولہ کے بھائی اور لڑکی کے ماموں کے ہاتھ اپنی بہن کا موبائل فون لگا۔
مقتولہ کے موبائل فون سے ان کی لے پالک لڑکی اپنے بوائے فرینڈز سے بات کیا کرتی تھیں اور ان کے جائیداد ہتھیانے کے لیے قتل سے متعلق چیٹنگ بھی مل گئی۔
مقتولہ کے بھائی نے یہ ثبوت پولیس کو فراہم کیے جس پر کارروائی کرتے ہوئے 14 سالہ لڑکی اور اس کے دونوں بوائے فرینڈز کو گرفتار کرلیا گیا۔
تفتیش کے دوران پولیس نے ملزمان سے 3 موبائل فونز، قتل میں استعمال ہونے والے 2 تکیے اور تقریباً 30 گرام سونے کے زیورات بھی برآمد کر لیے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: نے بوائے فرینڈز لڑکی نے
پڑھیں:
کیا آپ بھی رات دیر تک جاگتے ہیں؟ ماہرین نے سنگین خطرات سے خبردار کردیا
رات گئے تک جاگنے کی عادت آپ کی دماغی صحت کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔
جدید طرزِ زندگی میں نیند کے اوقات میں بے ترتیبی عام ہوتی جا رہی ہے خاص طور پر نوجوانوں میں رات گئے تک جاگنا ایک معمول بنتا جا رہا ہے تاہم ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ یہ عادت دماغی صحت پر منفی اثرات ڈال سکتی ہے۔
امریکا میں ہونے والی مختلف طبی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ جو افراد رات دیر تک جاگتے اور صبح دیر سے اٹھتے ہیں، ان میں ذہنی مسائل جیسے ڈپریشن، انزائٹی اور تنہائی کے احساس کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔ ایک تحقیق میں 400 سے زائد افراد کا جائزہ لیا گیا جس میں ان کی نیند کی عادات اور ذہنی کیفیت کا تجزیہ کیا گیا۔
نتائج کے مطابق رات گئے تک جاگنے والے افراد نہ صرف زیادہ بے چینی کا شکار ہوتے ہیں بلکہ وہ سماجی طور پر بھی کم متحرک ہوتے ہیں جس کے باعث تنہائی کا احساس بڑھ جاتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ رات کے اوقات میں منفی خیالات زیادہ حاوی ہوتے ہیں جو ذہنی دباؤ میں اضافے کا سبب بنتے ہیں۔
اسی طرح دیگر تحقیقات سے یہ بھی سامنے آیا کہ دیر سے سونے والے افراد میں ڈپریشن کا خطرہ 20 سے 40 فیصد تک زیادہ ہو سکتا ہے۔ اس کی ایک وجہ ناقص نیند کا معیار، غیر صحت بخش خوراک اور اسمارٹ فون یا اسکرین کا زیادہ استعمال بھی ہو سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق انسانی جسم کا قدرتی نظام (سرکیڈین ردھم) دن میں سرگرمی اور رات میں آرام کے لیے بنایا گیا ہے۔ اس نظام میں خلل ذہنی اور جسمانی صحت دونوں کو متاثر کرتا ہے۔
تحقیق سے یہ بھی واضح ہوا ہے کہ اگرچہ نیند کا دورانیہ مکمل ہو، لیکن سونے کا غلط وقت بھی صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ اس لیے بہتر دماغی صحت کے لیے جلد سونے اور جلد جاگنے کی عادت اپنانا ضروری ہے۔
ماہرین مشورہ دیتے ہیں کہ رات کے وقت اسکرین کا استعمال کم کیا جائے، سونے کا باقاعدہ وقت مقرر کیا جائے اور دن کے اوقات میں سماجی سرگرمیوں میں حصہ لیا جائے تاکہ ذہنی صحت بہتر رہ سکے۔