یہودی فوج کے ہاتھوں 331 مسلمان فلسطین میں قتل
اشاعت کی تاریخ: 22nd, July 2025 GMT
غزہ سٹی سمیت کئی علاقوں میں شدید بمباری کے نتیجے میں نہتے ،بھوکوں پر حملہ
شہادتوں میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے ، ہسپتالوں میں گنجائش ختم ہوگئی ،رپورٹ
غزہ میں اسرائیلی فضائی اور زمینی حملوں کے نتیجے میں 18 جولائی شام سے 20 جولائی دوپہر تک331 مسلمان فلسطین میں شہید کیے گئے ۔مختلف ذرائع ابلاغ کے مطابق یہ شہادتیں رفح، خان یونس، دیر البلح اور غزہ سٹی سمیت کئی علاقوں میں کی گئی شدید بمباری اور توپ خانے کی گولہ باری کے نتیجے میں ہوئیں۔جمعہ کی شام سے ہفتہ کی صبح تک کم از کم 306 فلسطینی شہید ہوئے تھے، جن میں بڑی تعداد بچوں، خواتین اور امدادی سامان لینے والے شہریوں کی تھی۔ اتوار 20 جولائی کی دوپہر تک مزید کم از کم 25 شہادتیں ریکارڈ کی گئیں، جن میں 19 افراد امدادی اشیا کی تقسیم کے دوران اسرائیلی حملے کا نشانہ بنے۔فلسطینی وزارت صحت نے تصدیق کی ہے کہ شہادتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور اسپتالوں کی گنجائش ختم ہوتی جا رہی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
پڑھیں:
شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
ایرانی میڈیا میں شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین سے متعلق دعؤوں کے حوالے سے نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں، جبکہ ایرانی حکام کی جانب سے مبینہ طور پر تدفین کے انتظامات کے حوالے سے تیاریوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایرانی خبررساں ایجنسی کے مطابق تہران کے نائب میئر برائے سماجی و ثقافتی امور محمد امین توکلی زادہ نے کہا ہے کہ تدفین سے قبل 3 روزہ عوامی تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا، جن کے دوران عوام کو عظیم شہید راہنما کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ محمد امین توکلی زادہ کے مطابق عوامی تقریبات کے اختتام پر نمازِ جنازہ ادا کی جائے گی، جس کے بعد جلوس کا آغاز ہوگا، تہران میں یہ جلوس کم از کم 24 گھنٹے تک جاری رہ سکتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بعد ازاں تقریبات ایران کے اہم مذہبی مراکز قم اور مشہد میں بھی جاری رہیں گی، شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی خواہشات کے مطابق تدفین مشہد میں روضۂ امام رضاؑ کے قریب کیے جانے کا امکان ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق یہ تقریب ملک کی جدید تاریخ کے بڑے عوامی اجتماعات میں شمار ہو سکتی ہے، تہران میں انتظامات اس انداز سے کیے جا رہے ہیں کہ ایک کروڑ 50 لاکھ سے 2 کروڑ افراد تک ان تقریبات میں شرکت کر سکیں۔ ان کے مطابق انتظامات کی مجموعی نگرانی پاسدارانِ انقلاب کریں گے جبکہ بلدیاتی حکام اور دیگر ریاستی ادارے لاجسٹک اور عوامی سہولیات کی فراہمی میں معاونت کریں گے۔ تاہم ان دعؤوں اور تفصیلات کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔