اسرائیل کا غزہ میں اسکول پر فضائی حملہ، 25 فلسطینی شہید، درجنوں زخمی
اشاعت کی تاریخ: 26th, May 2025 GMT
غرہ(نیوز ڈیسک)غزہ کے اسکول پر اسرائیل نے رات گئے فضائی حملہ کیا جس کے نتیجے میں 25 فلسطینی شہید اور درجنوں زخمی ہوگئے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اتوار کو اسرائیل کی جانب سے غزہ کے فاہمی الجرجاوی اسکول جس میں بے گھرافرادنے پناہ لے رکھی تھی، پر بمباری کے نتیجے میں شدید آگ بھڑک اٹھی جس کے نتیجے میں شہادتیں ہوئیں۔
سول ڈیفنس کی ٹیم اب بھی اسکول کے اندر موجود ہے، حملے میں 25 فلسطینیوں کے شہید ہونے کی اطلاعات ہیں۔
سول ڈیفنس کے حکام کے مطابق اسکول کا تقریباً آدھا حصہ تباہ ہو گیا اور بمباری نے وسیع پیمانے پر تباہی مچائی ہے۔ابھی بھی کئی افراد ملبے تلے تبے ہوئے ہیں جن کو نکالنے کیلئے امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔
غزہ کے حکام نے عالمی برادری سے اسرائیلی جنگی جرائم رُکوانے کا مطالبہ کیا ہے۔
دوسری جانب یمن کے حوثیوں نے اسرائیل کے مرکزی بین گوریون انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر میزائل حملے کا دعویٰ کیا ہے۔
اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے میزائل کو ہوا میں ہی تباہ کر دیا۔
ملک کے اکثر علاقوں میں آج موسم گرم اور خشک رہنے کا امکان
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
پڑھیں:
ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین تین بڑے شہروں ایران، قم اور مشہد میں نماز جنازہ کے بعد مشہد میں امام رضا کے مزار میں ہوگی، جس کے لیے حکام کی جانب سے تیاریاں شروع کی گئی ہیں۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ایران کے دارالحکومت تہران کے سماجی و ثقافتی امور کے نائب محمد امین توکلی زادہ نے بتایا کہ شہید سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ کی تدفین کے لیے تیاریاں جاری ہیں اور صرف دارالحکومت تہران میں ڈیڑھ سےدو کروڑ (15 سے 20 ملین) لوگوں کے لیے تیاریاں جاری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم دنیا کے انتہائی استکبار مخالف رہنما، امریکا اور اسرائیل کے خلاف جنگ کے عظیم کمانڈر اور ایران کے عظیم قابل تقلید رہنما کے جنازے میں شریک ہو رہے ہیں۔
امین توکلی زادہ نے کہا کہ مختلف صوبوں کی جانب سے جنازے کی میزبانی کے لیے درخواستیں کی گئی ہیں اور تدفین ممکنہ طور پر ذوالحج کے اختتام اور محرم کے شروع میں ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ تہران میں نماز جنازے کا پروگرام تقریباً 24 گھنٹوں تک جاری رہے گا، ہم شیعہ مسلمانوں کا ایک بہت بڑا اجتماع دیکھیں گے اور یہاں تک کہ تمام مسلمانوں کا ایک عظیم اجتماع ہوگا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی نماز جنازے میں ہمسایہ ممالک بشمول پاکستان، افغانستان، بھارت، بنگلہ دیش اور کشمیر سے بڑی تعداد میں سوگواروں کی شرکت کا امکان ہے۔
یاد رہے کہ ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے حملے میں شہید ہوگئے تھے جب ایران پر اچانک حملہ کیا گیا تھا اور بم باری کے نتیجے میں آیت اللہ علی خامنہ ای کے علاوہ ان کے خاندان کے چند انتہائی قریبی ارکان سمیت پاسداران انقلاب کے اعلیٰ کمانڈرز بھی شہید ہوگئے تھے۔
امریکا اور اسرائیل کے اس حملے میں مناب میں لڑکیوں کے ایک اسکول پربھی بم باری کی گئی تھی، جس کے نتیجے میں اسکول کی بچیوں سمیت 165 افراد شہید ہوگئے تھے، جبکہ ایران نے جواب میں اسرائیل اور خطے کے ممالک میں قائم امریکی اڈوں پر حملے شروع کیے تھے۔
پاکستان کی ثالثی میں اپریل میں امریکا اور ایران نے جنگ بندی پر اتفاق کیا اور دونوں اطراف سے حملے روک دیے گئے تاہم ایران نے آبنائے ہرمز کا کنٹرول اپنے پاس رکھا جبکہ امریکا نے ناکہ بندی کی جو تاحال جاری ہے لیکن مخصوص جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔