حج سیزن میں سعودی عرب کا پاکستان کے ساتھ تعاون ہمیشہ بے مثال رہا ہے، وزیر مذہبی امور
اشاعت کی تاریخ: 25th, May 2025 GMT
وفاقی وزیر مذہبی امور اور بین المذاہب ہم آہنگی سردار محمد یوسف نے کہا ہے کہ سعودی عرب نے ہمیشہ پاکستان کے ساتھ بھائیوں کی طرح تعاون کیا ہے اور موجودہ حج سیزن میں بھی اُن کا تعاون بے مثال رہا ہے۔
اُنہوں نے اردو نیوز سے خصوصی گفتگو میں بتایا کہ اس بار گزشتہ برس کی نسبت حاجیوں کے لیے زیادہ بہتر اور سہولت بخش انتظامات کیے گئے ہیں۔ اُن کا کہنا تھا کہ وزارت سنبھالنے کے بعد اُنہوں نے سب سے زیادہ توجہ حج کے انتظامات پر دی ہے اور اس پر ابھی تک کام جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کا ہمیشہ سے پاکستان کے ساتھ بہت زیادہ تعاون رہا ہے۔ خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد محمد بن سلمان کی طرف سے جو ہدایات دی گئی ہیں، ان پر عمل کرتے ہوئے وزارتِ حج و عمرہ نے ایسے انتظامات کیے ہیں کہ کسی حاجی کو کوئی تکلیف نہ ہو۔
انہوں نے بتایا کہ حاجیوں کے رش سے بچاؤ، عبادات میں آسانی، اور سہولیات کی فراہمی کے لیے مثالی اقدامات کیے گئے ہیں۔ احرام، طواف، دعا اور دیگر ارکانِ حج میں سہولت دینے کے لیے جو ڈیوٹیاں لگائی گئی ہیں، وہ بہت منظم ہیں،
سردار یوسف نے حج مشن کی تیاریوں کے حوالے سے بتایا کہ وہ خود دو مرتبہ سعودی عرب کا دورہ کر چکے ہیں اور وہاں انتظامات کا خود جائزہ لیا ہے۔ اس سال عرفات اور منیٰ میں بھی حجاج کو پہلے سے بہتر سہولیات میسر ہوں گی۔ میں سعودی حکومت، خادمِ حرمین شریفین، کانفرنس اور وزیرِ حج کو مبارکباد دیتا ہوں۔
انہوں نے کہا کہ ’پاکستان میں بھی وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے حج انتظامات پر مکمل تعاون رہا ہے۔ ہماری ہر حکومت کے ساتھ سعودی عرب کے دوستانہ تعلقات رہے ہیں، اس دفعہ بھی وزیراعظم نے خصوصی طور پر مجھے بھیجا تھا تاکہ حاجیوں کی خدمت میں کوئی کمی نہ رہ جائے۔
سردار محمد یوسف نے کہا کہ رواں سال سعودی حکام نے حاجیوں کی سہولت کے لیے خصوصی انتظامات کیے ہیں۔ ہر مکتب میں ایئر کنڈیشنرز نصب کیے گئے ہیں تاکہ درجہ حرارت کو قابو میں رکھا جا سکے۔ اس کے ساتھ اضافی پنکھے اور آرام دہ صوفے بھی فراہم کیے گئے ہیں تاکہ حاجیوں کو زیادہ دیر کھڑے رہنے یا زمین پر بیٹھنے کی زحمت نہ ہو۔ علاوہ ازیں، سامان رکھنے کے لیے اوپر کی جانب شیلف بنائی گئی ہے تاکہ نیچے جگہ کھلی رہے اور حاجیوں کو نقل و حرکت میں آسانی ہو۔ کھانے کے معیار میں بھی بہتری لائی گئی ہے تاکہ حجاج کرام کو صحت مند اور باوقار ماحول فراہم کیا جا سکے۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ سرکاری سکیم کے تحت عزیزیہ میں رہائش، بسوں کے ذریعے حرم تک رسائی، اور تمام ضروری سہولیات کا مکمل انتظام موجود ہے۔
’پرائیویٹ سکیم میں جانے والے حاجی اگرچہ زیادہ ادائیگی کرتے ہیں، جیسے کلاک ٹاور میں قیام، مگر سعودی حکومت نے ہر حاجی کے لیے یکساں توجہ دی ہے۔‘
عازمین کی خدمت کے لیے معاونین سردار یوسف نے بتایا کہ این ٹی ایس کے ذریعے منتخب کیے گئے معاونین میں 70 فیصد تجربہ کار اور 30 فیصد نئے افراد شامل ہیں، اور ان کی ڈیوٹیاں اس طریقے سے لگائی گئی ہیں کہ تجربہ کار افراد نئے افراد کو رہنمائی فراہم کریں۔ انہیں باقاعدہ تربیت دی گئی ہے، اُن کے یونیفارم، بیجز اور مخصوص نشانات ہیں تاکہ حاجیوں کو دور سے شناخت ہو جائے اور وہ ان سے رہنمائی حاصل کر سکیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ ہر معاون کی یہ ذمہ داری ہے کہ اگر کسی حاجی کو کسی جگہ جیسے احرام، ٹرانسپورٹ یا قیام گاہ میں رہنمائی کی ضرورت ہو تو فوری مدد فراہم کرے۔
سردار محمد یوسف کا کہنا تھا کہ ان کے دورِ وزارت میں حج پالیسی کا بنیادی مقصد یہی تھا کہ متوسط اور کم آمدنی والے پاکستانی بھی حج کی سعادت حاصل کر سکیں۔
’میرے آنے سے پہلے بہت سی پالیسی سازیاں ہو چکی تھیں، تاہم میرے دور میں ہم نے سب سے پہلے پرائیویٹ حج آپریٹرز کا کوٹہ کم کر کے آبادی کے تناسب سے تقسیم کیا، تاکہ وہی لوگ پرائیویٹ سکیم سے مستفید ہوں جو واقعی اسے افورڈ کر سکتے ہیں۔ باقی عام پاکستانی آبادی اتنی خوشحال نہیں، مگر ہر مسلمان کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ وہ زندگی میں کم از کم ایک بار ضرور حج کرے۔‘
ان کے مطابق ’بدقسمتی سے ہمارے پرائیویٹ ادارے اور ہوپ (نجی حج آپریٹرز کی نمائندہ تنظیم) تبدیلیوں کا بروقت ادراک نہ کر سکے۔ نئی ٹائم لائنز اور طریقہ کار پر عمل نہ ہونے کی وجہ سے درجنوں حجاج فہرستوں سے رہ گئے۔ یہ حج آپریٹرز عموماً آخری وقت میں بکنگ کرتے تھے، لیکن اس بار وقت کی پابندی کی وجہ سے ڈیڈ لائن گزر چکی تھی۔
سردار یوسف کا کہنا ہے کہ جب انہوں نے وزارت سنبھالی تو کوششوں سے مزید 12 ہزار پاکستانی حاجیوں کو شامل کیا گیا، تاکہ زیادہ سے زیادہ افراد کو اللہ کے گھر کی زیارت کا موقع مل سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کیے گئے ہیں کہ حاجیوں حاجیوں کو بتایا کہ انہوں نے یوسف نے کے ساتھ میں بھی نے کہا رہا ہے کے لیے
پڑھیں:
پی سی بی نے 27 -2026 کے ڈومیسٹک کرکٹ سیزن کا اعلان کردیا، ورلڈ کپ تیاریوں پر توجہ مرکوز
پاکستان کرکٹ بورڈ نے 2026-27 کے مردوں کے ڈومیسٹک کرکٹ سیزن کے شیڈول کا اعلان کر دیا ہے، جس کا آغاز 11 اگست 2026 سے ہوگا۔ نئے سیزن میں قومی ٹیم کی 2027 کے ون ڈے ورلڈ کپ کی تیاریوں کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے، جس کے لیے آغاز میں ہی دو ایک روزہ ٹورنامنٹس رکھے گئے ہیں۔
پی سی بی کے مطابق ڈومیسٹک سیزن 11 اگست 2026 سے 15 جون 2027 تک جاری رہے گا، جس میں ایک روزہ، 4 روزہ، ٹی20، انڈر 19، انڈر 17 اور انڈر 15 مقابلوں سمیت مختلف سطحوں کے ٹورنامنٹس شامل ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان اور انگلینڈ کے مابین 5 ون ڈے میچوں کی سیریز کا شیڈول جاری
سیزن کا آغاز ملتان میں چار ٹیموں کے نیشنل چیمپئنز کپ سے ہوگا جو 11 سے 18 اگست تک کھیلا جائے گا، جس کے بعد کراچی میں 21 اگست سے 8 ستمبر تک آٹھ ٹیموں پر مشتمل صدر کپ گریڈ ون ایک روزہ ٹورنامنٹ ہوگا۔
پی سی بی نے بتایا کہ قائداعظم ٹرافی کو 2026-27 میں دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ قائداعظم ٹرافی گولڈ میں آٹھ ٹیمیں شامل ہوں گی، جبکہ سلور میں 12 ٹیمیں حصہ لیں گی۔ دونوں ٹورنامنٹس نومبر سے دسمبر تک جاری رہیں گے۔
PCB unveils Men's Domestic Cricket Calendar for season 2026-27 with ICC Cricket World Cup preparation in sharp focus
Details here ➡️ https://t.co/NodmLStn8E pic.twitter.com/70Xj9Hge15
— PCB Media (@TheRealPCBMedia) July 23, 2026
اس سیزن میں علاقائی کرکٹ کو مزید مضبوط بنانے کے لیے سیالکوٹ اور پشاور ریجنز کی ایک ایک اضافی ٹیم شامل کی گئی ہے، جس کے بعد قائداعظم ٹرافی اور نیشنل ٹی ٹوئنٹی کپ میں علاقائی ٹیموں کی تعداد 18 سے بڑھ کر 20 ہو جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں: ڈومیسٹک کرکٹ سینٹرل کنٹریکٹ کے لیے لازمی قرار، سلیکشن کے لیے نئی پالیسیاں، محسن نقوی کے اہم اعلانات
پی سی بی کے مطابق پہلی بار انڈر 19 کھلاڑیوں کے لیے تین روزہ سرخ گیند کی چیمپئن شپ بھی منعقد کی جائے گی، جس میں تمام 16 ریجنز کی ٹیمیں حصہ لیں گی۔ اس کے علاوہ انڈر 19 ایک روزہ کپ، انڈر 15 ایک روزہ کپ اور انڈر 17 دو روزہ کپ بھی شیڈول کا حصہ ہوں گے۔
پی سی بی نے اسکول ٹیلنٹ ہنٹ پروگرام کو بھی وسعت دینے کا اعلان کیا ہے، جس کے تحت اسکولوں کی تعداد 450 سے بڑھا کر 1200 اور اضلاع کی تعداد 39 سے بڑھا کر 100 کر دی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ملک میں ڈومیسٹک کرکٹ کی بہار کا آغاز 15 اگست سے ہوگا، کیلنڈر جاری
پی سی بی کے سینئر جنرل منیجر ڈومیسٹک کرکٹ آپریشنز اسامہ شارون نے کہا کہ نئے سیزن میں تمام 16 ریجنز کو فرسٹ کلاس کرکٹ کے مواقع فراہم کیے جائیں گے اور قومی ٹیم کی 2027 عالمی کپ کی تیاریوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ڈومیسٹک مقابلوں کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news پی سی بی ٹی20 انٹرنیشنل ڈومیسٹک کرکٹ ورلڈ کپ ون ڈے انٹرنیشن