اپنی ایک رپورٹ میں صیہونی اخبار کا کہنا تھا کہ امریکی حکومت نے اسرائیل پر جنگ بند کرنے کیلئے شدید ڈباو ڈالا ہوا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ الاقصیٰ نیوز نے فلسطین کی مقاومتی تحریک "حماس" کے ایک سینئر عہدیدار کا حوالہ دیتے ہوئے اعلان کیا کہ حماس نے امریکی صدر کے نمائندہ برائے امور مشرق وسطیٰ "اسٹیو ویٹکاف" کے غزہ کی پٹی میں مستقل جنگ بندی کے لئے پیش کردہ منصوبے سے اتفاق کیا ہے۔ اس منصوبے کے مطابق، اسرائیل، حماس کی قید میں اپنے 10 زندہ صیہونیوں کی رہائی کے بدلے 70 روز کے لئے سیز فائر کرے گا جب کہ اسرائیل جزئی طور پر غزہ سے اپنی فورسز باہر نکالے گا اور عمر قید کی سزاء بھگتنے والے قیدیوں سمیت سینکڑوں فلسطینیوں کو رہا کرے گا۔ یہ خبر ایسی صورت میں سامنے آئی جب متعدد میڈیا ذرائع نے غزہ میں مختلف ٹائم فریم کے ساتھ ابتدائی جنگ بندی ہونے کا عندیہ دیا۔

جنگ بندی کے دورانیے کے حوالے سے الاقصیٰ نیوز اور رویٹرز نے 70 دن جب کہ الجزیرہ و دیگر نے 60 روز کا دعویٰ کیا۔ اس کے علاوہ مغربی میڈیا 6 ہفتوں کی جنگ بندی ہونے کی رپورٹس جاری کر رہا ہے۔ قابل غور بات یہ ہے کہ الاقصیٰ میڈیا، جنوبی غزہ میں نٹساریم اور صلاح الدین سرحدی راہداری کے راستوں سے صیہونی فوج کے انخلاء کی رپورٹ دے رہا ہے۔ اسی طرح شمالی رفح اور موراگ سمیت متعدد رہائشی علاقوں سے اسرائیلی انخلاء کی خبریں ہیں۔ دوسری جانب آج ہی صیہونی اخبار ھاآرتز نے رپورٹ دی کہ اسٹیو ویٹکاف نے اسرائیل کے اسٹریٹجک وزیر "رون ڈرمر" سے ملاقات کی اور ان سے غزہ کی پٹی میں جنگ روکنے کا مطالبہ کیا۔ اس اخبار کی رپورٹ کے مطابق، امریکی حکومت نے اسرائیل پر جنگ بند کرنے کے لئے شدید ڈباو ڈالا ہوا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

پڑھیں:

سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں  میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔

نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔

کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔

ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔

سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔

ابراہام معاہدے کیا ہیں؟

ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔

ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • ایران میں تعمیر نو کی رفتار پر اسرائیل حیران ہے، وال اسٹریٹ جرنل
  • مغربی کنارے میں اسرائیلی فورسز اور آبادکاروں کا دھاوا، 4 فلسطینی شہید
  • نام نہاد جنگ بندی بے اثر، غزہ میں شہریوں کی ہلاکتیں جاری: انتونیو گوتریس
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم