پاکستان امن اور سچ کے ساتھ کھڑا ہے، بھارت کو پانی بطور ہتھیار استعمال نہیں کرنے دیں گے، بلاول بھٹو
اشاعت کی تاریخ: 21st, May 2025 GMT
پاک بھارت کشیدگی کے تناظر میں پاکستان کی نمائندگی کرکے عالمی دورے پر جانے والے اعلیٰ سطح سفارتی وفد کے سربراہ چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ بھارت کو پانی بطور ہتھیار استعمال نہیں کرنے دیں گے۔ پاکستان امن اور سچ کے ساتھ کھڑا ہے، اور ہمارا پیغام امن، استحکام اور ترقی ہے۔ پاکستان اپنی ذمہ داریوں سے مکمل طور پر آگاہ ہے۔
بلاول بھٹو کے زیر صدارت سفارتی کمیٹی کے ارکان کا اجلاس اسلام آباد میں منعقد ہوا، جس میں دفتر خارجہ کی جانب سے خطے کی موجودہ صورتحال پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
اجلاس کے بعد گفتگو کرے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ وزیراعظم کی ہدایت کے مطابق سفارتی کمیٹی مختلف ملکوں کا دورہ کرے گی اور عالمی سطح پر پاکستان کا مؤقف بھرپور انداز میں پیش کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان دہشتگردی سے سب سے زیادہ متاثر ہوا اور اس خطے کو دہشتگردی سے پاک کیا جائے گا۔
مزید پڑھیں: پاک بھارت کشیدگی: عالمی دورے پر جانے والے وفد کو دفتر خارجہ میں بریفنگ
انہوں نے واضح کیا کہ بھارت کو پانی بطور ہتھیار استعمال نہیں کرنے دیں گے۔ پاکستان امن اور سچ کے ساتھ کھڑا ہے، اور ہمارا پیغام امن، استحکام اور ترقی ہے۔ پاکستان اپنی ذمہ داریوں سے مکمل طور پر آگاہ ہے۔ پہلگام واقعہ کے بعد بھارت نے ثبوت فراہم کرنے کے بجائے الزام تراشی کی، جبکہ پاکستان نے شفاف عالمی تحقیقات کی پیشکش کی۔ بھارت نے جھوٹ، نفرت اور تقسیم کے ایجنڈے کا سہارا لیا۔
وفد میں شامل وفاقی وزیر مصدق ملک نے کہا کہ عالمی برادری کے سامنے حقائق رکھے جائیں گے اور بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا گیا ہے۔ اُن کے مطابق بغیر شواہد مہم جوئی کے نظریے کو دفن کرنا ہوگا۔ بھارت کی تھانیداری کا بت ٹوٹ چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ رافیل طیارے جن پر بھارت کو بڑا غرور تھا، پاکستانی مسلح افواج نے مار گرائے، اور اگر بھارت نے آئندہ کوئی حرکت کی تو اس سے بڑھ کر جواب دیا جائے گا۔
مزید پڑھیں: پہلگام واقعے کے بعد بھارت کی بڑھتی سفارتی تنہائی
وفد کے رکن وفاقی وزیر خرم دستگیر نے بھارت کو بدمعاش ملک قرار دیتے ہوئے کہا کہ بھارت نے پہلگام واقعے پر تاحال کوئی ثبوت پیش نہیں کیے اور پاکستان پر بے بنیاد الزامات لگائے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان پائیدار امن کے لیے بھارت سے بات چیت کو تیار ہے لیکن اب برابری کی سطح پر بات ہو گی۔
خرم دستگیر کے مطابق ہندوتوا تعصب اور بھارتی جنگی جنون خطے کے لیے خطرہ ہیں، اور خطے میں پائیدار امن مسئلہ کشمیر کے حل سے مشروط ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حق خودارادیت دینا ہوگا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اعلیٰ سطح سفارتی وفد بلاول بھٹو بھارت پاک بھارت کشیدگی چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی خرم دستگیر مصدق ملک.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اعلی سطح سفارتی وفد بلاول بھٹو بھارت پاک بھارت کشیدگی چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی خرم دستگیر مصدق ملک انہوں نے کہا کہ بلاول بھٹو بھارت کو کے مطابق بھارت نے
پڑھیں:
اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
پاکستان نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ بڑھتے ہوئے مسلح تنازعات کے تناظر میں سفارتکاری، مذاکرات اور ثالثی کو مضبوط بنایا جائے.
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں تنازعات کے پرامن حل سے متعلق کھلے مباحثے کے دوران پاکستان نے بھارت پر عالمی قوانین، اقوام متحدہ کی قراردادوں اور سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام بھی عائد کیا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی ایک اور بڑی سفارتی کامیابی، سلامتی کونسل میں امن دستوں کے تحفظ کی قرارداد متفقہ طور پر منظور
اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ عالمی حالات میں تنازعات کے پرامن حل کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہر نیا بحران یہ ثابت کرتا ہے کہ انصاف پر مبنی اور دیرپا امن کا کوئی فوجی متبادل موجود نہیں، اس لیے عالمی برادری کو تنازعات کی روک تھام، مکالمے، ثالثی اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق پرامن تصفیے پر نئی توجہ دینا ہوگی۔
Today, the imperative of peaceful settlement is more urgent than ever before. At a time when armed conflicts are growing across regions, the costs of delayed diplomacy are becoming more evident. Every new crisis underscores a simple truth: there is no military substitute for a… pic.twitter.com/ITgheZpBLd
— Permanent Mission of Pakistan to the UN (@PakistanUN_NY) July 23, 2026
انہوں نے یاد دلایا کہ پاکستان کی سلامتی کونسل کی صدارت کے دوران متفقہ طور پر منظور کی جانے والی قرارداد 2788 نے اس اصول کی توثیق کی تھی کہ سفارت کاری کو اس وقت استعمال نہیں کرنا چاہیے جب امن ناکام ہو جائے، بلکہ اسے ایسے حالات پیدا ہونے سے پہلے ہی فعال ہونا چاہیے۔
دوسری جانب اجلاس میں بھارتی مندوب کے بیان کے جواب میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حقِ جواب استعمال کرتے ہوئے کہا کہ جب رکن ممالک تنازعات کے پرامن حل کے طریقہ کار کو مضبوط بنانے پر گفتگو کر رہے تھے، بھارت نے حقائق کو مسخ کرنے اور بے بنیاد الزامات لگانے کی کوشش کی۔
مزید پڑھیں: سلامتی کونسل بریفنگ: پاکستان نے مستقل جنگ بندی اور آزاد فلسطینی ریاست کا مطالبہ دہرا دیا
انہوں نے کہا کہ بھارت ایک طرف امن کی بات کرتا ہے جبکہ دوسری جانب بین الاقوامی قانون، سلامتی کونسل کی قراردادوں اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔
ان کے مطابق جموں و کشمیر نہ تو بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی اس کا داخلی معاملہ، بلکہ یہ بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ متنازع خطہ ہے، جس کے بارے میں سلامتی کونسل کی قراردادیں آج بھی مؤثر ہیں۔
صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارتی زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی صورتحال میں واضح فرق ہے۔
It is ironic to hear India preaching peace while breaching international law and Security Council resolutions, and practising aggression against its neighbours, repression in Indian-occupied Jammu and Kashmir, persecution of minorities, and perpetrating State-sponsored terrorism… pic.twitter.com/oPfkrOvSJ5
— Permanent Mission of Pakistan to the UN (@PakistanUN_NY) July 24, 2026
ان کے مطابق آزاد کشمیر میں عوام سیاسی عمل میں حصہ لیتے اور آزادی سے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں، جبکہ بھارتی زیرِ انتظام کشمیر میں گرفتاریوں، ماورائے عدالت ہلاکتوں، جبری گمشدگیوں، آبادی کے تناسب میں تبدیلی اور حقِ خودارادیت سے محرومی جیسے اقدامات جاری ہیں۔
انہوں نے بھارت کے سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کے فیصلے کو یکطرفہ اور غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے تقریباً 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، اسے جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
مزید پڑھیں: سلامتی کونسل میں اصلاحات ناگزیر، مستقل رکنیت کا نظام فرسودہ ہو چکا ہے، پاکستان
پاکستانی مندوب نے مزید الزام عائد کیا کہ بھارت ریاستی سرپرستی میں دہشتگردی میں ملوث ہے اور پاکستان میں دہشتگرد تنظیموں کی معاونت کرتا رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان دہشتگردی کے خلاف جنگ میں تقریباً ایک لاکھ شہریوں کی جانوں کی قربانی دے چکا ہے۔
انہوں نے بھارت میں مسلمانوں، عیسائیوں، سکھوں اور دلتوں کے ساتھ مبینہ امتیازی سلوک کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ اشتعال انگیزی کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا دروازہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پرامن حل کو ترجیح دی۔
مزید پڑھیں: سلامتی کونسل کی بلوچستان حملوں کی شدید مذمت، عالمی برادری سے پاکستان کیساتھ تعاون پر زور
صائمہ سلیم نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کا راستہ بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کے چارٹر، سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عملدرآمد اور مسئلہ جموں و کشمیر کے پرامن حل سے ہو کر گزرتا ہے۔
انہوں نے بھارت پر زور دیا کہ وہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے بین الاقوامی معاہدوں کا احترام کرے اور کشمیر تنازع کے حل کے لیے سنجیدہ مذاکرات کی راہ اختیار کرے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اقوام متحدہ امتیازی سلوک بھارت پاکستان جموں و کشمیر چارٹر دریائے سندھ دہشتگردی سلامتی کونسل سندھ طاس معاہدے صائمہ سلیم عاصم افتخار احمد مستقل مندوب