قطر، حماس اور امریکا کا جنگ بندی معاہدے کی دستاویز پر اتفاق، اسرائیل کا انکار
اشاعت کی تاریخ: 26th, May 2025 GMT
عرب میڈیا کے مطابق معاہدے میں دو مراحل میں فلسطینی قیدیوں کی رہائی بھی شامل ہے۔ 5 اسرائیلی قیدی جنگ بندی کے پہلے روز اور 5 جنگ بندی کے 60ویں روز رہا ہونگے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ معاہدے اور غزہ سے اسرائیلی فوج کے انخلا کی ضمانت دینگے۔ اسلام ٹائمز۔ قطر میں حماس اور امریکی نمائندہ خصوصی کا جنگ بندی معاہدے کی دستاویز پر اتفاق ہوگیا۔ دوحہ سے عرب میڈیا کے مطابق معاہدے میں 60 روزہ جنگ بندی اور 10 قیدیوں کی رہائی شامل ہے۔ عرب میڈیا کے مطابق معاہدے میں دو مراحل میں فلسطینی قیدیوں کی رہائی بھی شامل ہے۔ 5 اسرائیلی قیدی جنگ بندی کے پہلے روز اور 5 جنگ بندی کے 60ویں روز رہا ہوں گے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ معاہدے اور غزہ سے اسرائیلی فوج کے انخلا کی ضمانت دیں گے۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق معاہدے میں جنگ بندی کے پہلے روز سے غیر مشروط طور پر انسانی امداد کی فراہمی بھی شامل ہے۔ امریکی نمائندے اسٹیو وٹکوف نے معاہدے کا مسودہ اسرائیل کو منظوری کے لیے بھیج دیا ہے۔ خبر ایجنسی کے مطابق اسرائیل نے نئی جنگ بندی تجاویز مسترد کر دیں۔ اسرائیلی حکام کے مطابق کوئی بھی ذمہ دار حکومت ایسی تجاویز کو قبول نہیں کرسکتی۔ اسرائیلی حکام نے الزام لگایا کہ حماس جنگ بندی میں دلچسپی نہیں رکھتی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کے مطابق معاہدے میں جنگ بندی کے شامل ہے
پڑھیں:
امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
ایران کی ایئرڈیفنس کے جوائنٹ ہیڈکوارٹرز کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ بندی سے قبل جارحیت کے دوران فضائی جنگی صلاحیت اور آلات کو بڑا نقصان پہنچایا۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ کے دوران جدید ڈرونز سمیت جنگی آلات کی مد میں کروڑ ڈالر کا نقصان پہنچایا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو پہنچنے والے نقصانات سے انہیں ایران کے اندر اپنے اہداف کی نشان دہی اور نشانہ بنانے کی صلاحیت پر بدترین اثر پڑا اور اس کے نتیجے میں فضائی کارروائی کی صلاحیت محدود ہوگئی۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے منفرد اور مؤثر جواب کے لیے ڈسپرشن، الیکٹرونک ڈسپشن اور درست نشانہ پر حملوں جیسی ذہین حکمت عملیوں کا استعمال کیا گیا، دشمن کے فضائی حملوں کے اثرات کو نمایاں طور پر کم کر دیا اور اس کی ڈرون صلاحیتوں کو بھی کمزور کر دیا۔
کمانڈر نے کہا کہ ایرانی ایئرڈیفنس نے امریکا اور اسرائیل کے ایئرکرافٹ، ایم کیو-9 ریپر، ہرمیس 900، آربیٹر، لیوکاس اور ہیرمس 450 اور جنگی لڑاکا طیاروں کی فلیٹ کا مقابلہ کرنے کے لیے ریڈار ڈیٹا پروسیسنگ اور دیگر ٹیکنالوجی کا استعمال کیا، دشمن کو اپنے فائر پاور اور جدید ٹیکنالوجی پر انحصار تھا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ ایران کے جدید اور مربوط فضائی دفاعی نیٹ ورک نے حملہ آور دشمنوں کی فضائی قوت کو ایسا بھاری نقصان پہنچایا جو فضائی جنگوں کی تاریخ کے بدترین نقصانات میں شمار ہوتے ہیں۔