آم کی ایکسپورٹ کے ہدف میں 25 ہزار ٹن کا اضافہ
اشاعت کی تاریخ: 22nd, May 2025 GMT
آم کی ایکسپورٹ کے ہدف میں 25 ہزار ٹن کا اضافہ کردیا گیا جب کہ پاکستان سے رواں سیزن ایک لاکھ پچیس ہزار ٹن آم ایکسپورٹ کیا جائے گا۔
رپورٹ کے مطابق گزشتہ سیزن ایک لاکھ ٹن آم برآمد کیا گیا تھا، پاکستان فروٹ اینڈ ویجی ٹیبل ایسوسی ایشن نے ام کی ایکسپورٹ کا ہدف مقرر کردیا، آم کی ایکسپورٹ کا آغاز 25 مئی سے ہوگا، ایک لاکھ پچیس ہزار ٹن آم کی ایکسپورٹ سے 10 کروڑ ڈالر کا زرمبادلہ حاصل ہوگا۔
سرپرست اعلیٰ پی ایف وی اے وحید احمد نے کہا کہ ماحولیاتی تبدیلیوں اور پانی کی قلت کی وجہ سے آم کی پیداوار میں 20 فیصد کمی کا سامنا ہے، رواں سیزن آم کی پیداوار 14 لاکھ 40 ہزار ٹن رہنے کا امکان ہے، رواں سیزن جنوبی افریقہ کی نئی منڈی ملنے کا امکان ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ جنوبی افریقہ کے قرنطینہ ماہرین کا وفد رواں سیزن پاکستان کا دورہ کرے گا، چین اور ترکی کی منڈی پر خصوصی توجہ ہوگی، جاپان آسٹریلیا امریکا اور سائوتھ کوریا کی منڈیوں کو مستحکم کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت شپنگ کمپنیوں کی جانب سے غیر منصفانہ اضافی فریٹ چارجز وصولی کا نوٹس لے، ماحولیاتی اثرات سے نمٹنے کے لیے نئی ورائٹیز کی کاشت اور ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ ناگزیر ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: آم کی ایکسپورٹ رواں سیزن
پڑھیں:
سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
فائل فوٹوسندھ کی تمام جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی جیلوں میں 14 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن 27 ہزار قیدی موجود ہیں۔
دستاویز کے مطابق کراچی کی سینٹرل جیل میں بھی قیدیوں کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جہاں گنجائش 2400 قیدیوں کی ہے مگر 8 ہزار قیدی رہ رہے ہیں۔
اسی طرح ملیر جیل کی گنجائش 2200 قیدیوں کی ہے لیکن وہاں ساڑھے 5 ہزار قیدی موجود ہیں۔
جیو نیوز کو حاصل دستاویز کے مطابق صوبہ سندھ میں 23 جیلیں ہیں، جو نہ صرف بھری ہوئی ہیں بلکہ اب اوور پاپولیٹڈ ہوگئی ہیں۔
حیدرآباد سینٹرل جیل میں قیدیوں کی گنجائش ڈیڑھ ہزار کی ہے، جہاں 3 ہزار افراد قید کاٹ رہے ہیں۔
لاڑکانہ سینٹرل جیل ساڑھے 6 سو افراد کے لیے بنائی گئی لیکن یہاں 1 ہزار افراد قید ہیں، ٹھٹھہ کی جیل ڈھائی سو افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی لیکن قیدی ساڑھے 9 سو ہیں۔
صوبے میں خواتین کی 3 جیلیں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں قائم ہیں، جہاں موجود خواتین قیدیوں کی تعداد 438 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان میں سے صرف 68 خواتین سزا یافتہ ہیں۔
صوبے بھر کی جیلوں میں 27 ہزار قیدیوں میں سب سے زیادہ 22 ہزار 600 ایسے قیدی ہیں، جن کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد محض ساڑھے 3 ہزار ہے۔
جیلوں میں سزائے موت کے 459 افراد بھی اپنی زندگی کے دن گن رہے ہیں۔