Islam Times:
2026-07-24@04:36:12 GMT

اہل غزہ کی استقامت اور مسلم حکمران

اشاعت کی تاریخ: 26th, May 2025 GMT

اہل غزہ کی استقامت اور مسلم حکمران

اسلام ٹائمز: اگر اتنے مسلم ممالک ملکر ایک اسرائیل کو دہشتگردی سے باز نہیں رکھ پا رہے ہیں تو اربوں ڈالر کے دفاعی معاہدوں کا فائدہ کیا ہے۔؟ استعمار کل ان پر بھی کسی بڑی طاقت کو مسلط کر دے گا اور انکے دفاعی معاہدے دھرے رہ جائیں گے۔ کیا عرب حکمران غزہ کی موجودہ صورتحال سے بے خبر ہیں۔ کیا انہیں علم نہیں کہ غزہ میں بھکمری کا سایہ پھیلتا جا رہا ہے۔ انہیں ٹرمپ سے اس موضوع پر بات کرکے رفح کراسنگ کو انسانی امداد کیلئے کھلوانا چاہیئے تھا۔ وہ عرب ممالک جو ہمیشہ عالمی طاقتوں اور مزاحمتی قوتوں کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کرتے آئے ہیں، اُنہیں آگے آکر اس پر بات کرنی چاہیئے تھی، مگر ایسا نہیں ہوا۔ تحریر: عادل فراز
adilfarazlko@gmail.

com

غزہ میں جاری نسل کشی اور انسانی وسائل کا بحران بڑھتا جارہا ہے۔ عالمی طاقتیں اسرائیل کی پشت پر کھڑی ہیں اور غزہ کو برباد دیکھ کر خوشیاں منا رہی ہیں۔ گو کہ اب عالمی رائے اسرائیل کے خلاف ہے مگر جب تک امریکہ اس کے ساتھ کھڑا ہے، اسرائیل کو کسی مخالفت سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اس وقت دنیا کے کونے کونے میں اسرائیل کے جنگی جرائم کے خلاف صدائے احتجاج بلند ہو رہی ہے، مگر اس کا اثر نظر نہیں آیا۔ اگر دنیا غزہ کے تئیں مخلص اور فکرمند ہوتی تو اب تک رفح کراسنگ کو امدادی سامان کی ترسیل کے لئے کھلوایا جا چکا ہوتا۔ اقوام متحدہ نے غزہ میں پھیلتی بھکمری کے سلسلے میں جو انتباہ دیا ہے، اس کے بعد بھی عالمی طاقتوں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی۔ اقوام متحدہ کے انسانی امور کے سربراہ ٹام فلیچر نے بیس مئی کو "بی بی سی" کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ "اگر اگلے اڑتالیس گھنٹوں میں غزہ کو فوری مدد فراہم نہ کی گئی تو چودہ ہزار بچوں کی زندگیاں خطرے میں پڑ جائیں گی۔ فلیچر نے کہا کہ حالات اب اس قدر بدتر ہوچکے ہیں کہ اگر بروقت مدد نہ ملی تو یہ بحران نسل کشی میں تبدیل ہوسکتا ہے۔"

اس انتباہ کے بعد دنیا کو اسرائیل کے خلاف متحد ہو جانا چاہیئے تھا، مگر ایسا نہیں ہوا۔ اس بارے میں دنیا سے کیا گلہ کرنا، کیونکہ جب نام نہاد مسلم حکمران امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ سے غزہ جنگ بندی پر بات نہیں کرسکے تو پھر کسی سے کیا امید رکھی جاسکتی ہے۔ ٹرمپ کے دورۂ مشرق وسطیٰ پر جتنی دولت خرچ کی گئی، اس سے غزہ کے عوام کو ضروریات زندگی فراہم کرائی جاسکتی تھیں، مگر امریکی صدر کے سامنے مسلمانوں کی ناموس کو بے حیائی کے ساتھ رقص پر مجبور کرنے والے حکمران نہ تو مسئلۂ فلسطین کے حل پر سنجیدہ ہیں اور نہ انہیں غزہ میں جنگ بندی سے کوئی دلچسپی ہے۔ یہ لوگ صرف اپنے اقتدار کے تحفظ کے لئے سرگرداں ہیں۔ امریکی صدر کا دورۂ مشرق وسطیٰ عالم اسلام کو خواب غفلت سے بیدار کرنے کے لئے کافی ہے۔ اس دورے کا مقصد مسلم حکمرانوں پر اپنی بالادستی کا اظہار اور ان کی غلامانہ ذہنیت کو دنیا کے سامنے آشکار کرنا تھا۔

جبکہ اس سے پہلے بھی امریکی صدور یہ کام کرچکے ہیں، مگر اس بار ذرا نرالے انداز میں کیا گیا۔ ٹرمپ نے اپنے گذشتہ دور صدارت میں جب فلسطینیوں کے خلاف "صدی معاہدے" کا مسودہ پیش کیا تھا، اس وقت بھی عرب حکمرانوں نے اُس منصوبے کی تائید کی تھی۔ یہ الگ بات کہ انہوں نے اعلانیہ اسرائیل کو فلسطین سونپنے کی حمایت نہیں کی، مگر "صدی معاہدے" کا منصوبہ فلسطینی سرزمین پر اسرائیلی ریاست کے قیام کا باضابطہ اعلان تھا۔ اس کے بعد امریکی صدر کی حمایت سے یروشلم کو اسرائیل کا پایۂ تخت تسلیم کر لیا گیا۔ جو بائیڈن کی شکست اور ٹرمپ کی فتح کے بعد ایک بار پھر "صدی معاہدہ" کا منصوبہ غیر اعلانیہ طور پر نافذ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس سلسلے میں ٹرمپ نے پہلا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ غزہ کو خریدنے اور اس کا مالک بننے کے لئے پُرعزم ہیں۔ گو کہ اس اعلان کی چوطرفہ مخالفت ہوئی، مگر یہ مخالفت برائے نام تھی۔

اب جبکہ ٹرمپ مشرق وسطیٰ کے دورے پر تھے تو پوری دنیا نے ان کے مخفی عزائم کو جانچا بھی اور پرکھا بھی۔ اُس پر جس طرح مسلم حکمرانوں نے اسلامی غیرت کو روندتے ہوئے ان کا استقبال کیا، اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ عربوں میں صہیونی عناصر پوری طرح داخل ہوچکے ہیں اور "گریٹر اسرائیل" کے خدوخال بھی واضح ہونے لگے ہیں۔ یہودیوں کی آبادی اتنی زیادہ نہیں ہے کہ وہ "گریٹر اسرائیل" کے نقشے کے مطابق تمام جگہوں پر آباد ہوسکیں۔ البتہ وہ "ارض وعدہ" پر اپنے افراد اور حکمران مقرر کرکے اس منصوبے کو عملی شکل دے سکتے ہیں، جس پر مسلسل کام ہو رہا ہے۔خانۂ کعبہ کی آمدنی بھی اس منصوبے کی کامیابی پر خرچ کی جا رہی ہے۔ اسی آمدنی سے امریکی صدر کی ذہنی عیاشی کے انتظامات کئے گئے تھے۔ اس پر چار سو ملین ڈالر کا جہاز تحفے میں دے کر عالم اسلام کے خود ساختہ رہنمائوں نے "شیطان بزرگ" کے ہاتھوں پر اعلانیہ بیعت کرلی۔ اس کے بعد بھی اگر مسلمان ان کی حمایت کرتے ہیں اور انہیں اپنا مذہبی پیشوا تسلیم کرتے ہیں تو پھر اس سے زیادہ ذہنی غلامی اور فکری پستی کی مثال اور کیا ہوسکتی ہے۔

امریکی صدر نے دورۂ مشرق وسطیٰ کے وقت نہ تو قیام امن کے لئے کوئی اقدام کیا اور نہ اس خطے کے مفادات کی پرواہ کی۔ مشرق وسطیٰ اس وقت بارود کے ڈھیر پر ہے۔ ہر طرف جنگی صورت حال کارفرما ہے۔ ایسے بدتر حالات میں امریکی صدر عربوں کی عیاشی کا مزہ لینے کے لئے مشرق وسطیٰ کے دورے پر نکلے تھے یا پھر عالم اسلام کو اعلانیہ رسوا کرنے کا ارادہ رکھتے تھے۔ امریکہ اور سعودی عربیہ کے درمیان 142 ارب ڈالر کے دفاعی معاہدوں پر دستخط ہوئے، جو تاریخ کا سب سے بڑا دفاعی معاہدہ کہا جا رہا ہے۔ آخر ان دفاعی معاہدوں کا فائدہ کیا ہے، اگر عالم اسلام کی حرمت اور غیرت کا دفاع نہ کیا جاسکے۔ اس کے علاوہ سعودی عربیہ نے آئندہ دس برسوں کے لئے امریکہ سے ایک کھرب ڈالر پر مشتمل سرمایہ کاری اور تجارتی وعدے کئے ہیں، جنہیں یقیناً پورا کیا جائے گا، کیونکہ یہ معاہدے ہاتھی کے اُن دانتوں کی طرح ہیں، جو صرف دکھانے کے لئے ہوتے ہیں۔

پس پردہ تمام معاہدوں کو امریکہ بذات خود پایۂ تکمیل تک پہنچائے گا، کیونکہ ان ملکوں میں اسی کے آلۂ کار اقتدار پر مسلط ہیں۔ قطر سے 2.1 ٹریلین ڈالر کے اقتصادی معاہدے اس کے علاوہ ہیں۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ استعمار کے لئے مشرق وسطیٰ کتنا اہم ہے۔ اسی بنا پر اسرائیل کے ذریعے پورے مشرق وسطیٰ میں امریکی چودھراہٹ کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ مسلمان جب تک استعمار کی غلامی کرتے رہیں گے، یہ صورتحال ہرگز تبدیل نہیں ہوگی۔ اس کے لئے سب سے پہلے مسلمان ملکوں کے عوام کو اپنے حکمرانوں کی بے دینی اور غلامی کے خلاف کھڑا ہونا ہوگا۔ اقتدار کی تبدیلی کے بغیر مشرق وسطیٰ کے حالات تبدیل نہیں ہوسکتے۔ مسلم حکمرانوں کی بے حسی اور بے حیائی کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ انہوں نے امریکی صدر سے غزہ جنگ بندی پر کوئی بات نہیں کی۔ کیا اس وقت مشرق وسطیٰ میں غزہ سے زیادہ اہم اور ضروری کوئی دوسرا موضوع ہے۔؟

اگر اتنے مسلم ممالک مل کر ایک اسرائیل کو دہشت گردی سے باز نہیں رکھ پا رہے ہیں تو اربوں ڈالر کے دفاعی معاہدوں کا فائدہ کیا ہے۔؟ استعمار کل ان پر بھی کسی بڑی طاقت کو مسلط کر دے گا اور ان کے دفاعی معاہدے دھرے رہ جائیں گے۔ کیا عرب حکمران غزہ کی موجودہ صورتحال سے بے خبر ہیں۔ کیا انہیں علم نہیں کہ غزہ میں بھکمری کا سایہ پھیلتا جا رہا ہے۔ انہیں ٹرمپ سے اس موضوع پر بات کرکے رفح کراسنگ کو انسانی امداد کے لئے کھلوانا چاہیئے تھا۔ وہ عرب ممالک جو ہمیشہ عالمی طاقتوں اور مزاحمتی قوتوں کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کرتے آئے ہیں، اُنہیں آگے آکر اس پر بات کرنی چاہیئے تھی، مگر ایسا نہیں ہوا۔ تمام عرب حکمران ٹرمپ کی خوشامد میں لگے ہوئے تھے اور انہیں عالم اسلام کا مسیحا ثابت کرنے کی کوشش کی جا رہی تھی۔ ان سے زیادہ موثر دبائو تو غیر مسلم ملکوں نے بنایا ہے، جس میں بعض اسرائیل کے حلیف ملک بھی شامل ہیں۔

غزہ میں جنگ بندی کے سلسلے میں سب سے موثر آواز اسرائیل کے عوام کی طرف سے اٹھنی چاہیئے۔ جب تک اسرائیلی عوام نتن یاہو کے خلاف متحد نہیں ہوں گے، امن قائم نہیں ہوسکتا۔ انہیں یہ یاد رکھنا چاہیئے کہ غزہ کی نسل نو کبھی اسرائیل کے جرائم کو معاف نہیں کرے گی۔ کیا اسرائیل حماس کو ختم کرکے، یا انہیں خود سپردگی پر مجبور کرکے، اپنے خلاف نئی نسل کے غصے کو دبا پائے گا۔؟ہرگز نہیں! اگر اسرائیل حماس کو ختم یا انہیں خود سپردگی پر مجبور کرنے میں کامیاب ہو بھی جاتا ہے، تب بھی وہ نئی نسل میں پنپتی ہوئی مزاحمت اور بغاوت کی چنگاریوں کو شعلہ بننے سے روک نہیں سکتا۔ لہذا اسرائیلی عوام کو اپنے حکمرانوں کے جنگی جنون کے خلاف متحد ہوکر سڑکوں پر اترنا ہوگا۔ نتن یاہو کو اقتدار سے بے دخل کرکے اس کا احتساب کرنا ہوگا۔ ورنہ اسرائیل کبھی یہودیوں لئے محفوظ پناہ گاہ نہیں بن پائے گا۔ آئندہ بھی سات اکتوبر طوفان الاقصیٰ جیسے حملوں کے لئے اسرائیل کو تیار رہنا ہوگا۔ کیونکہ ظالمانہ نسل کشی مزاحمت اور بغاوت کو پنپنے سے نہیں روک سکتی۔

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: دفاعی معاہدوں اسرائیل کے امریکی صدر عالم اسلام اسرائیل کو جا رہا ہے کے دفاعی کے خلاف ڈالر کے اور ان پر بات کے لئے ا نہیں غزہ کی کے بعد

پڑھیں:

نئی امریکی ویزا پالیسی پاکستانی طلبہ کے لیے مشکلات کا سبب بن سکتی ہے

امریکہ نے بین الاقوامی طلبہ کے لیے ویزا قوانین میں اہم تبدیلیوں کی تجویز پیش کی ہے، جس کے نتیجے میں پاکستانی طلبہ سمیت دنیا بھر سے امریکہ میں تعلیم حاصل کرنے کے خواہشمند طلبہ متاثر ہو سکتے ہیں۔ امریکی حکام کے مطابق ان اقدامات کا مقصد ویزا نظام کو مزید مؤثر بنانا، امیگریشن قوانین پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنانا اور ویزا کے ممکنہ غلط استعمال کی روک تھام کرنا ہے۔

نئی ویزا پالیسی میں کیا تبدیلیاں ہوں گی؟

نئی تجویز کے مطابق بین الاقوامی طلبہ کو پہلے کی طرح اپنے پورے تعلیمی پروگرام کی مدت کے بجائے محدود مدت کے لیے امریکہ میں قیام کی اجازت دی جائے گی۔ زیادہ تر طلبہ کے لیے یہ مدت چار سال ہوگی، جبکہ اگر کسی طالب علم کا تعلیمی یا تحقیقی پروگرام اس سے زیادہ عرصہ لیتا ہے تو اسے امریکہ میں مزید قیام کے لیے الگ سے توسیع کی درخواست دینا ہوگی۔ اس کے علاوہ تعلیم مکمل ہونے کے بعد امریکہ چھوڑنے کے لیے دی جانے والی رعایتی مدت کو بھی کم کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جس کے باعث طلبہ کو اپنی آئندہ منصوبہ بندی پہلے سے زیادہ احتیاط کے ساتھ کرنا ہوگی۔

پاکستانی طلبہ پر ممکنہ اثرات

ہر سال بڑی تعداد میں پاکستانی طلبہ اعلیٰ تعلیم کے لیے امریکہ کا رخ کرتے ہیں، خصوصاً ماسٹرز، پی ایچ ڈی اور تحقیقی پروگراموں میں داخلہ لینے والے طلبہ۔ نئی پالیسی نافذ ہونے کی صورت میں ایسے طلبہ کو اپنی تعلیم مکمل کرنے کے دوران اضافی ویزا کارروائی، مزید دستاویزات اور ممکنہ سیکیورٹی جانچ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس صورتحال کے باعث بعض طلبہ امریکہ کے بجائے دیگر ممالک میں تعلیم حاصل کرنے کو ترجیح دے سکتے ہیں۔

امریکی حکومت کا مؤقف

امریکی محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کا کہنا ہے کہ ان تبدیلیوں کا مقصد قومی سلامتی کو مضبوط بنانا، ویزا نظام میں شفافیت پیدا کرنا اور ایسے افراد کی مؤثر نگرانی کرنا ہے جو طویل عرصے تک امریکہ میں قیام کرتے ہیں۔ حکام کے مطابق نئی پالیسی ویزا اوور اسٹے اور دیگر بے ضابطگیوں کی روک تھام میں مددگار ثابت ہوگی۔

تعلیمی اداروں کے تحفظات دوسری جانب کئی امریکی جامعات اور تعلیمی ماہرین نے مجوزہ تبدیلیوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کے مطابق اگر طلبہ کو بار بار ویزا کی تجدید یا مدت میں توسیع کے مراحل سے گزرنا پڑا تو اس سے نہ صرف غیر ملکی طلبہ کے لیے مشکلات بڑھیں گی بلکہ امریکی جامعات کی عالمی سطح پر کشش بھی متاثر ہو سکتی ہے۔ خاص طور پر طویل المدتی تحقیقی پروگراموں میں داخل طلبہ کے لیے یہ قوانین اضافی مشکلات پیدا کرسکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد، لاہور اور کراچی میں امریکی ویزا سروس عارضی طور پر معطل

لاہور کے 22 سالہ عاصم علی، جو ایک طویل عرصے سے امریکہ سے ماسٹرز کرنے کا خواب دیکھ رہے ہیں، اس مجوزہ پالیسی کو اپنے مستقبل کے لیے ایک بڑا دھچکا سمجھتے ہیں۔ عاصم کا کہنا ہے کہ ہم جیسے متوسط طبقے کے طلبہ کے لیے امریکہ میں تعلیم حاصل کرنے کا فیصلہ ہی ایک بہت بڑا مالیاتی جوا ہوتا ہے، جہاں بینک اسٹیٹمنٹ کا بندوبست کرنے سے لے کر مہنگی فیسوں کی ادائیگی تک، سب کچھ داؤ پر لگا ہوتا ہے۔

ان کے مطابق، زمینی حقیقت یہ ہے کہ اگر چار سال بعد دوبارہ ویزا کی تجدید کا قانون لاگو ہوتا ہے، تو طلبہ پر ہر وقت ویزا ریجیکٹ ہونے اور لاکھوں روپے ڈوبنے کا خوف مسلط رہے گا۔ عاصم کا ماننا ہے کہ اگر امریکہ جا کر بھی مستقبل غیر یقینی کا شکار رہنا ہے، تو پاکستانی طلبہ کے لیے کینیڈا یا جرمنی جیسے ممالک اب زیادہ بہتر اور محفوظ آپشن بن چکے ہیں۔

راولپنڈی سے تعلق رکھنے والی ڈاکٹر سمیرا ناز، جو بائیوٹیکنالوجی میں پی ایچ ڈی کے لیے امریکی یونیورسٹی میں داخلے کی خواہشمند ہیں، اس پالیسی کو خاص طور پر تحقیقی طلبہ کے لیے ناانصافی قرار دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ سائنس کے شعبوں میں پی ایچ ڈی اور ریسرچ پروجیکٹس اکثر چار سال سے زیادہ کا عرصہ لے لیتے ہیں اور لیب کے کام کی نوعیت ایسی ہوتی ہے جس کی مدت کا پہلے سے سو فیصد تعین ممکن نہیں ہوتا۔

یہ بھی پڑھیں: امریکی ویزا منسوخی میں 150 فیصد اضافہ، ٹرمپ انتظامیہ کا ریکارڈ دعویٰ

سمیرا کہتی ہیں کہ پاکستانی طلبہ کو پہلے ہی انتظامی کارروائی اور سخت سیکیورٹی اسکریننگ کی وجہ سے مہینوں انتظار کرنا پڑتا ہے۔ اب اگر تعلیم کے دوران بار بار اسی ذہنی اذیت اور کاغذی کارروائی سے گزرنا پڑا، تو کسی بھی طالب علم کے لیے یکسوئی سے ریسرچ کرنا ناممکن ہو جائے گا، جس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ امریکہ اب غیر ملکی ٹیلنٹ کا خیرمقدم کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتا۔

امریکی یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی کے طالب علم پرویز خان کا کہنا ہے کہ امریکی ویزا پالیسی میں حالیہ تبدیلیاں ان جیسے محققین کے لیے شدید ذہنی دباؤ اور غیر یقینی کا باعث بنتی ہیں۔ پی ایچ ڈی چونکہ ایک طویل المدتی تحقیقی سفر ہے، اس لیے محدود مدت کے ویزا کی پالیسی اور بار بار ویزا تجدید کے مراحل ان کی تعلیمی اور تحقیقی ٹائم لائنز کو بری طرح متاثر کریں گے۔ اب امریکی جامعات بھی طلبہ کی تحقیقی صلاحیت کے بجائے ویزا اسٹیٹس اور سخت امیگریشن ڈیڈ لائنز کو ترجیح دینے پر مجبور ہو گئی ہیں، جس سے علمی کام میں رکاوٹیں پیدا ہو رہی ہیں۔

تاہم، پرویز خان کا ماننا ہے کہ اس صورتحال کی ایک وجہ خود پاکستانی طلبہ کی جانب سے اکیڈمک اور امیگریشن قوانین سے لاپروائی بھی ہے۔ بہت سے طلبہ امریکی تعلیمی نظام کی حساسیت کو سمجھے بغیر سرقہ بازی یا چیٹنگ جیسی غلطیاں کر بیٹھتے ہیں، جس سے نہ صرف ان کا تعلیمی کیریئر ختم ہوتا ہے بلکہ امیگریشن ریکارڈ پر منفی اثر پڑتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: امریکا کی نئی ویزا پالیسی: کیا اب ذیابیطس اور موٹاپے کے شکار افراد کو امریکی ویزا نہیں ملے گا؟

اس کے علاوہ، ورک پرمٹ کے قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کیمپس سے باہر غیر قانونی کام کرنا، یونیورسٹی کی جانب سے مطلوبہ فل ٹائم انرولمنٹ برقرار نہ رکھنا، یا محض قیام کو طول دینے کے لیے بلاوجہ اپنے تحقیقی موضوعات کو تبدیل کرنا ایسے عوامل ہیں جو امریکی حکام کے نزدیک شک کا باعث بنتے ہیں۔ پرویز کا کہنا ہے کہ پی ایچ ڈی کے طلبہ کو ان تکنیکی اور قانونی معاملات میں انتہائی محتاط رہنا ہوگا، کیونکہ قوانین سے معمولی سی لاپروائی بھی اب ان کے مستقبل کو خطرے میں ڈالنے کے لیے کافی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ نئی ویزا پالیسی نافذ ہو جاتی ہے تو امریکہ میں تعلیم حاصل کرنے کے خواہشمند پاکستانی طلبہ کو پہلے سے زیادہ محتاط منصوبہ بندی، مکمل دستاویزات کی تیاری اور ویزا قوانین پر سختی سے عمل کرنا ہوگا۔ اگرچہ اس پالیسی کا مقصد ویزا نظام کو مزید مؤثر بنانا ہے، تاہم اس کے اثرات بین الاقوامی طلبہ، بالخصوص پاکستانی طلبہ، پر نمایاں طور پر محسوس کیے جا سکتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

we news امریکا پاکستان پاکستانی طلبا نئی پالیسی ویزا

متعلقہ مضامین

  • نئی امریکی ویزا پالیسی پاکستانی طلبہ کے لیے مشکلات کا سبب بن سکتی ہے
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پارٹی‘ مرکزی مسلم لیگ‘ جموں کشمیر یونائیٹڈ موومنٹ کا اتحاد 
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • پاکستان کے روشن مستقبل کیلئے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم