نائب ناظم اعلیٰ منہاج القرآن کا جامع شیخ الاسلام میں جمعۃ المبارک کے اجتماع سے خطاب میں کہنا تھا کہ دنیاوی محنت اگر آخرت کی نیت سے ہو تو وہی دنیا انسان کے لیے ذریعہ نجات بن جاتی ہے، موت ایسی یقینی حقیقت ہے جو انسان سے نہ صرف اس کی ظاہری نعمتیں بلکہ اختیار، اقتدار، تعلقات اور تمام ظاہری سہارے بھی چھین لیتی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ تحریک منہاج القرآن کے نائب ناظم اعلیٰ علامہ رانا محمد ادریس نے جامع شیخ الاسلام لاہور میں جمعۃ المبارک کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا کی محبت اور مال و دولت کی حرص انسانی دل سے اس وقت تک مکمل طور پر ختم نہیں ہوتی جب تک اس کی روح جسم سے جدا نہ ہو جائے۔ انہوں نے کہا کہ موت ایسی یقینی حقیقت ہے جو انسان سے نہ صرف اس کی ظاہری نعمتیں بلکہ اختیار، اقتدار، تعلقات اور تمام ظاہری سہارے بھی چھین لیتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ قرآن مجید نے دنیا کی حقیقت کو پانچ عنوانات میں بیان کیاکہ دنیا ایک کھیل ہے، ایک دکھاوا ہے، عارضی زیب و زینت ہے، فخر و تفاخر کا ذریعہ ہے اور مال و دولت کی کثرت کا مظہر ہے۔ ان سب کا مقصد انسان کو اس حقیقت کی طرف متوجہ کرنا ہے کہ دنیا کی رعنائیاں وقتی اور فانی ہیں۔

انہوں نے سورۃ الاسراء کی ایک آیت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ "جو شخص آخرت کا ارادہ رکھے اور اس کے لیے محنت کرے جبکہ وہ ایمان بھی رکھتا ہو، ایسے افراد کے لیے اللہ کے ہاں قبولیت کا درجہ ہے۔" انہوں نے کہا کہ دنیا کی محنت اگر آخرت کی نیت سے ہو تو وہی دنیا انسان کے لیے ذریعہ نجات بن جاتی ہے۔علامہ رانا محمد ادریس نے نبی اکرم ﷺ کی ایک حدیث بیان کی، جس میں آپ ﷺ نے ایک مردہ بکری کی مثال دیتے ہوئے دنیا کی بے وقعتی بیان فرمائی تھی۔ انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک دنیا کی حیثیت اس مردہ جانور سے بھی کم تر ہے، اور اگر دنیا کی قدر اللہ کے ہاں ایک مچھر کے پر کے برابر بھی ہوتی تو کافر کو اس میں سے ایک گھونٹ پانی بھی نصیب نہ ہوتا۔انہوں نے مزید کہا کہ اللہ رب العزت نے ہمیں دنیا میں نعمتوں سے ضرور نوازا ہے۔ بہتی نہریں، سرسبز و شاداب کھیت، بلند و بالا پہاڑ اور قدرتی خوبصورتی، لیکن یہ سب عارضی ہیں۔ اصل نعمتیں اور مستقل راحتیں آخرت میں ہی میسر آئیں گی۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کے فریب میں مبتلا ہو کر آخرت کو فراموش کر دینا بہت بڑی خسارے کی بات ہے۔

انہوں نے کہا کہ جو شخص دنیا کو اصل منزل نہ سمجھے بلکہ اسے اللہ کے قرب کا ذریعہ بنائے، وہی کامیاب ہے۔ "جب انسان دنیا کی محبت کو ترک کرتا ہے اور اخلاص کے ساتھ آخرت کی تیاری میں مصروف ہوتا ہے، تو دنیا خود اس کے قدموں میں آتی ہے۔ "خطاب کے اختتام پر انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ ہمیں دنیا کی حقیقت کو پہچاننے، مال و دولت کی حرص سے بچنے، اور اپنی زندگی کو آخرت کی تیاری میں صرف کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ ا خرت کی دنیا کی کہ دنیا کے لیے

پڑھیں:

اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی

پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ سب ملکر وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ سے رابطہ کریں اور جموں و کشمیر کے عوام کیساتھ مسلسل بات چیت شروع کرنے پر زور دیں۔ اسلام ٹائمز۔ لداخ کی سیاسی جماعتوں کی جانب سے یکجا طور حکومتِ ہند کے ساتھ مذاکرات میں حاصل ہونے والی پیشرفت سے حوصلہ پا کر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو خطوط لکھ کر جموں و کشمیر کے حقوق اور وقار کی بحالی کے لئے متحد ہونے کی اپیل کی ہے۔ اپنے خط میں سابق وزیراعلٰی محبوبہ مفتی نے عمر عبداللہ کو لکھا کہ "لیہہ ایپکس باڈی" اور "کرگل ڈیموکریٹک الائنس" کی جانب سے مرکز کے ساتھ مذاکرات میں حاصل ہونے والی حالیہ کامیابیاں ایک اہم سبق فراہم کرتی ہیں کہ بامعنی نتائج صرف بات چیت کے ذریعے ہی حاصل کئے جا سکتے ہیں۔

محبوبہ مفتی نے خط میں کہا کہ جموں و کشمیر ایک بار پھر اپنی تاریخ کے ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے، جہاں مایوسی اور بددلی کا احساس عوام پر غالب ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس صورتحال سے نکلنے کے لئے سیاسی اور جماعتی اختلافات سے بالاتر ہو کر وسیع اتفاق رائے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر عوام کے وقار اور تحفظ کو بحال کرنا ہے تو حکومت ہند کے ساتھ تعمیری مذاکرات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ سب مل کر وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ سے رابطہ کریں اور جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ مسلسل بات چیت شروع کرنے پر زور دیں۔

جموں و کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کے علاوہ محبوبہ مفتی نے بی جے پی کے قائد حزب اختلاف سنیل شرما، جموں و کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر طارق حمید قرہ، سی پی آئی (ایم) رہنما ایم وائی تاریگامی، پیپلز کانفرنس کے چیئرمین سجاد غنی لون، رکن پارلیمان انجینئر رشید، عام آدمی پارٹی کے صدر معراج ملک، پی ڈی ایف کے چیئرمین حکیم محمد یاسین، جموں و کشمیر نیشنل پینتھرس پارٹی کے صدر ہرش دیو سنگھ، شیو سینا (جموں و کشمیر یونٹ) کے صدر منیش ساہنی، کشمیری پنڈت سنگھرش سمیتی کے صدر سنجے ٹکو اور گوردوارہ پربندھک کمیٹی کے چیئرمین جسپال سنگھ کو بھی خطوط ارسال کیے ہیں۔

انہوں نے تمام رہنماؤں سے اپیل کی کہ وہ وزیراعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے مشترکہ اور منظم انداز میں رابطہ قائم کرنے کے لئے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوں۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ ہمیں اپنے اختلافات اور متضاد خیالات کو ایک طرف رکھ کر عوامی مفاد اور اجتماعی فلاح کے لئے متحد ہونا ہوگا۔ یہ سیاسی کریڈٹ لینے یا ایک دوسرے پر سبقت حاصل کرنے کا معاملہ نہیں بننا چاہیئے بلکہ ان لوگوں کے وسیع تر مفاد میں اتحاد کا موقع ہونا چاہیئے جن کی نمائندگی کا ہم سب دعویٰ کرتے ہیں۔ علاقائی جماعتوں کے درمیان اختلافات اور کشیدگی نے ہمیشہ جموں و کشمیر کے اجتماعی مفادات کو نقصان پہنچایا ہے، اس لئے خاص طور پر 2019ء کے بعد ایک معقول اتفاق رائے ہی واحد راستہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر لداخ ایسا کر سکتا ہے تو ہم بھی کر سکتے ہیں۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ سے اپیل کی کہ وہ ایک کل جماعتی اجلاس طلب کریں تاکہ مرکز کے ساتھ رابطے کے عمل کا آغاز کیا جا سکے۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ اس سیاسی پلیٹ فارم کی کامیابی کے لئے عمر عبداللہ کی حمایت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ غیر معمولی اور مشکل حالات میں حقیقی اتحاد ہی عوام کے ان حقوق اور وقار کی بحالی کی راہ ہموار کر سکتا ہے جن کی ضمانت بھارتی آئین دیتا ہے۔ محبوبہ مفتی کا یہ خط ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چند دن قبل لیہہ ایپکس باڈی اور کرگل ڈیموکریٹک الائنس نے دعویٰ کیا تھا کہ حکومتِ ہند کے ساتھ ان کے مذاکرات میں اہم پیشرفت ہوئی ہے۔

یہ مذاکرات آرٹیکل 371 کے تحت چھٹے شیڈول کا درجہ اور قانون ساز اسمبلی کے مطالبات سے متعلق تھے۔ اگست 2019ء میں سابق ریاست جموں و کشمیر کی تقسیم کے بعد لداخ میں یہ سیاسی اتحاد سامنے آیا تھا۔ پی ڈی پی، نیشنل کانفرنس، پیپلز کانفرنس اور دیگر علاقائی جماعتوں نے 5 اگست 2019ء کو آرٹیکل 370 کی منسوخی سے دو روز قبل پیپلز الائنس فار گپکار ڈیکلریشن (PAGD) قائم کیا تھا۔ تاہم نومبر اور دسمبر 2020ء میں مرکز کی جانب سے ضلع ترقیاتی کونسل (DDC) انتخابات کے انعقاد کے بعد اس اتحاد میں اختلافات نمایاں ہونے لگے۔

متعلقہ مضامین

  • نواز شریف این او سی لے کر گلگت بلتستان گئے، راناثنا
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
  • شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
  • اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
  • وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
  • بلاول بھٹو زرداری کی فیلڈ مارشل کی امن کوششوں کیلئے دعا
  • ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
  • نواز شریف گلگت بلتستان روانہ، انتخابی مہم میں حصہ لیں گے
  • علامہ ساجد علی نقوی سے علامہ جواد نقوی کی ملاقات، شہید امت کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی