اسلام ٹائمز: ٹرمپ کا ایک چہرہ یہ بھی ہے کہ وہ بار بار ایران سے مذاکرات کی بات کرتا ہے اور کل ہی بیان دیا کہ وہ کسی مناسب وقت پر ایران سے پابندیاں ہٹانا چاہتا ہے۔ ٹرمپ تو امریکہ میں بھی قابل اعتبار نہیں ہے، اس کی جنگ کی بات پر پریشان نہیں ہونا چاہیئے اور امن کی پیشکش پر خوش نہیں ہونا چاہیے۔ ویسے امریکہ جیسے بظاہر بڑے ملک کے لیے کتنی شرمناک بات ہے کہ دنیا میں اس کے صدر کے بارے میں یہ تاثر ہے۔ دوسری جانب اسرائیلی فوج نے اعلان کیا ہے کہ منگل کو شمالی غزہ میں لڑائی کے دوران اس کے پانچ فوجی ہلاک ہوگئے۔ جی اور ایک اسرائیلی فوجیوں کو قید کرنے کی بڑی کارروائی بظاہر ناکام بھی ہوئی ہے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ وہ اصل کام جاری ہے جس کی زبان اسرائیل اور امریکہ کو سمجھ آتی ہے۔ تحریر: ڈاکٹر ندیم عباس

مشرق وسطیٰ میں بڑی تیزی سے حالات تبدیل ہو رہے ہیں۔ جنگ کے بارے میں تو ویسے ہی کہا جاتا ہے کہ ایک جھولے کی طرح ہے، جس میں کبھی ایک پلڑا اوپر چلا جاتا ہے اور کبھی دوسرا پلڑا بلند ہو جاتا ہے۔ امریکی اور اسرائیلی ہمیشہ اس وقت جنگ شروع کرتے ہیں، جب انہیں یقین ہوتا ہے کہ ان کا نقصان برائے نام ہوگا اور وہ جنگ جیت جائیں گے۔ پہلی بار ایسا ہوا کہ اسرائیلی پلاننگ بری طرح ناکام ہوئی اور پورا اسرائیل حملوں کی زد پر تھا۔ اسلامی جمہوریہ ایران نے پہلے بار جنگ کی گرمی کو اسرائیلیوں کے گھروں تک پہنچایا۔ اس سے پہلے تو اسرائیلی شہری دوربینیں لے کر غزہ پر ہوتی بمباری کو بلند مقامات سے انجوائے کرتے تھے۔ انہیں معصوموں کی آہ و بکا سے سکون ملتا تھا، یہ لاشوں کو دیکھ کر انجوائے کرتے تھے اور بھوک و قحط مسلط کرکے اسے اپنے دفاع کا نام دیتے تھے۔ سکول، عبادتگاہیں، ہسپتال اور امدادی مراکز پر حملے کیے جاتے تھے اور اس پر شرمندہ بھی نہیں ہوا جاتا تھا۔

امریکی اسلحہ نے عصر حاضر کا سب سے بڑا قتل عام  ممکن بنایا۔ جب ایرانی میزائل اسرائیل کی ملٹری عمارات کو نشانہ بنانے لگے تو آہ بکا شروع کر دی کہ سویلین پر حملے ہو رہے ہیں۔ ظلم، دہرا معیار اور مغربی میڈیا کی انسانیت دیشمنی دیکھیے کہ اسرائیل کے فوجی اہداف کے ساتھ موجود کچھ سول عمارتوں کے شیشے ٹوٹ جانے پر واویلا کیا جا رہا ہے، مگر یہی میڈیا ہسپتالوں میں سینکڑوں بچوں کی شہادت پر ٹس سے مس نہیں ہوتا۔ اسرائیلی حملوں میں ایک ہزار کے قریب ایرانی شہید ہوئے، جس میں بڑی تعداد میں بچے اور خواتین شامل تھیں۔ ان حملوں پر کوئی سوال نہیں اٹھایا جاتا، مگر اسرائیل کے ان کے بقول تیس چالیس لوگ مرے، ان کو اتنا ہائی لائیٹ کیا جاتا ہے کہ جیسے بہت بڑا قتل عام ہو۔ یہ دہرا معیار اور یہ منافقت مغرب کے اصل چہرے سے نقاب ہٹا رہی ہے۔

اسرائیلی وزیراعظم تمام تر قتل عام کے باوجود نہ غزہ سے قیدی چھڑا سکا اور نہ ہی مزاحمت کو ختم کرسکا ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے میزائلوں نے اس کی رہی سہی کسر نکال دی ہے۔ دونوں محاذوں پر شکست کے بعد اب اسرائیلی وزیراعظم نے ٹرمپ سے کھانے پر اور اس کے بعد بھی ملاقات کی ہے۔ ان ملاقاتوں میں ماہرین کے مطابق تین بڑے مسئلے  زیر غور آئے ہوں گے۔ پہلا، غزہ میں جنگ کا خاتمہ دوسرا، ایران کا معاملہ اور تیسرا، نام نہاد ابراہیم اکارڈ کا مسئلہ۔ اگرچہ یہ تینوں موضوعات الگ الگ ہیں، لیکن آپس میں کسی نہ کسی طرح جڑے ہوئے ہیں۔ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم کی اعلانیہ پالیسی ہے کہ غزہ سے فلسطینیوں کو نکال دیا جائے اور یہ علاقہ پہلے امریکہ اور پھر بذریعہ امریکہ اسرائیل کے حوالے کر دیا جائے۔ غزہ کی مزاحمت نے ان کے منصوبوں پر پانی پھیر دیا ہے۔

دو سال ہونے کو ہیں، مگر یہ اپنے انسانیت دشمن منصوبوں میں کامیاب نہیں ہوئے۔ ان کی سب سے بڑی کامیابی شام میں اسرائیل و امریکہ نواز حکومت کا قیام ہے۔ کل ملا کر انہیں یہی بچا ہے، یہ کب تک ایسا ہی رہتا ہے، یہ وقت بتائے گا۔ ابھی تک جولانی حکومت امریکہ اور اسرائیل کی توقع سے زیادہ ان کی خدمت گزار واقع ہوئی ہے۔ اس وقت سب سے بڑا خطرہ یہ ہے کہ فلسطینیوں کو غزہ سے بے دخل کرنے کے منصوبے سے ہے، جس  کا آغاز کیا جائے گا۔ اس منصوبے کو بڑے خوشنما نعرے کا لباس پہنایا جائے گا اور اصل مقصد یہ ہوگا کہ کسی نا کسی طرح فلسطینیوں کو غزہ سے نکالا جائے۔ اس کے کچھ خدوخال نظر آنے لگے ہیں۔ اسرائیلی وزیر دفاع کا کہنا ہے کہ انھوں نے اپنی فوج کو ہدایت کی ہے کہ وہ غزہ سے تمام فلسطینیوں کو علاقے کے جنوب میں واقع ایک کیمپ میں منتقل کرنے کا منصوبہ تیار کریں۔ اس کیمپ سے ان کی مراد رفع کراسنگ کے پاس مصر کی سرحد پر سارے اہل غزہ کو جمع کرنا ہے۔

ابھی دنیا کو یہ دکھایا جائے گا کہ ہم پورے علاقے سے دہشتگروں کو ختم کریں گے پھر تعمیر نو کر کے لوگوں کو گھروں میں بسائیں گے۔یہ سب ڈرامہ اور فراڈ ہو گا۔ یہ اسرائیل کی تاریخ ہے کہ اس نے جب بھی کسی گاوں یا شہر سے فلسطینیوں کو نکالا ہے پھر کبھی ان کی واپسی کے حق کو تسلیم نہیں کیا۔ آپ اردن، شام، لبنان اور دنیا بھر میں موجود فلسطینی مہاجرین کو دیکھ لیں۔ آج اسرائیل کسی بھی صورت میں ان کے گھر واپسی کے حق کو تسلیم نہیں کرتا۔ انسانی حقوق کے کچھ انسانیت پسند اس پر احتجاج کر رہے ہیں۔ مائیکل سفرڈ کے مطابق یہ غزہ کی پٹی کے جنوبی سرے پر آبادی کی منتقلی کے بارے میں ہے، تاکہ پٹی سے باہر جلاوطنی کے لیے حالات سازگار کیے جا سکیں۔ انہوں نے اس اسرائیلی اعلان کی مذمت کرتے ہوئے اسے انسانیت کے خلاف ایک جرم قرار دیا ہے۔

اس سے قبل اقوام متحدہ نے بھی متنبہ کیا تھا کہ مقبوضہ علاقے کی شہری آبادی کی ملک بدری یا جبری منتقلی بین الاقوامی انسانی قوانین کے تحت سختی سے ممنوع ہے اور نسل کُشی کے مترادف ہے۔ نیتن یاہو اور ٹرمپ کی ملاقاتیں دراصل خطے میں تبدیل ہوتی دفاعی صورتحال میں اسرائیل کے کردار کو بچانا ہے۔ اس کو سمجھنا مشکل نہیں اگر امریکہ اسرائیل کی مدد کو نہ آتا تو اسرائیل کتنے دن سروائیو کرسکتا تھا؟ جس طرح سے اسرائیلی ملک چھوڑ کر بھاگ رہے تھے، یوں لگتا تھا کہ اسرائیل ویسے ہی خالی ہو جانا ہے۔ اسرائیل کو خطے کے ایجنٹ ممالک سے تمام تر مدد کے باوجود اسرائیل کی ساخت برباد ہو گئی ہے۔اب کوئی بڑی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔ پہلے کے تمام دفاعی نظام تو ناکام ہوچکے ہیں اور اس سے بڑھ کر امریکہ کے پاس بھی کچھ موجود نہیں، جس سے وہ اسرائیل کی مدد کرے۔

ٹرمپ کا ایک چہرہ یہ بھی ہے کہ وہ بار بار ایران سے مذاکرات کی بات کرتا ہے اور کل ہی بیان دیا کہ وہ کسی مناسب وقت پر ایران سے پابندیاں ہٹانا چاہتا ہے۔ ٹرمپ تو امریکہ میں بھی قابل اعتبار نہیں ہے، اس کی جنگ کی بات پر پریشان نہیں ہونا چاہیئے اور امن کی پیشکش پر خوش نہیں ہونا چاہیے۔ ویسے امریکہ جیسے بظاہر بڑے ملک کے لیے کتنی شرمناک بات ہے کہ دنیا میں اس کے صدر کے بارے میں یہ تاثر ہے۔ دوسری جانب اسرائیلی فوج نے اعلان کیا ہے کہ منگل کو شمالی غزہ میں لڑائی کے دوران اس کے پانچ فوجی ہلاک ہوگئے۔ جی اور ایک اسرائیلی فوجیوں کو قید کرنے کی بڑی کارروائی بظاہر ناکام بھی ہوئی ہے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ وہ اصل کام جاری ہے جس کی زبان اسرائیل اور امریکہ کو سمجھ آتی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: فلسطینیوں کو کے بارے میں اسرائیل کی کہ اسرائیل اسرائیل کے نہیں ہونا ایران سے ہے کہ وہ جاتا ہے کی بات ہے اور اور اس

پڑھیں:

ایران کے ساتھ امریکی امن مذاکرات ، اسرائیل شامل نہیں

حاصل مطالعہ
عبدالرحیم

ٹرمپ نے اسرائیل کو کاک پٹ سے نکال کراکانومی میں بٹھا دیا ہے جس کے اسرائیل اور خاص طور پر وزیر اعظم کیلئے ممکنہ اہم نتائج نکلیں گے۔انہیں اس سال دوبارہ انتخاب کیلئے محنت طلب جنگ کا سامنا ہے۔نتن یاہو نے طویل عرصے سے اسرائیلی ووٹرز سے کہا ہوا ہے کہ وہ ٹرمپ سے سرگوشی کرتا ہے اور صدر کی حمایت برقرارکھنے کی اہلیت رکھتا ہے۔ جنگ کے ابتدائی دنوں میں ٹیلی ویژن پر تقریر میںانہوں نے اپنے آپ کو صدر کا ہم رتبہ قرار دیا اور اسرائیلیوں کو یقین دلایا کہ ان کی ٹرمپ سے تقریباً روزانہ بات چیت ہوتی ہے،خیالات اور مشورہ کا تبادلہ ہوتا ہے اور وہ اکٹھے فیصلہ کرتے ہیں۔
اے آئی اور بے روزگاری
یہ امر واضح ہے کہ اے آئی ہماری روزمرہ کی زندگیوں کی دوبارہ تشکیل کرے گی۔گولڈ مین ساچز کے اقتصادی ماہرین کا اندازہ ہے کہ اگلے عشرے میں اے آئی موجودہ کام کے گھنٹوں کے25 فی صد کو خودکار بنا دے گی۔ وہائٹ کالر جابز میں لوگ مثلاً اکائونٹنٹس ، بینکرز اور وکلاء اپنے بہت سے کام خودکار پائیںگے،اسٹین فورڈ کے ایک جائزہ کے مطابق سافٹ ویئر انجینئرنگ ،کسٹمر سروس اورانٹری لیول کے روزگار میں16 فیصد کمی آئی ہے۔اقتصادی ماہرین کا اندازہ ہے کہ ڈیٹا سینٹرز کیلئے بڑھتی ہوئی طلب نے2022 سے 2 لاکھ سے زائد کنسٹرکشن روزگارپیدا کیا ہے۔ تین وجوہ ایسی ہیں کہ عالمی معیشت مشکلات سے جلد بحال ہونے کی قوت رکھے گی اور فعال رہے گی۔ اول، اے آئی25 فیصد روزگار کا خاتمہ نہیں کرے گی۔ اس امر کا امکان ہے کہ لوگ اپنا وقت گزارنے کیلئے زیادہ بار آور طریقے تلاش کر لیں گے۔ پہلے ایک بینکنگ تجزیہ نگار کو ایک اسٹاک کی کارکردگی کا گراف بنانے کیلئے 6 گھنٹے لگتے تھے۔ اسے وال اسٹریٹ جرنل کے گزشتہ شمارے دیکھنا پڑتے تھے ،آج ایک تجزیہ نگاریہ کام سیکنڈوں میں کر سکتا ہے۔
دوم، کسی جاب کی کوئی جگہ لے سکتا ہے۔کا یہ مطلب نہیں کہ ایسا ہوگا۔ ٹیلی ویژن میں لائیو انٹرٹینمنٹ کی طلب ختم نہیں ہوئی،نہ ہی انٹرنیٹ نے رئیل اسٹیٹ ایجنٹس یا فٹنس انسٹرکٹرز کا کام ختم کیا۔
سوئم، امریکی کمپنیاں سالانہ ڈھائی کروڑ اور ساڑھے تین کروڑ جابز ختم اور پیدا کرتی ہیں کیونکہ اے آئی چیزوں کوزیادہ جدت پسند بناتی ہے۔ معیشت اپنے آپ کو ڈھالتی رہتی ہے۔
بھارت کے نوجوانوں کیلئے غیر متوقع آواز
ابھیجیت دیپکے نے ڈیجیٹل گروپ کاکروچ جنتاپارٹی اس لئے قائم کی کہ بھارت کے چیف جسٹس سریا کانٹ نے بے روزگار نوجوانوں کو کاکروچ کہہ کر پکارا تھا۔طنزیہ کاکروچ جنتاپارٹی ان نوجوانوں کو اپیل کرتی ہے جنہیں حکومت نے نظر انداز کیا ہے۔دوتین ہفتے قبل ابھی جیت دیپکے امریکہ میں ان ہزاروں بھارتی طلبہ میں ایک تھا جس کے پاس نئی گریجویٹ ڈگری تھی اور ملازمت کا خواہشمند تھا۔ پھر ایک کاکروچ نے اس کی زندگی بدل دی۔اس کی ابتدا ایک سوال سے ہوئی۔اجیت دیپکے بوسٹن یونیورسٹی میں پبلک ریلیشنز پرگرام کا 30 سالہ گریجویٹ تھا۔اس نے16 مئی کو ایکس پر پوسٹ کیاکہ کیا اگر تمام کاکروچز اکٹھے ہو جائیں؟وہ ایک روز قبل بھارت کے چیف جسٹس سریا کانٹ کے کمنٹس کا جواب دے رہا تھا جنہوں نے نوجوان اور بے روزگار بھارتیوں کو کاکروچز کہا تھا جو ملازمتیں حاصل کرنے میں ناکام رہے اور وہ سوشل میڈیا پرشکایت کرتے ہیں اور سرگرم ارکان بن کر سسٹم پر نکتہ چینی کرتے ہیں۔
ہزاروں جواب سے حوصلہ افزائی پاکر جنہوں نے اس کی کال کی توثیق کی،اجیت دیپکے نے اپنی ویب سائٹ پر اے آئی اور دوستوں کی مددسے دو گھنٹے میںمذاق مذاق میںکروچ جنتاپارٹی کا آغاز کیا۔مقصد نوجوانوں کیلئے تحریک پیدا کرناتھا جنہیںسست اور آن لائن پر اور حال ہی میں کروچز کہا جانے لگا۔ لاکھوں نوجوان اس تحریک میں شامل ہو گئے جو بے عزتی کو فخر میں تبدیل کرنے کے خواہشمند تھے۔ دنوں کے اندرکروچ جنتاپارٹی کے بعض اکائونتس میں بھارت کی سب سے بڑی پارٹیوں سے زیادہ سوشل میڈیا کے فالوئرز ہوگئے۔اجیت دیپکے کے پیغام کا قبول کیا جانا بہت سے نوجوان بھارتیوں کے اداس موڈ کی بڑی کہانی بتاتاہے جو ملازمتیں تلاش کرنی کی جدوجہد کر رہے ہیں باوجودیکہ ملک دنیا کی تیزی سے ترقی کرتی ہوئی معیشت مسلسل4 برسوں سے ترقی کر رہی ہے۔
کاکروچ جنتاپارٹی جس کے10 لاکھ سے زائد رجسٹرڈ ووٹرز ہیں،ان لوگوں کو زبان دینا چاہتی ہے جنہیں کرپٹ حکومت نظر انداز کرتی ہے۔ ویب سائٹ میں کہا گیا ہے کہ ہم تحریری طور پر پوچھتے ہیں کہ پیسہ کہاں گیا؟ابھی جیت دیپکے نے ایک انٹرویو میں کہا کہ موجودہ سیاسی نظام ان کی پرواہ نہیں کرتا،خواہ سرکاری پارٹی ہو یا اپوزیشن۔ابھی جیت دیپکے اس وقت امریکہ میں ہے۔
ایپل کیا کرتا ہے؟
ایپل اپنی پروڈکٹس ڈایزائن کرتا ہے،ان کے چپس تیار کرتا ہے،آپریٹنگ سسٹم بناتا ہے،برانڈنگ،مارکیٹنگ اور ریٹیل ایکسپیرئینس کو کنٹرول کرتا ہے۔لیکن یہ مینوفیکچرکچھ نہیں کرتا ۔آئی فونز اور میک بکس کو ژینگزو میں فوکس کون اور پیگاٹرون شنگھائی میں مینوفیکچر کرتاہے۔ایڈوانسڈ چپسTSMC تائیوان میں تیار کرتی ہے جبکہ جنوبی کوریا میںسام سنگ ڈس پلے کرتا ہے۔ایپل ہر ڈیوائس سے منافع کا80 تا90 فیصد حاصل کرتا ہے جبکہ سپلائرز جوواقعی فزیکل ورک کرتے ہیں، باقی حصے پر لڑتے ہیں۔ یہ طریق کار کارپوریٹ منافع اور شیئر ہولڈرز کی قدر زیادہ سے زیادہ کرتا ہے۔
٭٭٭

متعلقہ مضامین

  • جنگ کا قیدی، اسرائیل امریکہ کو کہاں لے آیا؟
  • ایران کے ساتھ امریکی امن مذاکرات ، اسرائیل شامل نہیں
  • ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی سرزنش، کیا اسرائیل اب امریکا کے لیے بوجھ بنتا جا رہا ہے؟
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا نے پاکستان کو 41 رنز سے شکست دے دی
  • اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان