یمن کے مسلسل اور گہرائی میں نشانے پر لگنے والے میزائل حملوں کے متعلق صیہونی ذمہ داروں کی پریشانی کا ذکر کرتے ہوئے اخبار کا کہنا ہے کہ تمام تر کوششوں کے باوجود ان حملوں کو روکنے میں ناکامی کو شکست سے تعبیر کیا جا رہا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مظلوم فلسطینیوں کی حمایت میں اسرائیل کے خلاف یمن کے حملوں کے متعلق صیہونی اخبار ہارتز لکھا ہے کہ جدید ترین میزائلوں کے حملے اسرائیلی افواج روکنے سے قاصر ہیں۔ یمن کے مسلسل اور گہرائی میں نشانے پر لگنے والے میزائل حملوں کے متعلق صیہونی ذمہ داروں کی پریشانی کا ذکر کرتے ہوئے اخبار کا کہنا ہے کہ تمام تر کوششوں کے باوجود ان حملوں کو روکنے میں ناکامی کو شکست سے تعبیر کیا جا رہا ہے، یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ صیہونی انتظامیہ اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ یہ حملے روکنا اسرائیل کے لئے ممکن نہیں۔ اسی طرح مغربی کنارے، غزہ اور مسجد الاقصیٰ میں ہونیوالے واقعات کیوجہ سے یمنی حملون میں اضافہ ہوتا رہتا ہے، حوثی مجاہدین ایسے دشمن میں تبدیل ہو چکے ہیں جس کا مقابلہ اسرائیل کے لئے مشکل ہے۔ صیہونی اخبار کے مطابق یمنی ہر حملے کے بعد اچھی طرح جائزہ لیتے ہیں اور حملے میں حاصل ہونیوالی کامیابی کی روشنی اگلا حملہ کرتے ہیں، جو پہلے سے زیادہ کارگر اور مہلک ہوتا ہے۔ صیہونی محفلوں میں یہ تسلیم کیا جا رہا ہے کہ غزہ میں جنگ بندی کی وجہ دراصل یمنی میزائل حملے ہیں، جن کی وجہ سے اسرائیل کو مجبور ہو کر جنگ روکنا پڑے گی۔


 

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: جا رہا ہے

پڑھیں:

ایران پر 13 ویں رات فضائی حملوں کے اہداف مکمل کر لیے گئے، سینٹکام

واشنگٹن:

امریکا نے ایران کے خلاف مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے مکمل کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ کارروائی کے دوران ایرانی فوجی تنصیبات، ڈرون مراکز اور ساحلی نگرانی کے نظام کو نشانہ بنایا گیا۔

امریکی سینٹرل کمانڈ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ تازہ کارروائی میں فوجی کمانڈ سینٹرز، ڈرون ذخیرہ گاہیں، مواصلاتی نیٹ ورک، ساحلی نگرانی کے مراکز اور بحری صلاحیتوں سے متعلق اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔

https://t.co/Wtbk84dEsc

— U.S. Central Command (@CENTCOM) July 24, 2026

سینٹکام کے مطابق ان حملوں کا مقصد آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں اور شہری بحری نقل و حمل کو درپیش خطرات میں مزید کمی لانا ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ آبنائے ہرمز بدستور کھلی ہوئی ہے اور تجارتی جہاز امریکی فوج کی معاونت کے ساتھ معمول کے مطابق اس اہم بحری راستے سے گزر رہے ہیں۔

امریکی سینٹرل کمانڈ نے مزید بتایا کہ اس وقت مشرق وسطیٰ کے مختلف علاقوں میں 50 ہزار سے زائد امریکی فوجی اہلکار تعینات ہیں جو خطے میں جاری صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • ایران میں تعمیر نو کی رفتار پر اسرائیل حیران ہے، وال اسٹریٹ جرنل
  • ایرانی حملے میں 10 شدید زخمی فوجیوں کو جرمنی کے ہسپتال منتقل کیا گیا، نیویارک ٹائمز
  • ایران پر 13 ویں رات فضائی حملوں کے اہداف مکمل کر لیے گئے، سینٹکام
  • مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بے قابو، فی بیرل 100 ڈالر سے متجاوز
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم